کوڑا کرکٹ، پان کی پچکاریاں اورنصف ایمان
وہ مکہ کی ایک جاہل، شر پسند اور جاہل بڑھیا تھی جو روزانہ چھت سے گلی میں حضور پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم گزرنے پہ کوڑا کرکٹ پھینکتی اور حضور پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کا مذاق اڑاتی تھی. سلام ہے آمنہ کے لعل پہ کہ انھوں نے اس زیادتی پہ کبھی اف بھی نہ کی تھی ایک دن جب کوڑا کرکٹ پھینکنے والی عورت کے غیض و غضب سے بچ گیے تو رسول عربی نے اوپر جا کے دیکھا تو وہ بڑھیا بخار میں تپ رہی تھی، اس کسمپرسی کے عالم میں رسول کریم کے اچھے اخلاق اور احسن سلوک سے بڑھیا اتنی متاثر ہوی کہ اس نے صحت یاب ہوتے ہی اسلام قبول کر لیا. طایف کے شرارتی لڑکوں کے جتھے نے بھی رسول پاک کو جب پتھر مار مار کر لہو لہان کر دیا اور جبرائیل علیہ سلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہا کہ حکم دیجیے، طایف شہر کو پہاڑوں کے بیچ ہی کچل دوں مگر رحمت العالمین نے ایذا پہنچانے والوں کو بھی معاف کر دیا اور جب دوران سجدہ ابو لہب، عتبہ اور شیبہ نے جب اوجھڑی جیسی غلاظت رسول پاک کی پشت پہ لا رکھی اور ٹھٹھے لگاے تو وہ غلاظت رسول پاک کی دختر نیک اختر جنت کی عورتوں کی سردار نے اپنے ننھے ہاتھوں سے روتے ہوے اٹھای تھی. صفائی کیا ہے صفائی نصف ایمان ہے، صفائی ایک ضابطہ حیات ہے، صفای ایک ضابطہ اخلاق ہے. صفائی بیماری سے بچاو کا تیر بہدف نسخہ ہے. دنیا کی تمام اقوام علی الصبح اللہ پاک کی حمد و ثنا کے بعد صفائی ستھرائی میں جت جاتی ہیں. جھاڑو، بانسی جھاڑو، فرشی جھاڑو، تپڑیاں، ڈسٹر، وایپرز، موپس،مختلف اقسام کے ڈٹرجنٹس، جالے اتارنے والے ڈسٹر، دیواروں اور چھت کے پنکھوں کی صفائی کے لیے اونچی اونچی فولڈر سیڑھیاں یا گھوڑیاں اور ان کاموں پہ معمور عملے کے اراکین. پوری دُنیا میں انیس بیس کے فرق کے ساتھ صفائی کا کام ایسے ہی چلتا ہے. صفای ستھرائی اتنی ہی ضروری ہے، جتنا کھانا پینا اور پہننا اوڑھنا. کچھ خواتین تو صفائی ستھرائی کی اتنی زیادہ دلدادہ ہوتی ہیں کہ انہیں صفائی ستھرائی سے بڑھ کے نہ کچھ دکھتا ہے اور نہ ہی وہ دیکھنا چاہتی ہیں. ہر وقت جھاڑو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے ان کی بلا سے کوی مرے یا کوی جیے.
کچھ لوگ ہر وقت ہاتھ ہی دھوتے رہتے ہیں، یہ ایک طرح کی ذہنی بیماری ہے، جس میں مبتلا افراد کسی نہ کسی قسم کی ناپاکی کے شدید اور نہ ختم ہونے والے احساس میں مبتلا رہتے ہیں اور ہر وقت ہاتھ دھونے یا نہانے میں ہی لگے رہتے ہیں، نہ انھیں اپنے کا م کی پروا ہوتی ہے نہ گھر کے دیگر افراد کی ان کی بلا سے کوئی مرے یا جیے وہ تو اپنی بیماری (OCD) کے ہاتھوں مر رہے ہوتے ہیں. صاف ستھرے لوگ اور گھرانے سب کو ہی اچھے لگتے ہیں. لیکن کہتے ہیں ناں کہ
Excess of everything is a poison
تو ضرورت سے زیادہ صفائی اور ضرورت سے زیادہ گندگی دونوں ہی ابنارمل روییے ہیں.
