33

تحریر:اللہ نوازخان ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ میں کس کاپلڑا بھاری ایران دو طاقت ور ممالک کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔جنگ

تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ میں کس کاپلڑا بھاری
ایران دو طاقت ور ممالک کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔جنگ شروع کرنے سے قبل ایران کےبارےمیں جو اندازےقائم کیے گئے تھے،وہ اندازے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ایران مضبوطی سے امریکہ اور اسرائیل کو جواب دے رہا ہے۔ایران کا نقصان زیادہ ہو رہا ہے لیکن توقع سے زیادہ امریکہ اور اسرائیل کا بھی ہو رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ شروع ہونے کے ایک دو دن بعد دعوی کیا تھا کہ ایران کی عسکری طاقت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ امریکی صدر کے دعوے درست نہیں تھے۔ایران نےآبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور اس عمل سے امریکہ کو بہت نقصان پہنچا۔امریکی صدر نے نیٹو اور کئی ممالک سےآبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مدد بھی مانگی لیکن مدد نہ مل سکی،کیونکہ ایران نے اپنی طاقت منوا لی ہے۔واضح طور پر نظر آتا ہے کہ امریکہ کے لیے یہ جنگ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔امریکی صدر کی بوکھلاہٹ اور بے چینی بہت بڑھ چکی ہے۔ایران کی ایٹمی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود ہے اور اسرائیل کے ان علاقوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے جہاں ایٹمی تنصیبات موجود ہو سکتی ہیں۔اس طرح علم ہو رہا ہے کہ یہ جنگ ایٹمی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔ماہرین کے مطابق ایران کم خرچ میں امریکہ اور اسرائیل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل بہت زیادہ خرچ کر کے بھی اپنے مقاصد سے ابھی بہت ہی دور ہیں۔امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ اسلامی ممالک بھی ان کے خلاف ہو سکتے ہیں۔امریکی اڈوں کو تباہ کر دیا گیا تو یہ امریکہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوگا کیونکہ اس کےبعد امریکہ دوبارہ مشکل ہی سے اڈے یہاں قائم کر سکے گا۔
امریکہ جیت رہا یا ہار رہا ہے،واضح تو نہیں کچھ کہا جا سکتا لیکن امریکی صدر کے بیانات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ امریکہ جیتنے میں ناکام ہو رہا ہے۔مثال کے طور پر امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیا تھا لیکن بعد میں منحرف ہو کر الٹی میٹم میں اضافہ کر دیا۔یہ بیان بھی دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔امریکی صدر کے اعلان کے جواب میں ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کر دی۔ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران کے نقصانات پورے ہونے تک جنگ نہیں رکے گی۔امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ دو دن سے جاری مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔امریکی صدر کے دعووں کےبرعکس ایران کا موقف دوسرا ہے۔میڈیا پر ایک خبر وائرل ہو رہی ہے،جس میں ایران نے ایک فاتح کی طرح چھ شرائط امریکہ اور اسرائیل کو پیش کر دی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق،ایک اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ثالثوں نے ایران کو جنگ روکنے کی تجاویز پیش کی ہیں اورایران نے جنگ روکنے کے لیےچھ شرائط پیش کر دی ہیں۔ان شرائط میں پہلی شرط یہ ہے کہ آئندہ دوبارہ جنگ شروع نہ ہونے کی یقین دہانی ،دوسری شرط خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند،تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی،چوتھی شرط تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جائے،پانچویں آبنائےہرمزکے لیے نئی قانونی رجیم پر عمل درآمد اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا اپریٹوز کے خلاف قانونی کاروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ شرائط کن ذرائع کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں۔اب ان شرائط کا امریکہ یا اسرائیل کی طرف سے کیا جواب ملتا ہے،کچھ عرصے کے بعد معلوم ہو جائے گا۔ممکن ہے امریکہ اور اسرائیل ایرانی شرائط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں کیونکہ ان شرائط کوتسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران کو ایک فاتح تسلیم کر لیا جائے۔
ایران کی شرائط تسلیم کرنا بہت ہی مشکل ہوگا،اگر صرف ایک شرط،ہرجانہ کی بھی تسلیم کر لی گئی تو اس صورت میں بھی ایران فاتح تصور کیا جائے گا۔امریکہ اگر مجبورا بھی جنگ کو روکتا ہے تو اس سے بھی امریکی ساکھ کو عالمی طور پر سخت نقصان پہنچے گا۔تقریبا تمام ممالک امریکہ کو اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر رہے ہیں،کیونکہ ہر ملک سمجھ رہا ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کھو رہا ہے۔ایران اگر مضبوطی سے ڈٹا رہتا ہے تو جنگ کا اختتام ایران کے لیے ایک بہتر اختتام ثابت ہو سکتا ہے۔اس طرح ایران عالمی طور پر اپنی ساکھ کو تسلیم کروا سکتا ہے اور معاشی حالت بھی سدھار سکتا ہے۔طاقتور ایران کے ساتھ درجنوں ممالک تجارتی وسفارتی تعلقات بحال کرلیں گے۔ایران امریکہ کو مجبور بھی کر دے گا کہ خطے میں اپنے اڈے ختم کر دے۔خطے میں اڈوں کو ختم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ کمزور ہو چکا ہے۔امریکہ کے لیےیہ جنگ بہت بڑی دلدل ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کر لے،تو اس صورت میں اسرائیل اور امریکہ بہت بڑی کامیابی حاصل کر لیں گے۔ایران مشرق وسطی میں اسرائیل اور امریکہ کا بہت بڑا مخالف ہے اور اس مخالف کو ختم کرنے کے لیے ہر قسم کےحربےاستعمال کیے جا رہے ہیں۔ایران کا نقصان ہونے کے باوجود بھی ڈٹا رہنا شاید پوری دنیا کے لیے حیران کن ہے۔سپریم لیڈر سمیت کئی اعلی افراد کی شہادت کے بعد بھی ایران مضبوطی سے دفاع کر رہا ہے،اس سے یہ علم ہوتا ہے کہ ایران کو شکست دینا آسان نہیں۔اعلی قیادت کی شہادت کے بعد امریکہ اور اسرائیل سمجھتے تھے کہ ایران میں عوام نئی تبدیلی کو پسند کرے گی،لیکن عوامی رد عمل مختلف رہا۔اس جنگ کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ ایٹمی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔ایران کے پاس اگر واقعی ایٹمی صلاحیت عسکری مقاصد کےلیے موجود ہے تو ایران ایٹمی حملہ بھی کر سکتا ہے۔دوسری طر ف ایران پر بھی ایٹمی حملہ ہو سکتا ہے،اس لیے یہ جنگ خاصی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔جنگ کا فاتح ایران ہوگا یا امریکہ واسرائیل،کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن حالات سے علم ہو رہا ہے کہ فی الحال ایران کا پلڑا بھاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں