مقصدِ نزولِ قرآن اور عصرِ حاضر کے مسلمانوں کی حالت:
جمعہ 10 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
(اقبال کے اشعار کی روشنی میں ایک فکری و اصلاحی جائزہ)
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی۔ اس کا مقصد محض تلاوت، برکت یا ثواب کا حصول نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات فراہم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نزول کا مقصد خود واضح فرمایا:
“هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ”(البقرہ: 185)
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔
اسی طرح فرمایا:
“كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِّتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ” (ابراہیم: 1)
یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لیے نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں۔
مقصدِ نزولِ قرآن:
قرآن کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
1.ہدایتِ انسانیت:
قرآن انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں راہنمائی دیتا ہے—عقیدہ، عبادات، اخلاق، معیشت اور سیاست سب شامل ہیں۔
2.تزکیۂ نفس:
رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں ایک اہم فریضہ یہ بھی تھا:
“يُزَكِّيهِمْ” (البقرہ: 129)
یعنی لوگوں کے دلوں کو پاک کرنا، ان کی اصلاح کرنا۔
3.اقامتِ عدل:
“لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ” (الحدید: 25)
تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
4.انقلابِ فکر و عمل:
قرآن محض نظری کتاب نہیں بلکہ ایک عملی انقلاب کا منشور ہے جس نے صحابہؓ کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔
حدیث کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے” (بخاری)
اور ایک اور حدیث میں فرمایا:
“قرآن حجت ہے تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف”(مسلم)
یعنی اگر قرآن پر عمل کیا جائے تو کامیابی، اور اگر چھوڑ دیا جائے تو ہلاکت۔
آج کے مسلمانوں کی حالت
بدقسمتی سے آج کے کلمہ گو مسلمانوں نے قرآن کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا ہے:
قرآن کو صرف ثواب کی کتاب بنا دیا. اس کی تعلیمات کو زندگی سے خارج کر دیا. اسے رسمی تلاوت اور تقریبات تک محدود کر دیا.
اجتماعی نظام (عدل، معیشت، سیاست) میں قرآن کی رہنمائی کو نظر انداز کر دیا
نتیجہ یہ نکلا کہ امت زوال، انتشار اور غلامی کا شکار ہو گئی۔
اقبال کی فکری تنقید
علامہ اقبالؒ نے اسی زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
خیر اسی میں ہے کہ قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر آوروں کی خاطر یہ جہاں بے ثبات
یہ اشعار دراصل طنز ہیں اس ذہنیت پر جو دنیا کو چھوڑ کر صرف خانقاہی زندگی کو دین سمجھ بیٹھی ہے۔
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے
اقبال یہاں اس خطرناک رویے کو بے نقاب کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو عمل، جہاد، علم اور قیادت سے ہٹا کر صرف ذکر و فکر تک محدود کر دیا گیا۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مسلمان قرآن نہیں پڑھتے، بلکہ یہ ہے کہ:
سمجھ کر نہیں پڑھتے
عمل نہیں کرتے
اجتماعی نظام میں نافذ نہیں کرتے
حضرت عمرؓ فرماتے تھے:
“ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی، اگر ہم نے اسے چھوڑا تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا”
حل کیا ہے؟
1.قرآن کو سمجھ کر پڑھنا
2.ذاتی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا
3.تعلیم، معیشت اور سیاست میں قرآن کی رہنمائی لینا
4.اقبال کے تصورِ خودی اور عمل کو اپنانا۔
نتیجہ:
قرآن کا نزول انسان کو غلام بنانے کے لیے نہیں بلکہ آزاد کرنے کے لیے ہوا تھا—ہر قسم کی غلامی سے: نفس، شیطان، اور ظالم نظاموں کی غلامی سے۔
آج اگر مسلمان واقعی بیدار ہونا چاہتے ہیں تو انہیں قرآن کو صرف پڑھنا نہیں بلکہ جینا ہوگا۔
ورنہ وہی ہوگا جس کی طرف قرآن نے خبردار کیا:
“وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا”
(الفرقان: 30)
رسول کہیں گے: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔
الدعا:
یا ہمارے رب ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اور من و عن عمل کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333