شکیلہ ہاشمی اتنی زیادہ صفائی پسند تھیں کہ ان کے گھر کا فرنیچر ایسے چمکتا تھا، جیسے ابھی ابھی شو روم سے لا کے گھر میں سجایا گیا ہو، بیٹے کی شادی بدقسمتی سے ایک ایسی خاتون سے ہو گیی جو لاڈوں پٹی تھی، ہل کے پانی بھی نہ پی سکتی تھی. صحت مند شکیلہ ہاشمی کو تو اپنی لاڈلی بہو کی ذرا تکلیف نہ تھی مگر بڑھاپے میں جب شکیلہ ہاشمی کی باییں ٹانگ کا neck of femur کا فریکچر ہوا اور وہ چھ ماہ تک صرف بستر کی ہو کر رہ گءی اور گھر ایسے کوڑ کباڑ ہو گیا جیسے واقعی میں کسی شہر کی روڑی ہو تو نفاست پسند شکیلہ ہاشمی تو گھر میں لگے اس روڑی کے ڈھیر کو دیکھ کر ہی ہوکے سے مر گیی تھیں.
ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے صفائی کا درس بچپن ہی سے خوب دیا جاتا ہے مگر یہ تمام اسباق اور تعلیمات صرف کتابوں تک ہی محدود ہیں میں نے صفائی ستھرائی اور ادب آداب میں جتنا یورپی اقوامِ کو آگے دیکھا کسی اور کو نہ دیکھا. وہ قطار بناتے ہیں،
بڑے تحمل سے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں.
کچرے اور کوڑے کرکٹ کو جگہ جگہ پہ پھیکنے کے کوڑے دانوں میں پھینکتے ہیں. جگہ جگہ پہ تھو کتے نہیں پھرتے، جگہ جگہ پہ پیشاب پاخانہ نہیں کرتے مگر مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم من حیث القوم جہاں دوسری بہت ہی اخلاقی گرواٹوں کا شکار ہیں ہم گندگی پھیلانے میں بھی کسی سے، کسی لحاظ سے پیچھے نہیں ہیں . ہسپتالوں میں گڈوی والے اگر کسی مریض کے ساتھ آ جایں سہی، پھر ہسپتال کی،دیواروں، دروازوں بستر کی چادروں کی خیر نہیں یہ لوگ بھلے دوا کھایں نہ کھائیں پان کی پچکاریاں جا بجا فوارے کی طرح پھینکتے ضرور دکھای دیتے ہیں. مجھے ایک ایمرجنسی کو ڈیل کرنے کلنک جلدی پہنچنا تھا، میری سائیڈ سے ایک گاڑی زن سے گزری اور انھوں نے چھلکوں سے بھرا ایک بڑا شاپر بیچ سڑک میں پھینکا اور یہ جا وہ جا. تھوک، کھنگار،پیشاب پاخانہ وہ غلاظتیں ہیں جو ہمارے عوام اپنا حق سمجھ کے جا بجا یہ کام سر عام انجام دے رہے ہوتے ہیں مگر یہی لوگ مغربی ممالک میں جا کے ایسے سیدھے ہوتے ہیں کہ ہر کام مقررہ جگہ پہ جا کرتے ہیں، بھلے مثانہ پھٹ کے باہر ہی کیوں نہ آجائے. ہمیں اب صفائی ستھرائی کو عین عبادت سمجھ کر اپنے اوپر لاگو کرنا ہو گا ورنہ تماشا توہم نے اپنا پہلے ہی بہت بنوا لیا ہے، شاید ہم بھی من حیث القوم صفائی ستھرائی کا بھرم رکھ پاییں.
صفائی ہے نصف ایمان
صفائی ہے نصف ایمان
کرتے ہیں اعلان
خدارا ملک چمکاییے
کسی سے مار نہ کھاییے
کہ اپنے تن کے ساتھ
اپنا من بھی مہکایے
صفائی ہے نصف ایمان
اسی میں ہے اپنی شان
اس سے پھیلے گا اسلام
صفائی ہےنصف ایمان
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drnaureenpunnam@gmail.com
نظام پر لعنت اور معاشرے کے منہ پر تھپڑ
بہا ولنگر ( ) ڈی پی او بہاولنگر فلائٹ لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) حافظ کامران اصغر کی ہدایت پر ضلعی
نازش اسلم ایڈوکیٹ مسلم لیگ ن کی ایڈیشنل سیکرٹری وومن ونگ فیصل آباد ڈویژن مقرر۔
رمضان کا خاص خیال رکھو کیونکہ یہ اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے۔ اکرام الدین
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ کراچی شہر ملک