*گناہ اور لعنت کے اسباب انسان کی دعاؤں کی قبولیت میں بڑی رکاوٹ*
پیر 13 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
لعن (لعنت) شریعت کی ایک نہایت سنجیدہ اصطلاح ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیا جائے۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر ان لوگوں کا ذکر آیا ہے جن پر اللہ کی لعنت ہوئی، جیسے کفار، ظالم اور جھوٹے لوگ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “خبردار! اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر” (ہود: 18)۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی بعض گناہوں پر لعنت فرمائی گئی ہے، جیسے سود، رشوت، دھوکہ دہی اور فطرت کے خلاف اعمال۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لعنت محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک سخت روحانی و اخلاقی وعید ہے۔
جس شخص پر واقعی اللہ کی طرف سے لعنت ہو جائے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ رحمتِ الٰہی سے دوری کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دل سے نیکی کی رغبت کم اور گناہ کی طرف میلان بڑھنے لگتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات دل سخت ہو جاتا ہے اور حق بات قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ قرآن میں بنی اسرائیل کے بارے میں آیا کہ عہد شکنی کے باعث ان پر لعنت کی گئی، جس کا نتیجہ دلوں کی سختی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ کیفیت انسان کے لیے نہایت خطرناک ہے کیونکہ یہی ہدایت سے دوری کی ابتدا ہوتی ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس پر لعنت ہو جائے اس کی دعائیں اور نیک اعمال فوراً قبول ہونا بند ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب و سنت میں اس انداز سے قطعی اور عمومی حکم نہیں آیا کہ ہر ایسے شخص کی ہر دعا اور ہر عمل لازماً رد ہو جاتا ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ گناہ اور لعنت کے اسباب انسان کی دعاؤں کی قبولیت میں بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ احادیث میں آتا ہے کہ حرام کھانے، ظلم کرنے اور نافرمانی میں مبتلا رہنے والا شخص جب دعا کرتا ہے تو اس کی قبولیت میں تاخیر یا رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ لعنت کے اسباب اختیار کرنے سے انسان قبولیتِ دعا اور قبولیتِ عمل کے خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی عوام میں مشہور ہے کہ ایسے شخص کو برائی کی سزا فوراً مل جاتی ہے۔ شریعت کا اصول یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی تنبیہ کے طور پر سزا دے دیتا ہے، لیکن یہ لازمی نہیں؛ کئی مرتبہ مہلت بھی دی جاتی ہے تاکہ بندہ توبہ کر لے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ لعنت کے اسباب اختیار کرنے سے انسان اللہ کی حفاظت اور مدد سے محروم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں مشکلات، بے سکونی اور بے برکتی بڑھ سکتی ہے۔
رزق میں تنگی اور بے برکتی بھی ایسے ہی نتائج میں شامل ہو سکتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ عموماً برکت کو ختم کر دیتے ہیں۔ چنانچہ جس شخص کی زندگی اللہ کی رحمت سے دور ہو جائے، اس کے مال، وقت اور کوششوں میں برکت کم ہو جاتی ہے، خواہ بظاہر وسائل موجود ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی طور پر بھی اس کی عزت متاثر ہوتی ہے، لوگ اس سے دور ہونے لگتے ہیں اور اس کے تعلقات میں خرابی آ سکتی ہے۔
تاہم ایک نہایت اہم بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر لعنت اثر انداز نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی پر لعنت کی جائے اور وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ لعنت واپس کہنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے۔ اس لیے کسی مسلمان پر لعنت کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے اور خود انسان کے لیے وبال بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے مومن کو لعنت کرنے والا بننے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ لعنت اللہ کی رحمت سے محرومی کا نام ہے، اور یہی محرومی انسان کے لیے دنیا و آخرت کے بہت سے نقصانات کا سبب بن سکتی ہے، جیسے دل کی سختی، دعا کی قبولیت میں رکاوٹ، زندگی میں بے برکتی اور آخرت میں عذاب کا خطرہ۔ اس لیے ایک مومن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ لعنت سے بچے، اپنے اعمال کی اصلاح کرے اور دوسروں کے لیے بددعا کے بجائے ہدایت اور بھلائی کی دعا کرے، کیونکہ اسلام کی اصل روح رحمت، اصلاح اور خیر خواہی ہے۔
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں لعنت والے اعمال سے محفوظ فرما۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333