13

پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ: عام آدمی کی زندگی پر منفی اثرات.!!! غلام مصطفیٰ جمالی

پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ: عام آدمی کی زندگی پر منفی اثرات.!!!
غلام مصطفیٰ جمالی
03333737575
پاکستان میں موجودہ معاشی صورتحال ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ روزمرہ کی زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، پینے کا صاف پانی، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی کی زندگی پر شدید اثر ڈال رہی ہیں۔ مہنگائی کے اثرات صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں اور دور دراز علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔
روزمرہ زندگی میں مہنگائی کے اثرات ہر شعبے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، خوراک کی اشیاء ہر گھر کی سب سے اہم ضرورت ہیں، اور ان کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے عام لوگ اپنے روزمرہ کے اخراجات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔ آٹا، سبزیاں، گوشت، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ لوگ صرف بنیادی ضروریات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں اور تفریح یا اضافی خریداری سے گریز کر رہے ہیں۔ کئی خاندان روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض پر انحصار کر رہے ہیں، جو ان کی مالی حالت کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے بڑھنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صارفین اور کاروبار دونوں پر مالی دباؤ ڈال رہی ہیں۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر صنعت اور کاروبار کے لیے بڑا مسئلہ بن گیا ہے، جس سے پیداوار کی لاگت بڑھ رہی ہے اور یہ اثر آخرکار صارفین تک پہنچ رہا ہے۔ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی میں اضافی اخراجات بڑھ رہے ہیں، جو لوگوں کی مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہے ہیں۔ توانائی کی بڑھتی قیمتیں چھوٹے کاروباروں کو بند ہونے کے خطرے میں ڈال رہی ہیں، اور یہ ہر سطح پر معیشت کی مستحکم ترقی کے لیے خطرناک ہے۔
ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کی قیمتوں میں اضافہ بھی روزمرہ کی اشیاء کی دستیابی پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹیکسی اور کارگو ٹرانسپورٹ کی بڑھتی قیمتیں مزدوروں، طلباء اور کاروباری افراد پر مالی دباؤ ڈال رہی ہیں۔ مزید برآں، پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں، جس سے شہروں اور دیہات میں رہنے والے ہر شخص متاثر ہو رہا ہے۔ گاڑی چلانے، گھر تک سامان پہنچانے اور روزمرہ کے سفر کے اخراجات سب بڑھ گئے ہیں، جو روزمرہ زندگی پر بھاری اثر ڈال رہے ہیں۔
حکومت کی معاشی پالیسیاں اکثر صارفین کی فوری ضروریات کو نظرانداز کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ آئی ایم ایف سے متعلقہ معاہدوں اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے اپنائے گئے اقدامات، جن میں ٹیکسوں اور فیسوں میں اضافہ شامل ہے، عام آدمی پر سخت اثر ڈال رہے ہیں۔ ان پالیسیوں کے سبب عوام پر مالی دباؤ روز بروز بڑھ رہا ہے اور ان کی زندگی میں سادگی اور خوشحالی کم ہو رہی ہے۔ شہروں میں ہر قسم کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اور اس کا اثر خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
شہروں اور دیہات میں روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں فرق بھی بڑھ گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں خوراک کی اشیاء شہروں کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے دیہی لوگ نہ صرف مالی دباؤ محسوس کر رہے ہیں بلکہ ان کی زندگی کے معیار میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ مہنگائی کا دباؤ ان علاقوں میں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے جہاں آمدنی کے ذرائع محدود ہیں اور لوگوں کو کم آمدنی میں اپنے گھر کی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دیہی علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات محدود ہونے کی وجہ سے لوگ مزید مالی دباؤ کا شکار ہیں، اور اس کا اثر سماجی شعور اور ذہنی صحت پر بھی پڑ رہا ہے۔
