*امتِ مسلمہ کی اخلاقی حالت: ایک جائزہ اور اسباب و حل*
جمعہ 24 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
انسانی تاریخ میں انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد انسان کی اصلاح، ہدایت اور اخلاقی تربیت رہا ہے۔ ہر نبی نے اپنی قوم کو توحید کے ساتھ ساتھ سچائی، امانت اور عدل کی تعلیم دی۔ مگر آج جب ہم اپنی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک تکلیف دہ سوال سامنے آتا ہے:
کیوں وہ امت جس کے نبی کو “صادق و امین” کہا گیا، اخلاقی کمزوریوں کا شکار نظر آتی ہے؟
یہ مضمون اسی سوال کا علمی و دینی جائزہ پیش کرتا ہے۔
1.انبیاء علیہم السلام کا مقصدِ بعثت
تمام انبیاء کی تعلیمات کا خلاصہ یہ تھا کہ انسان اللہ کی بندگی کے ساتھ اعلیٰ اخلاق اپنائے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“لقد أرسلنا رسلنا بالبینات وأنزلنا معهم الکتاب والميزان لیقوم الناس بالقسط”
(الحدید: 25)
ترجمہ: ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف قائم کریں۔
اسی طرح حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
“إنما بُعثتُ لأتمم مكارم الأخلاق”(موطا امام مالک)
ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو مکمل کر دوں۔
2.نبی کریم ﷺ کی بنیادی صفات: صدق اور امانت
نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ کو “صادق” (سچے) اور “امین” (امانت دار) کہا جاتا تھا۔
یہ صفات اسلام کی بنیاد ہیں۔
حدیث:
“لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له(مسند احمد)
ترجمہ: جس میں امانت نہیں، اس کا ایمان نہیں؛ اور جو وعدہ پورا نہیں کرتا، اس کا دین نہیں۔
3.موجودہ زوال: اصل مسئلہ کیا ہے؟
یہ کہنا کہ “اسلام میں خرابی ہے” سراسر غلط ہے۔
اصل مسئلہ مسلمانوں کے عمل میں ہے۔
(1) دین کو صرف شناخت بنا لینا
ہم نے اسلام کو “نام” تک محدود کر دیا ہے، عمل تک نہیں۔ زبان سے کلمہ
مگر عمل میں جھوٹ، دھوکہ، خیانت
قرآن کی تنبیہ:
“یا أیها الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون”
(الصف: 2)
ترجمہ: اے ایمان والو! وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟
(2) عبادات اور معاملات میں فرق کرنا
ہم نماز، روزہ تو ادا کرتے ہیں مگر:
کاروبار میں جھوٹ
لین دین میں دھوکہ
حالانکہ اسلام میں معاملات (dealings) کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔
حدیث:
“التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء” (ترمذی)
ترجمہ: سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔
(3) علم سے دوری اور جہالت
مسلمانوں نے قرآن کو پڑھنا چھوڑ دیا، سمجھنا چھوڑ دیا، عمل کرنا چھوڑ دیا۔
قرآن:
“وقال الرسول يا رب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجورا” (الفرقان: 30)
ترجمہ: رسول کہیں گے: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔
(4) دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت
جب دنیا مقصد بن جائے تو:
جھوٹ آسان ہو جاتا ہے
کرپشن عام ہو جاتی ہے
حدیث:
“حب الدنيا رأس كل خطيئة”
ترجمہ: دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔
(5) اجتماعی نظام کی خرابی
جب معاشرے میں:
عدل نہ ہو
احتساب نہ ہو
قانون کمزور ہو
تو برائیاں پھیلتی ہیں۔
4.کیا سارے مسلمان ایسے ہیں؟
نہیں، یہ عمومی تاثر درست نہیں۔ آج بھی:
سچے لوگ موجود ہیں
امانت دار تاجر موجود ہیں
دیندار افراد موجود ہیں
مگر وہ اکثریت میں نہیں، اس لیے مجموعی تصویر خراب نظر آتی ہے۔
5.حل: اصلاح کا راستہ کیا ہے؟
(1) قرآن کی طرف واپسی
قرآن کو: پڑھا جائے سمجھا جائے اور زندگی میں نافذ کیا جائے
(2) سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنانا
نبی ﷺ کی زندگی صرف عبادات نہیں، بلکہ:
تجارت میں دیانت
دشمنوں کے ساتھ انصاف
وعدوں کی پابندی
(3) ذاتی اصلاح (Self Accountability)
ہر شخص خود سے پوچھے:
کیا میں سچ بولتا ہوں؟
کیا میں امانت دار ہوں؟
(4) اجتماعی اصلاح
انصاف کا نظام
تعلیم کی بہتری
احتساب کا مضبوط نظام
نتیجہ
مسئلہ اسلام میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے عمل میں ہے۔
اگر ہم واقعی حضرت محمد ﷺ کے امتی بننا چاہتے ہیں تو ہمیں:
سچائی اپنانی ہوگی
امانت داری اختیار کرنی ہوگی۔
دین کو مکمل زندگی میں نافذ کرنا ہوگا
تبھی ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
وما علینا الا البلاغ المبین
الدعاَء
یا اللہ تعالی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کی اسوہ حسنہ پر عمل کرنے والا بنا دے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333