افسانہ
عنوان. گھڑی
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
ذونش کو کیی دنوں سے ایک ہی مسئلہ درپیش تھا، جونہی رات کے دو بجتے اس کی آنکھ ایک کرب ناک ہلکی آہ کے ساتھ کھل جاتی، ایسا بھی نہ تھا کہ اس پہ کسی نے کالا جادو کروا دیا تھا یا اس کے گھر میں کسی بھوت پریت کا سایہ تھا، یا پھر ذونش کو معدے کی تیزابیت، بد ہضمی اور اپھارہ جیسے امراض لاحق تھے جو اس کی نیند میں خلل کا باعث بن جاتے تھے، ایسا کچھ بھی نہ تھا، ایک خواب تھا جو روزانہ ایک ہی وقت میں ذونش کی نیند اڑا کر لے جاتا تھا، اس کا پورا بدن خوف سے لرز جاتا اور اس طرح کی دہشت جسم و جاں پہ طاری ہوتی کہ اس کی نیند ہی اڑن چھو ہو جاتی، اب خواب بھی ایسا کچھ خطرناک نہ تھا یہی کہ ذونش کی citizenکی سنہری گھڑی جو اس کے ابا نے اسے امتحان میں اول آنے پہ دی تھی گم ہو گیی ہے اور ذونش کی ہر طرح کی ڈھونڈ ڈھانڈ سے بھی گھڑی مل کے نہیں دے رہی، الماری میں، بستے میں، کچن کے تمام کیبنز کی ساری چیزوں کو آگے پیچھے کر کے بھی دیکھ لیا تھا، ڈرائینگ روم اور لاونج کے سارے صوفوں کے کشنز بھی ہٹا کے دیکھ لیے تھے، لان کی ساری کیاریاں بھی چھان ماری تھیں، سرونٹ کی غیر موجودگی میں سرونٹ کوارٹر کی ایک ایک شے کا بھی پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا اور تو اور ڈسٹ بنز کو بھی پوری جانفشانی کے ساتھ کھنگالا جا چکا تھا مگر گھڑی نہ ملتی تھی اور اس کے نہ ملنے کا خوف ہر خوف پہ حاوی تھا،ذونش کی گھڑی سے محبت سے سب چھوٹے بڑے واقف تھے انھیں خبر تھی کہ جیسے سامری جادوگر کی جان طوطے میں تھی بالکل اسی طرح ذونش کی جان اس سنہری گھڑی میں تھی، اس کی دلداری کے لیے پھپھو سے لیکر خالہ اور خالہ زاد سے لے کر تایا زاد تک سب نے گھڑی کی ڈھنڈای میں جی بھر کے کوشش کی تھی مگر نہ گھڑی ملی نہ ذونش کو قرار اور نہ ہی اس آدھی رات کے خواب کو حجاب آیا، خواب بغیر کسی تعطل کے آتا رہا اور ذونش اور اس کے چاہنے والوں کو بے سبب رلاتا رہا سچ تو یہ تھا کہ ذونش کی وہ سنہری گھڑی تو عرصہ ہوا گم ہو چکی تھی اب یہ خواب ذونش کی نا آسودہ خواہشات کا ترجمان تھا، ذونش کی بچپن ہی سے خواہش تھی پایلٹ بننے کی وہ باوجود کوشش کے نہ بن پای تھی اب جب کہ اس نے نہ چاہتے ہوے ٹیچنگ لاین اختیار کر لی تھی تو یہ خواب ایک نا آسودہ حسرت بن کے اس کے حواسوں پہ بجلی گراتا تھا، اس کی زہنی حالت اتنی مخدوش ہو گیی کہ اسے باقاعدہ ایک ماہر نفسیات سے رجوع کرنا پڑا اور اس اذیت سے گزرنے کے بعد ذونش کو احساس ہوا کہ انسان کی زندگی اتنی چھوٹی ہے کہ وہ اس تھوڑے سے دورانیے میں چاہ کر بھی اپنی خواہشات کو پورا کر ہی نہیں پاتا اور صرف ذونش ہی نہیں ہر شخص اپنی اپنی گمشدہ گھڑی کی تلاش میں حواس باختہ رہتا ہے.سچ ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا گھڑی کی سویاں اگر آگے بڑھ جاییں تو عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ گھڑی چوری ہو گیی تو اس چھوٹی سی زندگی میں وہی سرخرو ہوا جس نے بڑی متانت اور وقار سے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا یعنی اپنی گھڑی کو چوری ہونے سے بچایا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور punnam naureendrpunnam@gmail.com
فیصل آباد۔۔۔۔۔۔ معروف شاعر بری نظامی مرحوم کی برسی کے موقع پر روزنامہ کمرشل نیوز کی طرف سے معروف صحافی
قیدیوں کیلئے ٹھنڈا اور صحت بخش پانی فراہمی کیلئے جدید واٹر چلرز خرید لیے۔سمیع اللہ شنواری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے تحریک انصاف کی رجسٹریشن بلاجواز مسترد کردی۔بیرسٹرگوہر
سی فوڈ برآمدات پہلی بار 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔وفاقی وزیر برائے بحری امور
منشیات کے خاتمے کیلئے دیر بالا پولیس کی مؤثر کارروائی، آفیون (پوست) کی فصل تلف۔