افسانہ
عنوان۔دم رخصت
تحریر۔ڈاکٹر پونم نورین گوندل
شہر لاہور کے ایک مضافاتی علاقے میں ایک ڈاکٹر رہتا تھا اس کی قابلیت کا شہرہ ،چہار سو تھا ،علاقے کے سیانے کہتے تھے کہ وہُ کسی بھی مریض کی نبض دیکھ کر اس کے مرنے کا وقت بتا دیتا ہے۔
ویسے تو زندگی اور موت کے فیصلےاللہ کے ہاتھ میں
ہیں مگر اس شہر کا شاید ہی کوئ مرد یا عورت ہوتا جو مرنے سے پہلے اس ڈاکٹر کا مریض نہ بنتا۔
مرنے والے کو یہ آس ہوتی کہ شاید ڈاکٹر آس کا کوئ جگنو اس کی ہتھیلی پہ روشن کر دے اور مریض کے عزیز رشتے دار اس خبط میں مبتلا ہوتے کہُ مزید کتنی کٹھنا یُ رہ گیی ہے۔
ڈاکٹر کا کلینک روز طرح طرح کے لوگوں سے بھرا رہتا،کوئ اپنے باپ کو لے آتا،کوئ ماں کو، کوئ دادی کو تو کوئ آخری سانسیں لیتی ہویُُ نانی کو۔
ڈاکٹر مریض کو غور سے دیکھتا،نبض تھامتا،چند لمحے خاموش رہتا پھر ایک تاریخ بتا دیتا۔
حتی کہ ایک بار اس کے پرانے،بچپن کے دوست کےُ بارے میں بتایا گیا موت کا دن بھی بالکل ہی درست ہو گیا تھا۰
ایسا اکثر ہی ہوتا کہ اس ڈاکٹر کی بتای ہوئی تاریخ ہی دم رخصت بن جاتی۔اسی وجہ سے اس کی شہرت ایک معالج سے بڑھ کر قسمت کے ترجمان جیسی ہو گیی تھی۔
قسمت کے ترجمان نے جب اپنی کینسر سے مرتیُ ہوی ماں کے بارے میں کہا کہ امی جیُ کے پاس رات صرف آج ہی کی ہے تو برلب موت ماں نے کوئ دوہائی نہ دی تھی بس شکوہ کناں نگاہوں سے اپنے بیٹے کو دیکھ کر رہ گئئ تھیُ اور جب گھر کا کام کاج کرنے والی ماسی گلشن کو اس کے شوہر کے بارے میں بتایا کہُ بس دو ہی راتیں بچی ہیں تو وہ بیچارہ صدمے سے اسی رات ہی گزر گیا تھا۔
پہلے پہل ڈاکٹر کو اپنی اس خوبی پہ فخر ہوتا تھاپھر اسے الجھن ہونے لگی،اب یہُ الجھن نامی بھوت اس کے شب و روز پہ اتنا حاوی ہو گیا کہ اس کی نیندیں بھی اڑن چھو ہوئیں اور دن کا چین قرار بھیُ
ہوتے ہوتے وہ ایکُ انجانی گھبراہٹ کا شکار ہو گیاُُ
ایک شام کلنک میں رش کم تھا،ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی اور سورج ڈوبا ہی چاہتا تھا،اسی وقت دروازہ آہستہ سے کھلا،ڈاکٹر نے سر اٹھایا۔۔۔۔۔۔اور جیسے اس کی سانس رک گئی۔۔۔۔۔
دروازے پر سمانا کھڑی تھی۔
وہی سمانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسے ڈاکٹر ُ برسوں پہلے دل ہی دل میں چاہتا تھا۰
سمانا کا رنگ شہابی ہی تھا لیکن وقت اور بیماری نےاس کے چہرے پہ تھکن کے ہلکے ہلکے نشان ڈال دیئے تھے مگر اس کی آنکھوں کی چمک ویسی تھی،کنچے جیسی نیلی آنکھوں کا رعب ہنوز تھا،جیسے وقت ان حسین آنکھوں کو چھوے بغیر گزر گیا ہو۰
سمانا آ کر کرسی پہ بیٹھ گیئ۰پھر اس نے دھیمی آواز سے کہا،سنا ہے تم موت کا دن بتا دیتے ہو۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ڈاکٹر کے ہاتھ میں پکڑا ہوا قلم اس کے ہاتھوں سے نکل گیا،
لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے بمشکل کہا
سمانا مسکرای،مگر اس مسکراہٹ میں عجب سی اداسی تھی۰
تو پھر مجھے بھی بتا دو میرا دم رخصت کب ہے؟؟؟؟
کمرے میں یکدم جان لیوا سناٹا چھا گیا۰
ڈاکٹر نے اس کی نبض پکڑی،اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ وہ کسی اجنبی مریض کی نہیں بلکہ اپنے ماضی کی نبض تھامے بیٹھا ہے،
ڈاکٹر کو لگا جیسے موت اس کے دروازے پہ کھڑی ہے،اس نے بجھے دل اور دکھی روح کے ساتھ نسخے والے کاغذ پہ ایک تاریخ لکھ کے سمانا کو تھما دی جیسے کوئ خود ہی اپنی موت کے پروانے پہ دستخط کر دے۰اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ۔ کسی کو اس کی موت کے بارے میں بتا نا کتنا مشکل ہے اس کے ذہن میں یکا یک وہ سارے چہرے گھوم گئیے جنہیں اس نے موت کی تاریخ بتای تھی اور وہ اسی دن دنیا سے رخصت ہو گئیے تھےُسمانا نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے نسخہ تھا ما اور بولی کیا ہو گیا ڈاکٹر صاحب کیا آج حساب مشکل ہو گیا؟؟؟؟؟؟؟؟ڈا کٹر نے پہلی مرتبہ اشکبار آنکھوں کو اپنی ہتھیلیوں کے پیالے میں چھپا لیا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ایک دن ایک لاغر ،ضعیف بوڑھا دو کندھوں کے سہارے لڑ کھڑاتا ہوا ڈاکٹر کے کلینک میں داخل ہوا ڈاکٹر نے اس کی نبض دیکھتے ہی کہہ دیا صرف دن باقی ہیں
بوڑھے نے صدمے سے ہکلاتے ہوئے آدھ کھلے منہ سے کہا صرف تین دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن تو اپنے گناہوں کے کفارے کے لیے بہت ہوتے
ہیں،ڈاکٹر نے دھیرے سے کہا شاید بزرگ جان گیا اور اس نے ان تین دنوں میں اپنی آلودہ روح پہ سوار سارا بوجھ اتار پھینکا اس نے سارے رشتہ داروں اور اہل محلہ کے گھروں میں جا کر ان سے معافی مانگی جب اس کی روح کی ساری میل اتر گئی تو اسے موت سے ذرا بھی
خوف محسوس نہ ہوا اور وہ کھلے صحن میں بان کی چارپائی پہ تاروں کو تکتے ہوئے اپنی موت کا انتظار کرنے لگامگر موت اسُ تک نہ پہنچ پای اگلے دن وہ بھاگا ہوا ڈاکٹر کے پاس گیا تاکہ اسے جی بھر کے شرمندہ کر سکے مگر ڈاکٹر کے صرف ایک ہی فقرے نے بابے کی ساری چالاکی اڑن چھو کر دی،اس نے کہا بابا جی جب لالٹین کا تیل ختم ہونے پہ آ جاتا ہے ناں تو دیئے کی لو بجھنے پہ آ جاتئ ہے جہان دیدہ بابا ڈاکٹر کا ہاتھ چوم کے کمرے سے نکل گیا،ڈاکٹر نے نرس کو آرام کا کہا اور ریست روم میں چلا گیا اگلے دن ٹھیک صبح آٹھ بجے جب صفای والے نے ڈاکٹر کا کمرہ صفای کے لیے کھولا تو چونک گیا نسخے پہ ڈاکٹر نے اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کی تاریخ لکھ چھوڑی تھی اور اس کی خالی آنکھوں اور مردہ تن بدن میں کسی کے لیے کوئ سوال نہ تھا۰
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہوری
منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور
(عبدالاحد) – لاہور کا وہ بیٹا جس نے 18 سال بعد اپنی ماں کو ایک ‘دلہن’ کے طور پر رخصت کیا اور ثابت کر دیا کہ اگر بچے چاہیں تو ماں کے اکیلے پن کو خوشیوں میں بدل سکتے ہیں!
میرپورخاص (شاھدمیمن) شہادت امام محمد تقی علیہ السلام کے سلسلے میں مرکزی حیدری امام بارگاہ
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)گسٹا تعلقہ دوڑ کے الیکشن،الشہباز پینل کے تمام امیدوار بنا مقابلہ
28 ویں ترمیم میں ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز زیرغور ہے۔رانا ثنااللہ