عام لوگوں کی روزانہ زندگی میں مہنگائی کا اثر سب سے زیادہ خوراک پر پڑتا ہے۔ آٹا، دالیں، سبزیاں، گوشت اور دیگر ضروری اشیاء روزانہ کے اخراجات میں بڑا حصہ رکھتی ہیں۔ ان کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے لوگ اپنی روزمرہ کی خریداری کم کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی خاندان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لے رہے ہیں، جو مستقبل میں ان کی مالی حالت کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ روزانہ کے بجٹ میں کمی اور ضروریات پوری کرنے کی مشکلات خاندانوں پر ذہنی دباؤ ڈال رہی ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ صحت اور تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کے صحت اور تعلیم پر خرچ کم ہو رہا ہے۔ گھر میں بیماری یا بچوں کی تعلیم کے لیے رقم کا بندوبست مشکل ہو رہا ہے۔ کم آمدنی والے والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے میں مشکلات محسوس کر رہے ہیں، اور کئی طلباء تعلیم سے دور ہو رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں ادویات اور طبی سہولیات کی بڑھتی قیمتیں عام آدمی کے لیے بیماری کا علاج مشکل بنا رہی ہیں۔ بڑے شہروں میں صحت کی سہولیات مہنگی اور محدود ہیں، اور دیہی علاقے مکمل طبی سہولیات سے محروم ہیں، جس سے لوگ زیادہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مہنگائی کی بلند شرح کاروبار پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں، اور یہ اثر صارفین پر پڑ رہا ہے۔ مارکیٹ میں مقابلہ کم ہو رہا ہے اور کئی کاروبار نقصان میں ہیں۔ نئی سرمایہ کاری کم ہو گئی ہے کیونکہ مہنگائی اور غیر مستحکم اقتصادی ماحول کی وجہ سے کاروباری اعتماد کم ہو گیا ہے۔ صنعت اور کاروبار کے مالکان اپنے مزدوروں کو مناسب تنخواہ دینے میں مشکلات محسوس کر رہے ہیں، جس سے سماجی طبقات میں فرق بڑھ رہا ہے۔
روزمرہ زندگی پر مہنگائی کا سماجی اور نفسیاتی اثر بھی ہے۔ لوگ مالی کمی کی وجہ سے ذہنی دباؤ محسوس کر رہے ہیں، جو خاندان اور معاشرہ پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔ نوجوان بے روزگاری اور آمدنی کی کمی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں، جس کے اثرات سماجی تعلقات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خاندانوں میں اختلافات بڑھ رہے ہیں، کیونکہ مالی دباؤ جذباتی دباؤ میں بدل رہا ہے۔ سماجی تعلقات میں کمی، برداشت کی کمی اور نفسیاتی اثر مہنگائی کا ایک اور سنگین نتیجہ ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی بلند شرح کے حل کے لیے کچھ تجاویز ہیں۔ سب سے پہلے، حکومت کو چاہیے کہ عوام کی روزمرہ کی ضروریات پر نظر رکھے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پالیسیاں تیار کرے۔ دوسرا، زرعی شعبہ کو مضبوط کرنا اور مقامی پیداوار بڑھانا تاکہ خوراک کی قیمتوں پر کنٹرول ممکن ہو سکے۔ تیسرا، توانائی کی قیمتوں پر مستحکم حکمت عملی اپنانا تاکہ صارفین اور کاروبار پر مالی دباؤ کم ہو۔
اقتصادی شعور بڑھانا بھی ضروری ہے۔ عوام کو مالی منصوبہ بندی کرنا، اخراجات کو کنٹرول کرنا اور آمدنی کے اضافی ذرائع تلاش کرنے کی تربیت دینا مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بہتر معاشی پالیسیاں، درست حکمت عملی اور عوامی شعور کے ذریعے پاکستان عام لوگوں کی زندگی میں سادگی اور خوشحالی لا سکتا ہے۔ اگر حکومت اور عوام مل کر کام کریں، تو مہنگائی کی بلند شرح کو قابو میں لایا جا سکتا ہے اور ہر فرد کو ایک مستحکم، خوشحال اور پرامن زندگی مل سکتی ہی۔
———————————————————
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالي تحصیل ٹنڈوباگو ضلع بدین سندھ
رابطہ نمبر: 03333737575

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں