36

*عالمِ برزخ کی شرعی حیثیت* پیر 16 مارچ 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*عالمِ برزخ کی شرعی حیثیت*

پیر 16 مارچ 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

1۔ برزخ کا لغوی اور شرعی معنی لفظ برزخ عربی زبان میں اس چیز کو کہتے ہیں جو دو چیزوں کے درمیان حائل اور پردہ ہو۔
شریعت میں برزخ اس عالم کو کہتے ہیں جو موت کے بعد اور قیامت سے پہلے انسان کی زندگی کا مرحلہ ہے۔

یعنی انسان کی زندگی کے تین بڑے مرحلے ہیں:

1.دنیا کی زندگی
2.عالمِ برزخ
3.قیامت کے بعد آخرت کی زندگی

2۔ قرآنِ مجید سے ثبوت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

ترجمہ:
“اور ان کے آگے ایک پردہ (برزخ) ہے قیامت کے دن تک جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔”(المؤمنون 23:100)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ موت کے بعد قیامت تک ایک درمیانی عالم موجود ہے جسے برزخ کہا جاتا ہے۔

3۔ برزخ کی حقیقت
اہلِ سنت کے نزدیک برزخ ایک حقیقی عالم ہے۔
یہ نہ مکمل دنیا ہے اور نہ آخرت، بلکہ دونوں کے درمیان ایک خاص حالت ہے۔
اس عالم میں:
روح باقی رہتی ہے
انسان کو شعور ہوتا ہے
نعمت یا عذاب کا آغاز ہو جاتا ہے لیکن اس کی کیفیت دنیا کے قوانین سے مختلف ہوتی ہے۔

4۔ قبر اور عالمِ برزخ
قبر دراصل برزخ کا پہلا مقام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
القبر أول منازل الآخرة
ترجمہ:
“قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا پہلا مرحلہ قبر کی زندگی ہے جو برزخ ہی کا حصہ ہے۔

5۔ برزخ میں سوال و جواب
موت کے بعد فرشتے انسان سے سوال کرتے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ فرشتے پوچھتے ہیں:
تیرا رب کون ہے؟
تیرا دین کیا ہے؟
یہ شخص کون ہے جو تم میں مبعوث ہوا؟ (رسول اللہ ﷺ)
نیک مومن صحیح جواب دیتا ہے اور اسے آرام ملتا ہے، جبکہ منافق اور کافر جواب نہیں دے پاتے۔
یہ واقعہ صحیح احادیث میں تفصیل سے مذکور ہے۔

6۔ برزخ میں نعمت اور عذاب
اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ قبر میں نعمت بھی ہے اور عذاب بھی۔
مومن کے لیے قبر کشادہ ہو جاتی ہے جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ راحت اور سکون ملتا ہے

کافر یا فاسق کے لیے قبر تنگ ہو جاتی ہے جہنم کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے عذاب شروع ہو جاتا ہے

7۔ قرآن سے عذابِ برزخ کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرعون کے بارے میں فرماتے ہیں:
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا
ترجمہ:
“انہیں صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔”
مفسرین کے مطابق یہ قیامت سے پہلے کا عذاب ہے، یعنی برزخ کا عذاب۔

8۔ برزخ میں روح کی حالت
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
مومن کی روح علیین میں بلند مقام پر ہوتی ہے
کافر کی روح سجین میں ہوتی ہے بعض اوقات روح کا تعلق قبر سے بھی رہتا ہے، اسی وجہ سے قبر میں سوال و جواب اور نعمت و عذاب ہوتا ہے۔
9۔ برزخ اور دنیا کے درمیان تعلق۔ برزخ کی زندگی غیبی زندگی ہے، اس لیے دنیا کے انسان اسے براہِ راست نہیں دیکھ سکتے۔
البتہ شریعت نے یہ بتایا ہے کہ:
مردے کو دفن کے بعد قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے
سلام کا جواب دیتا ہے (بعض احادیث کے مطابق)

اس تک دعاء اور صدقہ کا فائدہ پہنچتا ہے

10۔ برزخ کا اختتام
عالمِ برزخ اس وقت ختم ہوگا جب قیامت والے دن صور پھونکا جائے گا

تمام انسان دوبارہ زندہ ہوں گے
عالمِ برزخ شریعت کے مطابق ایک حقیقی عالم ہے جو موت اور قیامت کے درمیان ہوتا ہے۔ قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اس میں انسان کی روح باقی رہتی ہے، سوال و جواب ہوتا ہے، اور اعمال کے مطابق نعمت یا عذاب شروع ہو جاتا ہے۔ قبر دراصل اسی برزخی زندگی کا پہلا مرحلہ ہے اور یہ حالت قیامت تک جاری رہتی ہے۔

الدعاء
یا اللہ تعالٰی قبر کے عذاب سے محفوظ فرمانا۔

آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں