بیداریٔ امت اور نئی عالمی حقیقتیں — قرآن و سنت کی روشنی میں ایک عملی لائحۂ عمل۔
جمعہ 03 مارچ 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
حالیہ عالمی کشیدگی—خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین تناؤ—نے دنیا کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ محض جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ ایک فکری، سائنسی اور تہذیبی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگوں کے بعد دنیا کی سمت بدلتی ہے، نئی ٹیکنالوجیز جنم لیتی ہیں، اور اقوام کی صف بندی نئے اصولوں پر ہوتی ہے۔ ایسے میں امتِ مسلمہ کے لیے یہ لمحہ محاسبہ، بیداری اور حکمتِ عملی ترتیب دینے کا ہے۔
قرآنِ مجید ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے: “أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ”
(البقرہ: 87)
ترجمہ: “کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو تمہاری خواہشات کے خلاف تھی تو تم نے تکبر کیا، پس بعض کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کرتے رہے؟”
یہ آیت ایک اصول بیان کرتی ہے: جو قومیں حق کو ٹھکراتی اور ظلم اختیار کرتی ہیں، وہ وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتی ہیں مگر انجام کے اعتبار سے خسارے میں رہتی ہیں۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ہے: محض ظالم کے ظلم کو بیان کرنا کافی نہیں، بلکہ خود کو بدلنا ضروری ہے۔ قرآن واضح اعلان کرتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ”
(الرعد: 11)
ترجمہ: “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔”
جنگ کا بدلتا ہوا میدان:
آج جنگ تلواروں اور بندوقوں کی نہیں رہی، بلکہ ذہانت، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہو چکی ہے۔
ماضی میں 1965 جیسے ادوار میں بلیک آؤٹ اور اینٹی ائیر کرافٹ گنز دفاع کا ذریعہ تھے، مگر آج:
سیٹلائٹ نگرانی (Satellite Surveillance)
مصنوعی ذہانت (AI Warfare)
ڈرون اور خودکار ہتھیار
سائبر جنگ (Cyber Warfare)
یہ سب جدید جنگ کا حصہ ہیں۔
مستقبل قریب میں وہ وقت آ سکتا ہے جب:
ہتھیار خود ہدف تلاش کریں گے۔
جنگیں خلا (Space) اور ڈیجیٹل دنیا میں لڑی جائیں گی۔ توانائی کے نئے ذرائع (جیسے فیوژن) طاقت کا مرکز ہوںگے
یہ محض خیالی باتیں نہیں بلکہ دنیا کی بڑی طاقتیں ان پر کام کر رہی ہیں۔
امت مسلمہ کے لیے پیغام
یہ حالات امت کے لیے ایک واضح پیغام رکھتے ہیں:
1.علم کو ہتھیار بنائیں
پہلی وحی ہی “اقرأ” سے شروع ہوئی۔ علم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
2.شارٹ ٹرم پلاننگ (قلیل مدتی منصوبہ)
تعلیم میں بہتری:
ٹیکنیکل اسکلز حاصل کرنا:
سائنسی شعور پیدا کرنا:
معاشی استحکام:
3.لانگ ٹرم پلاننگ (طویل مدتی منصوبہ)
ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ (R&D) میں سرمایہ کاری۔
اپنی ٹیکنالوجی اور انڈسٹری قائم کرنا۔
تعلیمی اداروں کو عالمی معیار پر لانا
امت میں اتحاد پیدا کرنا
4.عملی ایمان
صرف دعاؤں پر اکتفا نہیں، بلکہ عمل بھی ضروری ہے: “وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ” (النجم: 39)
“اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے۔”
*کامیابی کا اصول*
اللہ کی سنت واضح ہے:
محنت کے بغیر کامیابی نہیں۔
قربانی کے بغیر عزت نہیں۔
بیداری کے بغیر ترقی نہیں۔
وہی قومیں دنیا پر غالب آتی ہیں جو:
اپنی نیندیں قربان کرتی ہیں
مسلسل محنت کرتی ہیں
مستقبل کی تیاری کرتی ہیں
بیداری کی صدا
اے مسلمانو!
غفلت کی نیند سے جاگو!
یہ وقت صرف جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا ہے۔ اگر تم نے آج بھی آنکھ نہ کھولی تو تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔
اے مسلمانو! یاد رکھو:
دنیا تمہیں کچھ نہیں دے گی
تمہیں اپنا مقام خود حاصل کرنا ہوگا
ورنہ محنتی قومیں تمہارا حصہ بھی لے جائیں گی، اور تم صرف تماشائی بن کر رہ جاؤ گے۔
امید کا چراغ:
مایوسی کفر کے قریب لے جاتی ہے، اس لیے اللہ فرماتا ہے: “لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ” (الزمر: 53)
“اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔”
اور ساتھ ہی یقین رکھو:
اگر تم اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ کی مدد شامل حال ہوگی
اگر تم نے کوشش کی تو راستے کھلیں گے
اختتامی پیغام:
کمر باندھ لو، خوف کو دل سے نکال دو، اور میدان میں آ جاؤ:
اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
یہ وقت ہے:
علم حاصل کرنے کا
ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کا
امت کو جگانے کا۔
ورنہ یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر شاید تاریخ ایک اور طویل نیند لکھ دے۔
اللہ ہمیں بیداری، حکمت اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333