4

سکھر بورڈ کے امتحانات اختتام پذیر، نقل مافیا کے خلاف تاریخی کریک ڈاؤن کامیاب

سکھر بورڈ کے امتحانات اختتام پذیر، نقل مافیا کے خلاف تاریخی کریک ڈاؤن کامیاب
2700 سے زائد نقل کیسز، 98 ان پرسونیشن، 10 سوشل میڈیا گروپس کے ایڈمنز پر ایف آئی آر درج
چیئرمین ڈاکٹر زاہد علی چنڑ، رضوان میمن، غلام مصطفیٰ پیرزادہ اور عبدالغنی مہر خود فیلڈ میں متحرک رہے

سکھر (بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین ۔یوز)ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ سکھر کے زیرِ انتظام منعقد ہونے والے سالانہ امتحانات 2026ء کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئے، جہاں امتحانی نظام کو شفاف، منصفانہ اور نقل سے پاک بنانے کے لیے بورڈ انتظامیہ کی جانب سے غیر معمولی اور تاریخی اقدامات کیے گئے۔ سکھر بورڈ کی تاریخ میں پہلی بار نقل مافیا، جعلی امیدواروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نقل کے منظم نیٹ ورک کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2700 سے زائد نقل کیسز رپورٹ ہوئے، 98 ان پرسونیشن کیسز سامنے آئے جبکہ نقل کے فروغ میں ملوث 10 سوشل میڈیا گروپس کے ایڈمنز کے خلاف ایف آئی آرز درج کر دی گئیں۔چیئرمین سکھر بورڈ ڈاکٹر زاہد علی چنڑ کی قیادت میں امتحانات کے دوران سخت نگرانی کا مؤثر نظام نافذ کیا گیا، جس کے تحت بورڈ کے کنٹرولر امتحانات رضوان میمن، سیکریٹری غلام مصطفیٰ پیرزادہ اور بورڈ رکن عبدالغنی مہر نے بھی خود فیلڈ میں متحرک رہتے ہوئے مختلف امتحانی مراکز کے اچانک دورے کیے اور نگرانی کے عمل کو براہِ راست مانیٹر کیا۔ بورڈ کی اعلیٰ انتظامیہ کی مسلسل موجودگی اور سخت نگرانی کے باعث نقل مافیا کو اس بار کھل کر سرگرم ہونے کا موقع نہ مل سکا۔
ذرائع کے مطابق امتحانات کے دوران سکھر، خیرپور، گھوٹکی، نوشہروفیروز اور دیگر اضلاع میں قائم امتحانی مراکز کی خصوصی نگرانی کی گئی، جہاں مشکوک سرگرمیوں، غیر متعلقہ افراد کی موجودگی اور امتحانی قواعد کی خلاف ورزی پر فوری کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ متعدد مراکز پر چھاپوں کے دوران امیدواروں سے نقل کا مواد برآمد کیا گیا، جبکہ کئی جعلی امیدوار بھی پکڑے گئے جو اصل طلبہ کی جگہ امتحان دینے پہنچے تھے۔ ان تمام واقعات پر بورڈ نے زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے موقع پر ہی کیسز درج کیے۔امتحانات کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نقل کرانے کے رجحان کو بھی ہدف بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم ایسے 10 گروپس کی نشاندہی کی گئی جو امتحانی پرچوں کی آڑ میں طلبہ کو حل شدہ جوابات، گائیڈ لائنز اور دیگر غیر قانونی مواد فراہم کر رہے تھے۔ سکھر بورڈ نے ان گروپس کے ایڈمنز کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرتے ہوئے ایف آئی آرز درج کروا دیں، جسے تعلیمی حلقوں نے ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیا ہے۔چیئرمین سکھر بورڈ ڈاکٹر زاہد علی چنڑ نے امتحانات کے اختتام پر اپنے بیان میں کہا کہ سکھر بورڈ میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اس بار غیر معمولی اقدامات کیے گئے اور الحمدللہ نتائج حوصلہ افزا رہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل ایک ناسور ہے جو نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ کرتا ہے بلکہ طلبہ کی صلاحیتوں کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے، اس لیے نقل کے مکمل خاتمے تک یہ مہم جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سکھر بورڈ کا مقصد صرف امتحانات کا انعقاد نہیں بلکہ ایک ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جہاں محنتی اور قابل طلبہ کو ان کا جائز حق مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ نقل مافیا کے خلاف کارروائی کسی فرد یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ نظام کی اصلاح اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے کی گئی۔کنٹرولر امتحانات رضوان میمن نے کہا کہ امتحانی مراکز کی سخت نگرانی، اچانک دوروں، ویجیلنس ٹیموں کی مؤثر کارکردگی اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے اس سال نقل کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ امتحانات میں بھی اسی سختی اور نگرانی کے عمل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ شفاف امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔تعلیمی ماہرین، اساتذہ، والدین اور سماجی حلقوں نے سکھر بورڈ کی جانب سے نقل مافیا کے خلاف کیے گئے اس تاریخی کریک ڈاؤن کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ طلبہ میں محنت، مقابلے اور میرٹ کا رجحان بھی فروغ پائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سکھر بورڈ کی یہ پالیسی مستقبل میں دیگر تعلیمی بورڈز کے لیے بھی مثال ثابت ہوگی۔امتحانات کے اختتام کے ساتھ ہی سکھر بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ نقل کے خاتمے، امتحانی شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لیے اس کا عزم برقرار رہے گا، اور آئندہ بھی کسی قسم کی بے ضابطگی، جعلسازی یا نقل مافیا کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں