15

افسانہ عنوان۔ ہم تجھے یاد بہت کرتے ہیں تحریر،ڈاکٹر پونمُ نورین گوندل لاہور

افسانہ
عنوان۔ ہم تجھے یاد بہت کرتے ہیں
تحریر،ڈاکٹر پونمُ نورین گوندل لاہور
جب کبھی بھی جدید دنیا کے جدید لوگوں نے انسانی جذبات کی شدت کو ماپنے کے آلات ایجاد کر لیے تو مجھے پورا یقین ہے کہ انسان کی ہستی پہ جس جذبے کا بوجھ سب سے زیادہ ہو گا وہ ہو گا یادوں کا بوجھ
یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادیں اور صرف یادیں
انھی یادوں کےُپل صراط پہ قدم رکھتے رکھتے ہمُزندگی کی کٹھنایوں کو کبھی ہنس کر اور کبھی رو کر سہہ جاتے ہیں۔،یادیں بھلے جیسی بھی ہوں ہمارا اثاثہ ہوتی ہیں،لاکھ اچھی بری یادوں کو بھلانا چاہیں بھی تو کام ہمارے بس کا نہیں ،یادوں کا خزینہ وہ واحد خزینہ ہے جسے دفن کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا
غم کی گھاتیں بھی دفن ہو جاتیں
وارداتیں بھی دفن ہو جاتیں
کاش یادوں کے بھی کفن ہوتے
کاش یادیں بھی دفن ہو جاتیں
درد میں کروٹیں بدلتے ہوے
غم کی راتیں بھی دفن ہو جاتیں
کچھ بھی پونم نہ یاد رہ پاتا
ساری باتیں ہی دفن ہو جاتیں
لیکنُ یہ دوسری بے شمار خواہشوں کی طرح ایک خواہش ناتمام ہے فقط۔
میری ان سے ملاقات ایک میلاد کیُ محفل میں ہوی تھی۔بہار کا موسمُ تھا،ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی،ان کا انداز گفتگو مسحور کن اور دھیما تھا جیسے بانسری کیُ کوئ مدھر دھن،باتوں کے دوران دھیمے دھیمےُمسکراتے ہوے ان کیُ مسکراہٹ میں جو بھید تھا وہ بڑا ہی نشہ آور تھا،ہلکے فیروزی رنگ کے لان کے سوٹ پہ شفون کا میرون سنجاف والا دوپٹہ ان کے حسن کو دو آتشہ کر رہا تھا۔مجھے لگا جیسے مجھے کئ سالوں بعد کوئ اپنی بچپن کی گہری سہیلی مل گئئ ہو ایک دن خوب بارش ہو رہی تھی میں نے دیسی گھی کا سوجی کا حلوہ بنا یا اسے شیشے کی طشتری میں ڈال کے خوب میووں سے سجایا،اور میرے قدم خود بخود ان کے گھر کی جانب روانہ ہو گیے۔ان کا گھر بس میرے گھر سے دو گھروں کی دوری پہُ تھا،میرا ہاؤس نمبر39تو ان کا 42۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر اس کے بعد ہم کئ مرتبہ ملے،کبھی ان کے گھر اور کبھی میرے۔۔۔۔۔۔۔
کبھی سینما گھر میں تو کبھی پان گلی میں کبھی دوپٹہ بازار میں تو کبھی الفلاح ٹاور میں،،،،،،،،،
پھر انھیں کوئ شدید قسم کی غلط فہمی ہو گئئ کہُانھیںُمیری شکل،میرے نام اور میرے بناے ہوے دیسی حلووں سے شدید نفرت ہو گئئ لیکن میرے دل میں وہُ ہمیشہ ایک خوب صورت یاد کیُ مانند مسکراتی رہیں،میں نے جب بھی دیسی گھی کا میووں سے رچا سجا ہوا حلوہ بنایا میرے دل میں فورا یہ خواہش جاگی کہ میں بھاگ کے جاؤں ان کے گھر کی گھنٹی بجاؤں وہُ مجھے مسکراتے ہوے خوش آمدید کہیں اور ہمُ لان میں بیٹھ کر چاے کی چسکیوں کے ساتھ ڈھیروں باتیں کریں لیکن اب وہ زمانےُبیتُچ چکے ہیں بدگمانی کے کالے بیج اس محبت کو کھا گئے جو بڑی بے پایاں اور ناپید تھیُ۔بھلے عمر کا پہیہ بہت آگے نکل گیا ہےُمجھے آج بھی وہ بہت یاد آتی ہیں۔
ہم تجھے یاد بہت کرتےُہیں
لب سے فریاد بہتُ کرتے ہیں
قیدی پنچھی یہ کہتے پھرتے ہیں
ظلم صیاد بہت کرتے ہیں
ہمُ تیرا نام بہت لیتے ہیں
ہمُتجھے یاد بہت کرتے ہیں
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Drpunnamnaureen&gmal.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں