*بھیک نہیں، باعزت زندگی دیں — معاشرے کی اصلاح کا حقیقی راستہ*
ہفتہ 11 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ہمارے معاشرے میں بھیک مانگنے کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ انسانی عزتِ نفس کو بھی مجروح کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اس مسئلے کا اصل رخ سمجھنے کے بجائے صرف بھکاریوں کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس خرابی کی جڑ بھیک دینے والے لوگ بھی ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پیشہ ور بھکاری معاشرے کا ایک ایسا طبقہ بن چکے ہیں جو نہ محنت کرتا ہے، نہ ہنر سیکھتا ہے اور نہ ہی خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں یہ حوصلہ کون دیتا ہے؟ جواب واضح ہے: ہم خود، جو بلا تحقیق اور بلا ضرورت انہیں دیتے رہتے ہیں۔
*قرآن و سنت کی روشنی میں*
اسلام ہمیں اندھا دھند دینے کا نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ دینے کا حکم دیتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
«“اور اپنے مال اُن لوگوں کو دو جو واقعی ضرورت مند ہوں۔”»
اسی طرح احادیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ:
– بہترین صدقہ وہ ہے جو کسی کو خوددار بنا دے
– اور بدترین حالت یہ ہے کہ انسان بلا ضرورت ہاتھ پھیلائے
*اصل مسئلہ: غلط جگہ خرچ*
ہم روزانہ:
– سڑکوں پر
– بازاروں میں
– ٹریفک سگنلز پر
چند روپے دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نیکی کر لی، حالانکہ حقیقت میں:
– ہم ایک پیشہ ور بھکاری کو مزید مضبوط کر رہے ہوتے ہیں
– اور ایک حقیقی مستحق شخص ہمارے اردگرد بھوکا رہ جاتا ہے
*صحیح طریقہ کیا ہے؟*
ہمیں اپنی سوچ اور طریقہ بدلنا ہوگا:
✔ ایسے لوگوں کو تلاش کریں:
– جو سفید پوش ہیں
– جو مانگ نہیں سکتے
– جو خودداری کی وجہ سے خاموش ہیں
✔ اپنی زکوٰۃ اور صدقات کو:
– بکھیرنے کے بجائے
– منظم اور مؤثر انداز میں خرچ کریں
بہترین حل (عملی منصوبہ):
آپ کا دیا ہوا ایک بڑا قدم کسی کی زندگی بدل سکتا ہے:
– سال بھر کی زکوٰۃ اور صدقات جمع کریں
– کسی ایک مستحق شخص کو:
– چھوٹی دکان لگوا دیں
– ریڑھی یا کاروبار شروع کروا دیں
– کوئی ہنر سکھوا دیں
*اس طرح:*
– ایک بھکاری کم ہوگا
– ایک خوددار انسان پیدا ہوگا
– ایک خاندان ہمیشہ کے لیے سنبھل جائے گا
*حکومتی اور سماجی ذمہ داری*
یہ صرف فرد کا نہیں بلکہ ریاست اور اداروں کا بھی فرض ہے:
✔ حکومت:
– پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف قانون پر عمل کرے
– شہروں میں ان کی آبادکاری روکے
✔ دینی و تبلیغی ادارے:
– صرف نمازیوں تک محدود نہ رہیں
– بلکہ اس طبقے تک پہنچیں جو دین سے دور ہے
– انہیں نماز، روزہ اور بنیادی تعلیم سکھائیں
Sucess story of Sargodha a Zero Budgeting School.
یاد رہے کہ 25 مرد و زن اور بچے بھکاریوں کی ایک جماعت کو میں نے اسی انداز میں NCHD کے پلیٹ فارم سے چھ مہینے کی تعلیم کے بعد انھیں معاشرے کا کار آمد رکن بنایا اور نتیجہ” بھکاریوں کے اس گروپ نے بھیک مانگنا چھوڑ دی اور با عزت روزی کمانے شروع کر دی۔
*ہمارا کردار*
آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
❌ کیا ہم وقتی تسلی کے لیے چند سکے دیتے رہیں گے؟
یا
کیا ہم مستقل حل کی طرف قدم بڑھائیں گے؟
یاد رکھیں:
«“بھیک دینا آسان ہے، مگر کسی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اصل نیکی ہے”»
*اختتامی پیغام*
آئیں! آج سے عہد کریں:
– ہم اندھا دھند بھیک نہیں دیں گے
– ہم مستحق کو تلاش کریں گے
– ہم کسی ایک انسان کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنیں گے
کیونکہ ایک خوددار معاشرہ ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نشہ پلا کے گرانا تو سبھی کو آتا ہے
مزا تو تب ہے کہ گرتے کو سانبھ لے ساقی
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333