31

*لیلۃ القدر، قرآن اور احادیث کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ* پیر 16 مارچ 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*لیلۃ القدر، قرآن اور احادیث کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ*

پیر 16 مارچ 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

تمہید
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے۔ اسی مقدس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی عظیم رات رکھی ہے جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔ یہ رات اتنی بابرکت اور عظیم ہے کہ اس کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اسی رات قرآن مجید کا نزول ہوا اور اسی رات اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں اور برکتیں زمین پر نازل ہوتی ہیں۔

1۔ لیلۃ القدر کا ذکر قرآن مجید میں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ
سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ
(سورۃ القدر)

ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا اور آپ کیا جانیں کہ شبِ قدر کیا ہے۔ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اس میں فرشتے اور روح (جبرائیل علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔
یہ رات فجر کے طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ
(سورۃ الدخان: 3)

یعنی ہم نے قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا۔

یاد رہے کہ لیلۃ القدر اور لیلۃ مبارکہ ایک ہی چیز ہے۔
2۔ لیلۃ القدر کی شرعی حیثیت

اہلِ سنت کے تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ:
لیلۃ القدر حقیقی اور مبارک رات ہے یہ ہر سال رمضان المبارک میں آتی ہے اس کی عبادت کا اجر بے حد عظیم ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر میں قیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔”
(صحیح بخاری، حدیث 1901 صحیح مسلم، حدیث 760)

3۔ لیلۃ القدر کب ہوتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔”(صحیح بخاری)
یعنی یہ رات عام طور پر ان راتوں میں تلاش کی جاتی ہے:

21 رمضان
23 رمضان
25 رمضان
27 رمضان
29 رمضان

بعض صحابہ خصوصاً حضرت ابی بن کعبؓ کا رجحان 27ویں رات کی طرف تھا (صحیح مسلم)، لیکن جمہور علماء کے نزدیک لیلۃ القدر مختلف سالوں میں بدل سکتی ہے تاکہ مسلمان پورے آخری عشرے میں عبادت کریں۔

4۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اتنی عبادت کرتے تھے جتنی کسی اور وقت میں نہیں کرتے تھے۔” (صحیح مسلم)

ایک اور روایت میں ہے:
“جب آخری عشرہ آتا تو آپ ﷺ راتوں کو زندہ کرتے، گھر والوں کو جگاتے اور عبادت میں خوب محنت کرتے تھے۔”
(صحیح بخاری)

5۔ صحابہ کرام کا طرزِ عمل
صحابہ کرامؓ بھی اسی سنت پر عمل کرتے تھے۔ وہ صرف ایک رات پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ:
پورے آخری عشرے میں عبادت کرتے طاق راتوں میں خصوصی اہتمام کرتے

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لیلۃ القدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو۔”(صحیح بخاری)

*6۔ لیلۃ القدر کو پانے کا طریقہ*
علماء کے مطابق اس رات کو پانے کے لئے درج ذیل اعمال بہت اہم ہیں:

1۔ قیام اللیل
نوافل اور تہجد پڑھنا۔
2۔ قرآن مجید کی تلاوت
3۔ ذکر اور درود شریف
4۔ استغفار اور توبہ

5۔ دعا
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو یہ دعا سکھائی:

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (سنن ترمذی)

ترجمہ:
اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔

7۔ لیلۃ القدر کی علامات

بعض احادیث میں اس رات کی چند علامات بیان ہوئی ہیں:

1۔ رات معتدل ہوتی ہے نہ زیادہ گرم نہ زیادہ سرد۔

2۔ دل میں سکون اور طمانیت محسوس ہوتی ہے
3۔ اگلی صبح سورج بغیر تیز شعاعوں کے طلوع ہوتا ہے
(صحیح مسلم)

8۔ کیا پوری دنیا میں لیلۃ القدر ایک ہی رات ہوتی ہے؟

یہ ایک علمی مسئلہ ہے جس میں علماء کی دو آراء ہیں:

پہلی رائے

لیلۃ القدر اصل میں ایک ہی رات ہوتی ہے لیکن دنیا کے مختلف علاقوں میں وقت کے فرق کی وجہ سے ہر جگہ اپنے مقامی وقت کے مطابق واقع ہوتی ہے۔

*دوسری رائے*
کچھ علماء کے نزدیک ممکن ہے کہ مختلف علاقوں میں لیلۃ القدر مختلف راتوں میں ہو۔

تاہم اکثر علماء کا رجحان پہلی رائے کی طرف ہے۔

9۔ سورۃ القدر اور 27ویں رات کا ایک لطیف اشارہ

بعض مفسرین نے ایک دلچسپ نکتہ بیان کیا ہے کہ سورۃ القدر کے الفاظ تیس ہیں اور لفظ “هِيَ” ستائیسویں نمبر پر آتا ہے۔ چونکہ اس لفظ سے لیلۃ القدر کی طرف اشارہ ہے، اس لئے بعض علماء نے اسے 27ویں رات کے امکان کی طرف ایک لطیف اشارہ قرار دیا ہے۔ تاہم یہ قطعی دلیل نہیں بلکہ ایک علمی لطافت ہے۔

10۔ لیلۃ القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت

علماء کے مطابق اس رات کو مخفی رکھنے کی چند حکمتیں ہیں:

1۔ مسلمان پورے آخری عشرے میں عبادت کریں
2۔ اخلاص کا امتحان ہو
3۔ زیادہ سے زیادہ لوگ عبادت میں مشغول ہوں

خلاصہ
لیلۃ القدر رمضان المبارک کی سب سے عظیم اور بابرکت رات ہے۔ اسی رات قرآن مجید نازل ہوا اور اس رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کو حکم دیا کہ اس رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کریں۔ اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ آخری عشرے میں خصوصاً طاق راتوں میں نماز، قرآن، ذکر، استغفار اور دعا کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرے تاکہ وہ اس عظیم رات کی برکتیں حاصل کر سکے۔

الدعاء
یا اللہ تعالی تیرے احکامات کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر بجا لانے کی توفیق عطا فرما اور میرے جملہ صالح اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور اپنی رحمت کے وسیلے سے ان اعمال کا بے پناہ اجر عطا فرماتے ہوئے مجھے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمانا۔
آمین یا رب العالمین

احقر الناس
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں