3

قوم کا حقیقی ہیرو ، ڈاکٹر محمد قیوم خان خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

قوم کا حقیقی ہیرو ، ڈاکٹر محمد قیوم خان

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

تعلیم کسی بھی قوم کی فکری ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہتری کی بنیاد ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنا لیتی ہیں، وہی اقوام عالمی سطح پر ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ پاکستان خصوصاً پنجاب میں تعلیمی اصلاحات اور انتظامی بہتری کے حوالے سے حالیہ عرصے میں جو پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، وہ قابلِ ذکر ہے۔ انہی پیش رفتوں کے تناظر میں ایک اہم اور حوصلہ افزاء اعتراف سامنے آیا ہے جس نے تعلیمی حلقوں میں مثبت ردعمل کو جنم دیا ہے۔
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو دی گئی اپنی ایک تفصیلی بریفنگ کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لیہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد قیوم خان کو “قوم کا حقیقی ہیرو” قرار دیا۔ یہ بیان نہ صرف ایک فرد کی تعریف ہے بلکہ اس پورے تعلیمی نظام میں کارکردگی، دیانتداری اور اصلاحاتی وژن کے اعتراف کی ایک واضح مثال ہے۔
اجلاس کے دوران وزیرِ تعلیم نے ڈاکٹر محمد قیوم خان کی تعلیمی شعبے میں خدمات کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، انتظامی ڈھانچے کو مؤثر کرنے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، وہ قابلِ تقلید ہیں۔ ان کی قیادت میں ڈی ای اے لیہ نے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری دکھائی بلکہ گورننس کے نظام میں بھی نمایاں شفافیت پیدا کی۔
خصوصاً بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے انٹرویو کے بعد ڈاکٹر محمد قیوم خان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تعلیمی وژن کو مزید سراہا گیا۔ وزیرِ تعلیم کے مطابق ان کی کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد واضح ہو تو تعلیمی نظام میں عملی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر محمد قیوم خان جیسے افسران کسی بھی سرکاری نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف پالیسیوں کو عملی شکل دیتے ہیں بلکہ زمینی سطح پر ان پالیسیوں کے مثبت اثرات بھی یقینی بناتے ہیں۔ ان کی قیادت میں تعلیمی اداروں میں حاضری کے نظام، تدریسی معیار، اساتذہ کی کارکردگی اور انتظامی نظم و ضبط میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
پنجاب کے تعلیمی نظام میں ایسے افسران کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ اصلاحات صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی ممکن ہیں۔ اصل فرق افراد کی نیت، محنت اور وژن سے پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر محمد قیوم خان کا نام اس وقت انہی مثبت تبدیلیوں اور تعلیمی بہتری کی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ ءتعلیم پنجاب کے سرمایہء افتخار ڈاکٹر محمد قیوم خان نے قبل ازیں بطور سی ای او ایجوکیشن خوشاب اور ننکانہ صاحب گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں جنہیں صوبائ سطح پر بھرپور پذیرائ حاصل ہوئ۔
وزیرِ تعلیم کا انہیں “قوم کا حقیقی ہیرو” قرار دینا دراصل اس سوچ کی عکاسی ہے کہ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ ان افراد کی بدولت ترقی کرتی ہیں جو خاموشی سے اپنے فرائض دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف موجودہ نظام کو بہتر بناتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اگر اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ تعلیمی اصلاحات جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کا تعلیمی نظام نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق بھی اپنی پہچان بنا سکے گا۔ ڈاکٹر محمد قیوم خان جیسے افراد اس سفر میں امید کی وہ کرن ہیں جو نظام کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ اعتراف محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں