38

(عبدالاحد) – لاہور کا وہ بیٹا جس نے 18 سال بعد اپنی ماں کو ایک ‘دلہن’ کے طور پر رخصت کیا اور ثابت کر دیا کہ اگر بچے چاہیں تو ماں کے اکیلے پن کو خوشیوں میں بدل سکتے ہیں!

(عبدالاحد) – لاہور کا وہ بیٹا جس نے 18 سال بعد اپنی ماں کو ایک ‘دلہن’ کے طور پر رخصت کیا اور ثابت کر دیا کہ اگر بچے چاہیں تو ماں کے اکیلے پن کو خوشیوں میں بدل سکتے ہیں!

لاہور کے 24 سالہ عبداللہ کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب اسے احساس ہوا کہ اس کی والدہ، مدیحہ کاظمی، نے گزشتہ 18 سال صرف اپنے بچوں کی خاطر اپنی خواہشات کی قربانی دیتے ہوئے گزار دیے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب بچے جوان ہو جائیں تو ایک عورت کی (اپنی ذات کی حد تک) زندگی ختم ہو جاتی ہے، لیکن عبداللہ اور اس کی بہن طوبہ نے اس سوچ کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی والدہ کے لیے ایک مناسب رشتہ ڈھونڈا، اس شخص سے ملاقات کی، اور مکمل تسلی کر لینے کے بعد خود اپنی والدہ کی شادی کروائی۔

کہانی میں جذباتی موڑ اس وقت آیا جب شادی کے دن والدہ پارلر میں تیار ہو رہی تھیں، اور انہوں نے عبدالاحد کو ویڈیو کال کر کے روتے ہوئے کہا، “آج، اتنے سالوں بعد، میں اپنے لیے تیار ہوئی ہوں۔” احد کا کہنا ہے کہ جب وہ شادی کے بعد اپنی والدہ کو رخصت کرنے لگا تو ایک لمحے کے لیے اس کا دل بھر آیا؛ “میں ہمیشہ اپنی ماں کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتا تھا، لیکن آج ان کے شوہر نے ان کا ہاتھ تھاما اور ان کے لیے دروازہ کھولا – تب مجھے احساس ہوا کہ (مجھ پر ہر وقت سایہ فگن رہنے والی) ماں اب ‘رخصت’ ہو چکی ہے!”

احد بتاتا ہے کہ اب انہیں گھر کے سارے کام خود کرنے پڑتے ہیں، گیزر چلانے سے لے کر کپڑے استری کرنے تک، وہ سب کچھ جو پہلے ایک ماں کیا کرتی تھی، لیکن وہ اسے ‘خوشیوں کا سودا’ سمجھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ “محض اپنے چھوٹے موٹے کاموں اور روٹی پانی کی خاطر اپنی ماں یا بہن کو زندگی کا ‘دوسرا موقع’ (Second Chance) لینے سے روکنا سب سے بری اور خودغرضانہ سوچ ہے۔”

جب احد نے سوشل میڈیا پر شادی کی ویڈیو شیئر کی تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔ یہ محض ایک شادی نہیں تھی، بلکہ ان تمام اکیلی ماؤں (Single Mothers) کے لیے امید کی ایک کرن تھی جو معاشرے کے ڈر سے اپنی پوری زندگی تنہائی میں گزار دیتی ہیں۔ عبداللہ نے یہ ثابت کر دیا کہ سچی محبت صرف وہ نہیں جو مائیں اپنے بچوں سے کرتی ہیں، بلکہ سچی محبت وہ بھی ہے جو بچے اپنی ماں کی خوشیوں کی خاطر معاشرے سے لڑ کر دکھاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں