*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : مسلم دنیا کی ایک عظیم خاتون شخصیت*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دور سے ہی مسلم امہ کے بدترین دشمنوں میں یہودی صف اوّل پر تھے اور آج تک ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ھے کہ ہر دور میں مشرکین و کافرین کی شرانگیزیوں کی سرپرستی یہودی کیا کرتے تھے اور ان میں وہ طبقہ جو زائینسٹ تھا اور ھے اس نے تمام وحشی پن میں کوئی کسر نہ چھوڑی انکی انہی بدکرداری کے سبب ہٹلر نے ان کا بے دردی سے قتل کیا جو انمنٹ تاریخ کا حصہ ہیں بحرکیف میں بات کررھا ھوں کہ وہ مسلم سپہ سالار اور مسلم حکمران جو دین محمدی ﷺ سے گہرا لگاؤ اور جڑے رہتے تھے اور رہتے ہیں وہ دشمنانان اسلام کی ہر چال، ہر مکاری، ہر سازش اور ہر منافقت کو بہترین انداز میں بھانپ لیتے تھے اور ہیں اور انہی کی چالوں سے انہیں شکست دیدیا کرتے تھے اور کرتے ہیں مگر کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ اپنی آستین کے سانپوں اور غداروں کے سبب جیتی جنگیں شکست میں بدل جاتی تھیں اور بدلتی جارہی ہیں۔ یہودی دجال کے اصل وارث ہیں اسی سبب ہر شیطانی و خباثت عمل کرنے سے ذرا بھی نہیں کتراتے اور نہ ہی لحاظ و مروت اور شرم کا پاس رکھتے ہیں، جیسے کہ مسلمانوں پر ظلم و زیادتی اور بربریت کرنے میں انہیں راحت و سکون ملتا رہتا تھا اور ھے، اسی لئے مسلم امہ میں اگر کوئی قابل، ذہین، فطین، اہل اور مضبوط ایمان یافتہ نظر آجائے تو کسی نہ کسی طریقے سے اسے مروا دیتے ہیں یا اسے اپنی چالوں سے مجرم قرار کرا کر عمر قید کروا دیتے ہیں۔ اس بابت مسلم امہ کے دیگر ممالک سمیت پاکستان کے ذہین و قابل لڑکیوں اور لڑکوں، اسکالرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کی تاریخیں موجود ہیں جنھیں یہودیوں نے اپنے ظلم کا نشانہ بنایا لیکن آج میں ایک مسلم خاتون سائنسدان کا ذکر اپنے کالم کا عنوان بنا رھا ھوں جس کی قابلیت و اہلیت سے یہودی گھبرا اٹھے تھے یاد رھے کہ عثمانیہ دور سے ہی یہودیوں کی ناجائز اولاد امریکہ نے یہودیوں کو پڑوان چڑھانے کیلئے پوری دنیا سے دشمنی لی اور اب سپر پاور بنکر اسرائیلی یہودیوں کے ظلم و ستم کو بڑھانے کیلئے مالی و جنگی تعاون بناء کسی شرط کے مفت فراہم کررھا ھے۔ خیر یہ موضوع بہت بڑا ھے میں اپنے معزز قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کہ مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی سائنسدان خاتون سمیرا موسیٰ تین مارچ سنہ انیس سو سترہ عیسوی کو پیدا ہوئیں۔ انہیں پانچ اگست سنہ انیس سو باون عیسوی میں یہودیوں نے سازش کرکے ایک حادثے میں قتل کردیا تھا۔ وہ غربیہ گورنریٹ کے زیفتا سینٹر کے گاؤں میں پیدا ہوئی تھیں، وہ پہلی مصری ایٹمی سائنسدان خاتون ہیں اور قاہرہ یونیورسٹی میں فیکلٹی آف سائنس میں پہلی ٹیچنگ اسسٹنٹ رہیں۔ اس وقت لڑکیوں کیلئے یہ ڈگری اور پوزیشن حاصل کرنا عام بات نہیں تھی۔ سمیرا موسیٰ کی ذہانت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے سیکنڈری اسکول کے پہلے سال میں الجبرا کی سرکاری کتاب میں غلطیاں نکال کر انکی درستگی کی، اسے اپنے والد کے خرچے پر چھپایا، اور سنہ انیس سو تینتیس عیسوی میں اسے اپنے ساتھیوں میں مفت تقسیم کیا۔ سمیرا نے گیسوں کی تھرمل کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور ایک مشن پر برطانیہ گئیں جہاں انہوں نے جوہری تابکاری کا مطالعہ کیا اور ایکس رے اور مختلف اشیاء پر اسکے اثرات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے ایک سال اور پانچ ماہ میں ہی اپنا مقالہ مکمل کرلیا تھا اور دوسرا سال مسلسل تحقیق میں گزارا جس کے بعد وہ ایک اہم مساوات پر پہنچیں جسے اس وقت مغربی دنیا میں قبول نہیں کیا گیا تھا جو کہ تانبے جیسی سستی دھاتوں کو فشن ری ایکشن پر مجبور کرتا ہے اور پھر ایسے مواد سے ایٹم بم کی تیاری جو ہر کسی کیلئے قابل رسائی ہو لیکن اسے ڈاکٹر سمیرا موسیٰ کی عرب سائنسی تحقیق میں لکھا نہیں گیا ہے!! انکی بھرپور ذہانت اور کامیاب تجربات و مشاہدات کو دیکھتے ہوئے یہودی ایجنسی موساد نے انھیں امریکہ میں ایک کار حادثے میں قتل کروا دیا تھا۔ یاد رھے کہ مسلم امہ کی ذہین، قابل، فطین شخصیات کو یہودی کارفرماؤں اور انکے سہولتکاروں سے ہر وقت چوکنا رہنا چاہئے۔۔۔!!