7

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ کراچی شہر ملک

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ کراچی شہر ملک پاکستان کا وہ واحد فلاحی شہر ھے جس میں بیشمار فلاحی ادارے کام کررہے ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر تین وقت کھانا یعنی دسترخوان، مفت کپڑے، مفت راشن، مفت علاج و ادویات اور انتہائی بناء سود آسان اقساط پر روزگار کیلئے سہولیات شامل ہیں۔ ان اداروں کو کراچی کے مقامی مکین چلا رھے ہیں اور انکی مالی معاونات کراچی کے مقامی شہری ملک و بیرون ملک سے عطیات خیرات صدقات زکواة و فطرہ وغیرہ کی صورت میں عرصہ پچاس سال سے کرتے چلے آرھے ہیں۔ ان فلاحی اداروں کا مقصد سفید پوش عزت نفس افراد کی مدد کرنا اور سہارا بننا ھے لیکن پولیس اور حکومتی اداروں کی بدنیتی کرپشن لوٹ مار کے سبب کراچی بھر میں بھکاری مافیاء اور منشیات مافیاء انتہائی طاقتور بن چکا ھے اس کی طاقت کا اب یہ حال ھے کہ چیف جسٹس ، فیلڈ مارشل بمع تمام کور کمناڈرز، وزیراعظم و صدر سمیت وفاقی و صوبائی وزراء کے علاوہ علماء ومشائخ بھی انتہائی مفلوج بےبس لاچار کمزور ہیں گویا ہمیں تسلیم کرنا پڑیگا کہ ریاست پاکستان اندر سے کھوکھلا ہوچکا ھے اور اداروں کے کرپٹ افسران اور کرپٹ وزراء کے ہاتھوں یہ مافیاء انتہائی مضبوط اور مستحکم ہوگیا ھے۔ کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے مزید بتایا کہ کراچی میں انہیں عناصر اور مافیاء کی سرپرستی کی بناء پر رہزنی اسٹریٹ کرائم ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت جیسے واقعات آئے روز ہوتے نظر آتے ہیں ابھی یہ کم تھا کہ ان سرکاری عناصر اور مافیاء نے ڈمپر ٹینکر اور منی بسوں سے موٹر سائیکل و پیدل چلنے والے کراچی کے شہریوں کو روندنا ایک کھیل تماشا بنایا ھوا ھے پھر اسی سرکاری عناصر و مافیاء نے شاپنگ سینٹرز بازار دفاتر کارخانے گودام کو آتش سے خاکستر اور شہریوں کی اموات کا بھی ایک نیا انداز اپنالیا ھے۔ کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ کراچی شہر کو بےامنی عدم تحفظ شدہ شہر از خود بنایا جارھا ھے یقیناً یہ عوامل کسی بھی محب وطن اور عوام دوست کا نہیں ہوسکتا اس کی روک تھام کیلئے ایک الگ عدالت بنانی چاہئے جو فوری تحقیق کے بعد سزا و جزا کا عمل جاری رکھے تاکہ منفی عناصر کا وجود ختم ہوسکے اب دیکھنا یہ ھے کہ کیا ہمارے وزیراعظم صدر مملکت فیلڈ مارشل جسٹس صاحبان اور اسپیکر و چیئرمین سینٹ اس بابت سنجیدگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہیں کہ نہیں یا یہ سب بااختیار ریاستی طاقتیں اس ملک دشمن مافیاء اور عناصر کے سامنے کہیں گھٹنے ٹیک دیں گے۔ سب سے پہلے بھکاری اور منشیات مافیاء کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ دیگر مافیاء و رعناصر اسی کی شاخیں ہیں جب جڑ ہی کٹ جائیگی تو شاخیں خودبخود تحلیل ہونا شروع ہوجائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں