32

تحریر:اللہ نوازخان اسرائیل وامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اورآبنائے ہرمزکی اہمیت

تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
اسرائیل وامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اورآبنائے ہرمزکی اہمیت
ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے اور کب تک جاری رہتی ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔امریکی صدر نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو 100 فیصد تک تباہ کر دیا گیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کو اقتصادی،عسکری اور ہر طرح کی شکست دے چکے ہیں۔شکست کا دعوی کیا گیا لیکن حقائق کچھ اور نظرآتے ہیں۔ایران عسکری اور اقتصادی لحاظ سے امریکہ و اسرائیل سے بہت کمزور ہے۔ایران کے لیے ان دو ممالک کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہے،لیکن مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ایران کی فوجی طاقت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا دیا گیا ہے،لیکن اس کے پاس اب بھی ایک ترپ کا پتہ موجود ہے اور وہ ہے آبنائے ہرمز۔ایران نےآبنائےہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور اس بندش نے بہت سے ممالک میں تیل کا بحران پیدا کر دیا ہے۔جنگ سے قبل خام مال تیل کا ایک بیرل تقریبا 68 سے 70 ڈالر میں فروخت ہو رہا تھا،آبنائےہرمز کی بندش کی وجہ سے بیرل کی قیمت 100 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔تیل کی کمی نے بھی بہت سے ممالک میں پریشانی پیدا کر دی ہے۔تہران آبنائےہرمز کھولنے کے لیے تیار نہیں،کیونکہ اس کے پاس کوئی مزیدآپشن نہیں جس سے امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کیا جاسکے۔ایران صرف ان ممالک کے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے جو اس جنگ کا حصہ نہیں ہیں۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے کئی ممالک ایران سے اپیلیں کر رہے ہیں کہ ان کے بحری جہازوں کو گزرنے دیا جائے۔امریکی صدر نے دعوی کیا تھا کہ ایران کو مکمل طور پر شکست دی جا چکی ہے، لیکن آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک سے مدد کی اپیل بھی کی ہے۔مدد نہ کرنے کی وجہ سے امریکی صدرنے شکوہ بھی کیا ہے۔نیٹو کے بھی ٹوٹنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔کیونکہ امریکہ کو ممکنہ مقاصد حاصل نہ ہوئے تو نیٹو کو توڑا بھی جا سکتا ہے۔بہت سے ممالک کے سربراہان اس جنگ کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کے لیےآبنائےہرمز کی آبی گزرگاہ سے گزرنا مشکل ہو جائے گا۔
ایران کمزور ملک ہونے کے باوجود بھی جنگ لڑ رہا ہے اور ابھی تک ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ایران کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ امریکہ یہاں مستقل اڈوں کے ذریعے حملے کر رہا ہے اور وہ اڈے خطے میں کئی ممالک میں موجود ہیں۔ایران کو جوابی طور پر ان اڈوں کو نشانہ بنانا پڑ رہا ہے جو خطے میں موجود ہیں۔جہاں اڈے موجود ہیں وہ ملک بھی ایرانی حملوں سے متاثر ہو رہے ہیں،اس لیے ایران صرف امریکہ یااسرائیل سے نہیں لڑرہابلکہ خطے کے دیگر ممالک سے بھی جنگ کر رہا ہے۔ایران نےآبنائے ہرمز کی آبی گذرگاہ بند کر کے عالمی معیشت کو سخت نقصان پہنچا دیا ہے۔یہاں تقریبا دنیا کے 20 فیصد تجارتی تیل کی ترسیل ہوتی ہے اور اب یہ ترسیل متاثر ہو چکی ہے۔اب آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہےاور یہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔برطانیہ،چین،فرانس، جاپان،جنوبی کوریا اور دیگر بہت سے ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔متاثرہ ممالک چاہتے ہیں کہ جنگ رک جائے تاکہ ان کی معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔دوسری طرف امریکہ سمجھتا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی امریکی مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور اسرائیل بھی نہیں چاہتا کہ ایران کو دوبارہ موقع دیا جائے کہ وہ سنبھل جائے۔یہ بھی درست ہے کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکتا،لیکن اسرائیل سمجھتا ہےکہ ایران کو اتنا کمزور کر دیا جائے تاکہ دوبارہ اسرائیل کے لیے خطرہ موجود نہ رہے۔ہو سکتا ہے امریکہ مجبورا اس جنگ کو روکنے پرآمادہ ہو جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ایران ایک مضبوط طاقت ہے اور خطے پر امریکی یا اسرائیلی بالادستی قائم نہیں رہے گی۔امریکہ اور اسرائیل کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی ایسا راستہ ظاہر ہو جائے جس سےآبنائےہرمز کی آبی گزرگاہ بھی کھل جائے اور جنگ بھی نہ رکے۔اگرآبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ کھل جاتی ہے تو ایران بہت کچھ کھو دے گا۔تہران دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی خرابی نہیں چاہتا،اس لیے بہت سے ممالک کے لیےآبنائےہرمزکے تجارتی راستے بند نہیں کیے جائیں گے۔یہ پالیسی ایران کے لیے بہت ہی بہترین ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اس وجہ سے دنیا میں حمایت پیدا ہو رہی ہے۔چین یا دیگر ممالک ایران کو جنگی بحران سے نکال سکتے ہیں،اگر جنگ لمبے عرصے تک بھی جاری رہتی ہے تو پھر بھی دیگر ممالک کی مدد ایران کے لیے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ہو سکتا ہے یہ جنگ لمبے عرصے تک جاری نہ رہ سکے،جنگ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔بہرحال جنگ علاقائی امن کو تباہ کر رہی ہے۔اس تباہی کی ذمہ داری اسرائیل اور امریکہ کی ہے کیونکہ ایران دفاع کر رہا ہے۔ایک خود مختار ملک پر حملے کرنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہیں۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اندازوں کے مطابق ہر ماہ تقریبا 3 ہزار بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔آبنائے ہرمز اور اس کی بحری گزرگاہیں ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہیں۔ایران اگر ان گذرگاہوں کومکمل طورپربند کرتا ہے تو عالمی معیشت متاثر ہو جائے گی۔مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ان وجوہات کے پیش نظر ہو سکتا ہے ایک نیا بلاک امریکہ کے خلاف بنا دیا جائے۔واضح رہے کہ یہ جنگ شروع کرانے کے لیے اسرائیل نے بھی بہت کوشش کی ہے،کیونکہ مشرق وسطی میں اسرائیل کے لیے ایران بہت بڑا خطرہ بنا ہوا تھا۔مذاکرات بھی ہوئے تھے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔کامیاب نہ ہونے کی وجہ یہ بھی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ ایران ایٹمی صلاحیت سے دستبردار ہو جائے۔ہو سکتا ہے ایران کے پاس ایٹمی صلاحیت فوجی مقاصد کے لیے موجود ہو اور اگر اس کو استعمال کر لیا گیا تو یقینی طور پر خطےکا بہت بڑا نقصان ہوگا۔بہتر یہی ہے کہ ایٹمی صلاحیت استعمال نہ کی جائے۔امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیےآبنائےہرمز کی بندش بہتر ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ امن کے لیے یہ ایک بہترین انتخاب ہے۔بہت سے ایرانی شہری جنگ کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں،جنگ رکنے کی وجہ سے بہت سی انسانی زندگیاں بچ جائیں گی۔موجودہ جنگ نے بھی ایران کو بہت حد تک کمزور کر دیا ہے،اگر جنگ رکتی ہے تو یہ امن کے لیے بہتر ہوگا۔ایک اطلاع کے مطابق پاکستان کے علاوہ کئی ممالک کےبحری جہازآبنائےہرمز سے گزر سکتے ہیں۔بہرحال امریکہ واسرائیل اور ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز ایک خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے،ہو سکتا ہے یہ ایران کی فتح کا سبب بھی بن جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں