اسلام آباد ہائیکورٹ کی گزشتہ تقریباً دس ماہ کی سماعتوں میں پی ٹی اے نے چیئرمین اور وکلاء نے ہمیشہ یہی کہا کہ پی ٹی اے نے کسی ایجنسی کو شہریوں کی سرویلنس کی اجازت دی نہ ہی کسی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو ایسی اجازت دینے کی ڈائریکشن دی لیکن ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیز نے عدالت کے سامنے سارا کٹھا چٹھا کھول کر رکھ دیا کہ پی ٹی اے کی لائسنس حاصل کرنے کی شرط یہ ہے کہ ٹیلی کام کمپنی نے مجاز انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک سسٹم لگا کر دینا اور اُس کا خرچ بھی اٹھانا ہے جس کے ذریعے وہ جس بھی شہری کا جو بھی ڈیٹا حاصل کرنا چاہیں کر سکیں. اسی غلط بیانی پر جسٹس بابر ستار نے چیئرمین پی ٹی اے اور ممبران کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]