46

*خوش اخلاقی یا بد اخلاقی آپکا اپنا کردار* منگل 03 فروری 2026

*خوش اخلاقی یا بد اخلاقی آپکا اپنا کردار*

منگل 03 فروری 2026
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین، رحمت للعالمین، محمدٍ المصطفیٰ ﷺ، اور آپ کی آل و اصحاب پر بے شمار رحمتیں اور برکتیں۔

دین اسلام صرف عبادات اور رسومات کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

> “بیشک مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔”

(مسند احمد)

یعنی دین کی اصل روح اخلاق حسنہ ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں عبادات پر زور ہے مگر معاملات و اخلاقیات کو بھلا دیا گیا ہے۔

بد اخلاقی کی مذمت قرآن میں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور لوگوں سے اچھی بات کہو” (البقرہ: 83)

“اگر آپ ﷺ سخت دل اور تند خو ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے” (آل عمران: 159)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ سخت کلامی، بدزبانی اور بدسلوکی اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔

*بد اخلاقی کی مذمت احادیث میں*

1. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> “قیامت کے دن مومن کے میزان میں اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہیں ہوگی۔ اللہ کو بد اخلاق، بدزبان شخص سخت ناپسند ہے۔”

(ترمذی)

2- ایک اور مقام پر فرمایا:

> “بدخو اور بدزبان آدمی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”

(ابوداؤد)

3- آپ ﷺ نے فرمایا:

> “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔”

(بخاری و مسلم)

اسلام کی نظر میں:
بد اخلاقی، بدکلامی اور بدسلوکی ایمان کی کمزوری ہے۔

اچھے اخلاق، نرم مزاجی اور خوش اخلاقی ایمان کی علامت اور جنت میں بلندی کا ذریعہ ہیں۔

اے اللہ! ہمیں اپنے نبی ﷺ کے اخلاق سے حصہ عطا فرما،
ہمارے دلوں کو نرم، زبانوں کو پاکیزہ اور رویوں کو خوشگوار بنا،
اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب فرما۔

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell: 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں