*وضو کے نواقض (وہ امور جو وضو کو توڑ دیتے ہیں*
پیر 27 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
وضو کے نواقض (وہ امور جو وضو کو توڑ دیتے ہیں) قرآن، سنتِ رسول ﷺ اور آثارِ صحابہؓ کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ میں اسے جامع مگر مربوط انداز میں پیش کرتا ہوں تاکہ تصویر واضح ہو جائے۔
1 .قرآن مجید کی روشنی میں۔
وضو ٹوٹنے کی اصل بنیاد قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے:
“أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ…”
(سورۃ النساء: 43)
اس آیت سے دو بنیادی نواقص:
1.قضاءِ حاجت (پیشاب، پاخانہ)
2.لَمسِ نساء (عورت کو چھونا) — اس کی تفسیر میں اختلاف ہے:
بعض کے نزدیک: صرف چھونا۔
بعض کے نزدیک: مباشرت (جماع) ہے
وضاحت:
درست بات یہی ہے کہ یہاں جماع یا کم از کم شہوت سے چھونا مراد ہے اگر اسے عام معنی میں لے لیا جائے تو سارے دن ہم تو گھر میں وضو ہی کرتے رہیں گے۔۔
دوسری روایت میں حضرت عمر نے اپنی بیوی کا روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا تھا تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کیا تھا یا رسول اللہ میں تو ہلاک ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم روزے کی حالت میں کلی نہیں کرتے؟
( یعنی کوئی حرج نہیں)
اگر ایسا ہوتا تو آپ ضرور وضاحت فرماتے۔
2.سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں:
نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی احادیث میں وضو توڑنے والے امور کی تفصیل ملتی ہے:
✔️ (1) پیشاب، پاخانہ، ہوا خارج ہونا (صحیح بخاری / صحیح مسلم)
“اللہ نماز قبول نہیں کرتا جب تک وضو نہ کرے اگر ہوا خارج ہو جائے”
اس پر تمام امت کا اتفاق ہے
✔️ (2) نیند (گہری)
حدیث:
“آنکھیں بند ہو جائیں تو وضو لازم ہو جاتا ہے”
گہری نیند میں وضو ٹوٹ جاتا ہے
ہلکی اونگھ (بیٹھے ہوئے) میں اختلاف ہے بلکہ نہیں ٹوٹتا۔
✔️ (3) شرمگاہ کو ہاتھ لگانا
حدیث:
“جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے”
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واضح حدیث ہے کہ شرم گاہ کو بغیر کپڑے کی آڑ کے ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو بھائی ٹوٹ جاتا ہے اس میں منطق نہ لگائیں کیونکہ اس پر ایک آیت بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے مت بڑھو۔
مذید وضاحت:
حضرت عباس غسل کے بعد وضو کرنے لگے تو عبداللہ بن عباس نے اپنے باپ سے پوچھا کہ ابا حضور آپ نے کیا غسل سے قبل وضو نہیں کیا تھا کہ اب وضو کر رہے ہیں تو حضرت عباس نے کہا کہ بیٹا ہو سکتا ہے کہ میرا ہاتھ غسل کے دوران میری شرم گاہ کو لگ گیا ہو۔
آج کے دور میں تو ہم صابن استعمال کرتے ہیں یقینا” شرم گاہ کو ہاتھ لگتا ہے اسی لئے غسل کے آخر میں پھر سے وضو کرنا ضروری ہے۔
✔️ (4) قے (الٹی)
آثار اور بعض احادیث کی بنیاد پر
حنفیہ کے نزدیک زیادہ مقدار میں قے وضو توڑ دیتی ہے
✔️ (5) خون یا پیپ نکلنا
اگر بہہ جائے تو حنفیہ کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے
دیگر فقہاء کے نزدیک نہیں
✔️ (6) بے ہوشی / نشہ
حدیث کے مفہوم:
“جب عقل زائل ہو جائے تو وضو لازم ہے”
اس میں شامل:
بے ہوشی
نشہ
شدید غفلت
✔️ (7) اونٹ کا گوشت کھانا صحیح مسلم
“اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرو”
3۔ آثارِ صحابہؓ
صحابہ کرام جیسے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
وہ بعض امور (مثلاً معمولی خون یا قے) پر وضو کو لازم نہیں سمجھتے تھے لیکن احتیاط کو پسند کرتے تھے
جامع خلاصہ
متفقہ نواقض (سب کے نزدیک)
پیشاب، پاخانہ
ہوا خارج ہونا
جنابت (غسل لازم)
بے ہوشی
نتیجہ (اہم اصول):
جو چیز بدن سے خارج ہو اور نجاست ہو وضو ٹوٹ جاتا ہے
جو چیز عقل کو زائل کرے وضو ٹوٹ جاتا ہے
الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سبھی سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و ٹحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333