*روح کیا ہے روح کا سفر، اثرات، مشاہدات، قرآن، حدیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں*
اتوار 24 رمضان المبارک 1447
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*تعارف*
روح ایک ایسا راز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف تھوڑا علم عطا کیا ہے۔ قرآن میں فرمایا:
وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
(الاسراء 85)
روح زندگی کی اصل قوت ہے، جو جسم میں حرکت، شعور اور احساس پیدا کرتی ہے۔ انسان، جنات، جانور اور فرشتوں میں روح موجود ہے، لیکن روح کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔
1️⃣ روح کی تخلیق اور داخلہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر ایک کی تخلیق چالیس دن نطفہ کی صورت میں رہتی ہے، پھر چالیس دن علقہ، پھر چالیس دن مضغہ، پھر فرشتہ آتا ہے اور روح پھونک دیتا ہے۔”
(صحیح بخاری 3208، صحیح مسلم 2643)
تشریح:
روح اللہ کے حکم سے فرشتے کے ذریعے جسم میں داخل کی جاتی ہے۔ اس عمل سے جسم میں زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
2️⃣ موت کے وقت روح کا نکلنا
میرے ذاتی مشاہدے اور حدیث و آثار کی روشنی میں روح کا نکلنا ایک مرحلہ وار عمل ہے:
1.سب سے پہلے پاوں سے روح نکلنے لگتی ہے، ٹانگیں بے جان ہو جاتی ہیں۔
2.پھر دھڑ اور اوپر کا جسم بے حرکت ہو جاتا ہے۔
3.آخر میں گردن اور گلے میں روح کچھ دیر رکتی ہے، دل کی دھڑکن اور خون کی گردش آہستہ آہستہ ختم ہوتی ہے۔
4.آنکھیں روح کے تعاقب میں حرکت کرتی ہیں اور روح پرواز کر جاتی ہے۔
یہ مشاہدہ حدیث کے مطابق بھی بیان ہوا ہے:
جب مومن بندہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو سفید چہروں والے فرشتے آتے ہیں، روح نکال کر آسمان کی طرف لے جاتے ہیں، پھر قبر میں واپس آ جاتی ہے۔
(مسند احمد، صحیح مسلم)
3️⃣ نیند اور روح کا قبض ہونا
قرآن اور حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ نیند موت کی بہن ہے:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَتِلْوَاهَا الَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا
(سورۃ الزمر 42، مفہوم)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ قبض روح کرتا ہے جب موت آتی ہے، اور جو لوگ مرے نہیں ان کی روحیں نیند میں رکھی جاتی ہیں۔”
حدیث میں بھی آیا:
“نیند موت کی چھوٹی بہن ہے، اور موت کے وقت روح نکال دی جاتی ہے۔”
(ابن ماجہ، سنن)
تشریح:
نیند کے دوران روح جزوی طور پر جسم سے الگ ہوتی ہے، اور جسم کچھ حد تک بے حس ہوتا ہے۔ موت میں یہ عمل مکمل اور دائم ہوتا ہے۔
4️⃣ روح اور دل کا تعلق
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، وہ دل ہے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
تشریح:
روح کا تعلق دل سے خاص ہے، مگر اس کا اثر پورے جسم میں محسوس ہوتا ہے۔ موت کے وقت پورے جسم کی بے حسی اس بات کی دلیل ہے کہ روح جسم کے ہر حصے سے مربوط ہوتی ہے۔
5️⃣ روح کے سفر کے مراحل.
علماء کے مطابق روح کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے:
1.عالمِ ارواح: دنیا سے پہلے
2.دنیا کی زندگی: جسم میں روح کی موجودگی
3.عالمِ برزخ: موت کے بعد
4.قیامت کے بعد: ابدی زندگی
قرآن میں عالمِ ارواح کا واقعہ بیان ہوا ہے:
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَىٰ (الأعراف 172)
6️⃣ ارواح کی ملاقات اور اثرات
نیک روحیں عالمِ برزخ میں آپس میں ملاقات کرتی ہیں اور پہچانتی ہیں۔
مرنے والے مومن کی روح اپنے اہلِ خانہ کے اعمال دیکھ سکتی ہے اور خوش ہوتی ہے۔
روح دوبارہ دنیا میں نہیں آتی، بلکہ قیامت تک برزخ میں رہتی ہے۔
7️⃣ جانوروں، جنات اور فرشتوں میں روح۔
جانوروں میں بھی روح ہے اور وہ بھی زندہ مخلوق ہیں۔
قیامت کے دن جانوروں کے درمیان انصاف ہوگا اور پھر وہ مٹی میں تبدیل ہو جائیں گے۔
جنات میں روح ہوتی ہے اور وہ جزا و سزا کے مستحق ہیں۔
فرشتوں میں بھی روح ہے اور وہ اللہ کے حکم سے کام کرتے ہیں۔
8️⃣ روح کے اثرات
روح انسان کے دل، دماغ اور جسم سے مربوط ہے اور یہ روح ہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے جسم پر ہمارا کنٹرول
رہتا ہے جب روح نکل جاتی ہے تو ہمارا اپنے جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا۔
روح کے ذریعے شعور، احساس، عمل اور عبادت ممکن ہوتی ہے
نیک روح برزخ میں راحت پاتی ہے، بد روح عذاب بھگتتی ہے
نیند روح کے جزوی قبض اور رہائش کا مظہر ہے، جبکہ موت میں قبض مکمل اور دائمی ہوتا ہے
*حرف آخر*
1.روح اللہ کی سب سے اعلیٰ تخلیق ہے، اور اس کے متعلق انسان کو تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
2.روح جسم میں زندگی، حرکت، شعور اور احساس لاتی ہے، دل اس کا مرکز ہے اور پورے جسم سے مربوط ہے۔
3.موت اور نیند دونوں روح کے قبض و رہائش سے متعلق ہیں: نیند جزوی، موت دائمی۔
4.روحیں عالمِ برزخ میں ملاقات کر سکتی ہیں، نیک روحیں خوش ہوتی ہیں، لیکن روح دوبارہ دنیا میں نہیں آتی۔
5.جانور، جنات اور فرشتے بھی روح رکھتے ہیں، لیکن جزا و سزا انسان اور جنات کے لیے مخصوص ہے۔
الدعاء:
یا اللہ تعالٰی جو کچھ مجھے تو نے عنایت کیا ہے وہ تیرا ہی ہے جب تو چاہے اس سب کو سلب کرنے پر قادر ہے بس جب تک یہ زندگی ہے مجھے مسلمان ہی رکھنا اور جب موت آئے تو ایمان پر موت دینا خاتمہ بلایمان کرنا اور اپنی رحمت کے وسیلے سے بغیر حساب جنت الفردوس عطا فرمانا۔
آمین یا رب العالمین
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333