اسلام آباد ہائیکورٹ کی گزشتہ تقریباً دس ماہ کی سماعتوں میں پی ٹی اے نے چیئرمین اور وکلاء نے ہمیشہ یہی کہا کہ پی ٹی اے نے کسی ایجنسی کو شہریوں کی سرویلنس کی اجازت دی نہ ہی کسی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو ایسی اجازت دینے کی ڈائریکشن دی لیکن ٹیلی کمیونیکیشن