9

رمضان المبارک: رحمتوں سے بھرپور اصلاح نفس کا مقدس مہینہ کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی

رمضان المبارک: رحمتوں سے بھرپور اصلاح نفس کا مقدس مہینہ

کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
فون نمبر: 03333737575

رمضان المبارک اسلام کے مقدس مہینوں میں سے ایک ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر خاص رحمت اور برکت کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس کی پابندی کا نام نہیں، بلکہ یہ روحانی تربیت، نفسیاتی اصلاح اور اخلاقی بہتری کا مہینہ ہے۔ ہر سال جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کے دلوں میں ایک نئی روحانی بیداری پیدا ہوتی ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اپنے نفس، سماج اور رب کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

رمضان کا اصل مقصد انسان کی اندرونی اصلاح ہے۔ روزہ رکھنے سے جسمانی قابو آتا ہے، مگر اس سے زیادہ اہم دل اور روح کی پاکیزگی ہے۔ جب شخص سحر سے افطار تک بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو روکتا ہے، اپنی نفسیاتی ضرورتوں پر قابو پاتا ہے اور صبر و شکر کا عظیم سبق حاصل کرتا ہے۔ یہ مہینہ انسان کو سکھاتا ہے کہ صبر، تحمل اور استقلال زندگی کے لازمی اجزاء ہیں۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ روزے تم پر فرض کیے گئے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل، نیت، سوچ اور دل کی پاکیزگی سے جڑا ہے۔ رمضان کے دوران انسان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ صرف کھانے پینے تک محدود نہ رہے، بلکہ اپنی زبان، نظر، اعمال اور سوچ کو بھی درست رکھے۔ ہر غلط بات، جھوٹ، غیبت یا ظلم سے بچنا روزے کے روحانی مقصد کا حصہ ہے۔

رمضان المبارک قرآن پاک کے نزول کا مہینہ بھی ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے ہدایت اور روشنی کا سرچشمہ ہے۔ تراویح کی نماز میں قرآن کی تلاوت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے، آنکھوں میں آنسو لاتی ہے اور انسان کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے۔ رمضان کا حقیقی مقصد صرف روزہ رکھنا نہیں، بلکہ قرآن کے پیغام کو اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف روزہ رکھے مگر قرآن اور اللہ کے احکام پر عمل نہ کرے تو روزے کا حقیقی مقصد پورا نہیں ہوتا۔

یہ مہینہ رحمتوں کا مہینہ ہے۔ پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص فضل فرماتا ہے، گناہوں کو معاف کرتا ہے اور دعائیں قبول فرماتا ہے۔ ایسے مہینے میں اگر انسان توبہ کرے، اپنی غلطیاں پہچانے اور دل کی سچائی کے ساتھ اللہ کے حضور واپس آئے تو اس کی زندگی سنور جاتی ہے۔

رمضان المبارک سماجی ہمدردی اور سخاوت کا مہینہ بھی ہے۔ جب انسان بھوک اور پیاس کا احساس کرتا ہے تو اسے اُن لوگوں کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے جو غریب، محتاج یا ضرورت مند ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ اور فطرانہ دینے سے معاشرہ میں توازن پیدا ہوتا ہے، غریب اور محتاج لوگوں کی مدد ہوتی ہے اور انسان کے دل میں سخاوت اور ہمدردی بڑھتی ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرے میں انصاف، برابری اور بھائی چارہ قائم رکھنا ضروری ہے۔

افطار اور سحر کا ماحول خاص روحانی سکون فراہم کرتا ہے۔ پہلا گھونٹ پانی کا، افطار میں کھانا پینا، سب کچھ انسان کے دل کو اللہ کی رحمت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ لمحہ یاد دلاتا ہے کہ ہر نعمت اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا شکر ادا کرنا لازم ہے۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ افطار کرنا محبت، صلح اور سماجی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔

رمضان مہینہ صبر اور برداشت سکھاتا ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے نہیں بلکہ انسان کو اپنے غصہ، حسد، رشک، جھوٹ اور غیبت سے بھی بچاتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھے مگر ظلم کرے، جھگڑا پیدا کرے یا ناانصافی کرے تو روزے کا اصل مقصد متاثر ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ روزہ صرف بھوک اور پیاس سے نہیں بلکہ نفس پر قابو پانے سے مکمل ہوتا ہے۔

یہ مہینہ روحانی سکون اور اندرونی امن کا سرچشمہ ہے۔ دنیا کی مصروفیات، پریشانیاں اور دکھ انسان کو گھیر لیتے ہیں، مگر جب وہ اللہ کے حضور عبادت کرے، دعا مانگے اور توبہ کرے تو دل کو عجیب سکون اور راحت حاصل ہوتی ہے۔ رمضان انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت، آرام اور آسرا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

