پاکستان میں مہنگائی کا بحران
تحریر: اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں مہنگائی تشویش ناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ماضی کی نسبت مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے۔یہ درست ہے کہ عالمی حالات کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن کچھ مقامی وجوہات بھی ہیں۔ایران امریکہ کے درمیان جنگ کی وجہ سے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور یہاں پاکستان میں قیمتیں بڑھائی گئیں۔بہرحال تیل کی قیمتیں پہلے ہی بڑھی ہوئی تھیں،اب مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ابھی مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔وزارت خزانہ کی طرف سے ماہانہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی گئی ہے اور رپورٹ کے مطابق رواں ماہ مہنگائی 7.5 فیصد سے8.5فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے. ممکن ہے اس سے زیادہ بھی مہنگائی میں اضافہ کر دیا جائے۔پاکستان میں اشیاء کی قیمتیں مصنوعی مہنگائی کا بہانہ بنا کر بھی زیادہ وصول کر لی جاتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ترسیلات زر میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ پاکستان میں پہلے بھی بہت زیادہ مہنگائی تھی۔حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام پاکستانی شدید پریشانیوں کا شکار ہو چکا ہے۔اب تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عوام کی چیخیں نکال رہا ہے۔صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ بجلی،ایل پی جی اور تقریبا ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں ٹیکسز کی شرح بھی بہت زیادہ بڑھا دی گئی ہے۔ان ٹیکسز کا دباؤ عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔روپے کی مسلسل گرتی قیمت بھی مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہے۔اس کے علاوہ سونا بھی مہنگا ہو گیا ہے،جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔اندرونی اور بیرونی قرضے بھی پاکستان کی معیشت کو بہت ہی کمزور کر رہے ہیں۔قرض لینے کی وجہ سے آئی ایم ایف کی شرائط بھی پوری کرنے سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔بجلی کی قیمتیں کنٹرول میں ہو سکتی ہیں اگر بجلی پیدا کرنے کے لیے سستا ایندھن استعمال کیا جائے۔سستے کی بجائے مہنگے ایندھن کی وجہ سے قیمتوں میں اضاف ہو جاتا ہے،حالانکہ ایندھن کے متبادل ذرائع استعمال کر کے بجلی کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔بعض اوقات حکومت سبسڈی دیتی ہے،لیکن اس کا فائدہ عوام کو کم ہوتا ہے۔بہت سے شعبے ایسے ہیں،جہاں فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مثال کے طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید بحرانوں میں گھرگئی ہے۔بہت سی ٹیکسٹائل انڈسٹریز بند ہو گئی ہیں،کیونکہ وہ انڈسٹریز خسارے کا شکار ہو گئی تھیں۔صنعتوں کی بندش کی وجہ سےبے شمار افراد بے روزگاری کا شکار ہو گئے۔یہ بتانا ضروری ہے کہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی معیشت کو مضبوط رکھے ہوئی تھی۔صرف ٹیکسٹائل انڈسٹریز خسارے کا شکار نہیں بلکہ دیگر شعبہ جات بھی زوال پذیر ہو رہے ہیں۔زراعت بھی تباہ ہونے کے خدشے سے دوچار ہے۔
مہنگائی سے تعلیم کا نقصان بھی ہو رہا ہے۔مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے بہت سے خاندان اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔مہنگائی نےتعلیم حاصل کرنا کروڑوں افراد کے لیے انتہائی مشکل امر بنا دیاہے۔سکول جانے والے بچے اب گلیوں اور پارکوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔پارکوں اور گلیوں میں گھومنے والےبچے پاکستان کا مستقبل ہیں اور اور پاکستان کے مستقبل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اعلی تعلیم بھی انتہائی مہنگی کر دی گئی ہے،جس کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہو رہا ہے۔تعلیم سے دلچسپی سے کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کروڑوں افراد سمجھتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری تو ملتی نہیں اس لیے تعلیم کیوں حاصل کریں؟سرکاری نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی برداشت کرنا مشکل بن گیا ہے۔تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا لیکن اب تعلیمی ایمرجنسی کا نام و نشان تک نہیں رہا۔یہ ضروری ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر طریقے سے شروع کر دیا جائے۔جو افراد یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم اس لیے حاصل کی جائے کہ نوکری ملے،ان کو کہاجا سکتا ہے کہ تعلیم شعور حاصل کرنے کے لیے حاصل کی جائے نہ کہ نوکری کے لیے۔تعلیم بہت ضروری ہےکیونکہ اس کے مفادات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کم کی جا سکتی ہے،اگر خلوص نیت سے کوشش کی جائے۔سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی کی نسبت ایلیٹ کلاس کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔اگر ایلیٹ کلاس کی مراعات کم کر دی جائیں تویہ پالیسی مہنگائی کم کرنے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کہی جا سکتی ہے۔ٹیکسز میں بھی کمی کرنی ہوگی اورآزاد خارجہ پالیسیاں بھی مہنگائی کو کم کر سکتی ہیں۔بیرونی سرمایہ کاری بھی مہنگائی میں کمی کر سکتی ہے۔اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ عوام علاج بھی نہیں کراسکتی۔روز بروز ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے بیچاری عوام کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے۔مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے،ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے۔بجلی کی قیمتیں بھی فوری طور پر کم کی جائیں،کیونکہ یہ توانائی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔روزگارکے بھی زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں۔پاکستان کے معدنی وسائل کو بھی استعمال میں لایا جائے،اس سے ملک میں خوشحالی بڑھے گی۔خوشحالی بڑھنے سے مہنگائی کم نہ ہو تو کم از کم پاکستانی عوام پر مہنگائی کے اثرات کم پڑیں گے۔
منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور
(عبدالاحد) – لاہور کا وہ بیٹا جس نے 18 سال بعد اپنی ماں کو ایک ‘دلہن’ کے طور پر رخصت کیا اور ثابت کر دیا کہ اگر بچے چاہیں تو ماں کے اکیلے پن کو خوشیوں میں بدل سکتے ہیں!
میرپورخاص (شاھدمیمن) شہادت امام محمد تقی علیہ السلام کے سلسلے میں مرکزی حیدری امام بارگاہ
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)گسٹا تعلقہ دوڑ کے الیکشن،الشہباز پینل کے تمام امیدوار بنا مقابلہ
28 ویں ترمیم میں ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز زیرغور ہے۔رانا ثنااللہ