شب قدر کا تصور رمضان کو اور بھی اہم بناتا ہے۔ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جس میں اللہ تعالیٰ خاص رحمتیں اور قبولیت عطا فرماتا ہے۔ مؤمن اس رات کو عبادت، دعا، استغفار اور قرآن کی تلاوت میں گزارتا ہے تاکہ زندگی میں نیکی، برکت اور روحانی ترقی حاصل ہو۔

رمضان المبارک اخلاق، اخلاص اور عبادت کا مہینہ ہے۔ انسان کو سکھاتا ہے کہ زندگی میں صرف اپنی خواہشات کے پیچھے نہ بھاگے بلکہ دوسروں کی مدد، سخاوت اور خدمت خلق میں مشغول رہے۔ ہر قدم میں صبر، عاجزی، شکر اور شائستگی رکھنے سے انسانی زندگی بہتر بنتی ہے۔

رمضان کے دوران انسانی رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ خاندانی ملاقاتیں، افطار کی محفلیں اور ساتھ عبادت دلوں میں محبت بڑھاتی ہیں۔ معاشرے میں بھائی چارہ قائم ہوتا ہے، اختلافات کو بھلایا جاتا ہے اور لوگوں میں ہمدردی بڑھتی ہے۔ رمضان سکھاتا ہے کہ ایک دوسرے کو معاف کرنا، محبت سے پیش آنا اور خدمت خلق میں مشغول رہنا ہی انسانی زندگی کا اصل مقصد ہے۔

یہ مہینہ صرف روحانی تربیت کے لیے نہیں بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔ روزہ رکھنے سے جسم میں نئی توانائی پیدا ہوتی ہے، صفائی اور نظم قائم ہوتا ہے، اور ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔ روزہ دار کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی خراب عادتیں چھوڑے، نئی اچھی عادتیں اختیار کرے اور اپنی شخصیت کو بہتر بنائے۔

بدقسمتی سے بعض اوقات رمضان کو صرف ظاہری رسم اور بازار کی تیاریوں تک محدود کیا جاتا ہے۔ لوگ مہنگائی، فضول خرچی اور ظاہری خوشیوں پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ اصل مقصد عبادت، اخلاص، صبر، شکر اور توبہ ہے۔ رمضان کا حقیقی فائدہ صرف اُن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اپنی زندگی میں اصل تبدیلی لاتے ہیں۔

رمضان المبارک انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور ان کا شکر ادا کرنا لازم ہے۔ یہ مہینہ انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر حال میں صبر، استقامت اور شکر کی حالت برقرار رکھی جائے۔ جب ہم دل اور عمل دونوں سے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو زندگی میں حقیقی سکون اور امن حاصل ہوتا ہے۔

رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر دن ایک نئی شروعات ہے۔ ہر روزہ، ہر نماز، ہر دعا اور ہر صدقہ انسان کو اپنے رب کے قریب لاتا ہے۔ جب ہم رمضان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں تو ہم نہ صرف اپنے نفس کو سنواریں بلکہ معاشرے میں بھی بہتری، محبت اور اخلاص پیدا کرتے ہیں۔

رمضان کی آمد کے ساتھ زندگی میں نظم، ضبط، صبر اور اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ انسان کو یاد آتا ہے کہ دنیاوی چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگنا بلکہ رب کی رضا حاصل کرنا اور انسانیت کی خدمت کرنا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے ہر قدم میں اخلاق، عبادت اور نیک اعمال اختیار کیے جائیں۔

یہ مہینہ صرف 30 دن کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے ہر دن کے لیے سبق دیتا ہے۔ اگر انسان رمضان کے روح کو سمجھے اور اس پر عمل کرے تو وہ ایک بہتر انسان بن سکتا ہے، جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرہ اور قوم کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو۔

رمضان المبارک ہمارے لیے ایک ایسا مہینہ ہے، جو دلوں کو نرم کرتا ہے، روح کو پاک کرتا ہے، کردار کو سنوارتا ہے اور معاشرے میں نیکی اور ہمدردی کے پیغام دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہر مسلمان کے لیے اپنے رب کے قرب حاصل کرنے، اپنے نفس پر قابو پانے اور زندگی کو بہتر بنانے کا سنہری موقع ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو رمضان المبارک کی برکتوں سے مکمل فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے روزے، عبادات اور دعائیں قبول فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں اپنی رضا اور قرب حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں