قرآن مجید میں کبیرہ گناہ جن پر حد لگتی ہے ہفتہ 20 دسمبر 2025 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن مجید میں کبیرہ گناہ جن پر حد لگتی ہے
ہفتہ 20 دسمبر 2025
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن مجید میں کچھ کبیرہ گناہوں کا ذکر ہے جن پر حدود (مقرر سزائیں) نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان گناہوں کی شدت اور نوعیت کی وجہ سے انہیں کبیرہ گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں صراحتاً جن کبیرہ گناہوں کی سزائیں (حدود) بیان کی گئی ہیں وہ درج ذیل ہیں:
زنا (Adultery/Fornication): قرآن میں زنا کی سزا 100 کوڑے مقرر کی گئی ہے (سورۃ النور، آیت 2)۔
شادی شدہ افراد کے لیے رجم (سنگسار) کی سزا احادیث سے ثابت ہے۔
تہمت (جھوٹی تہمت برائے زنا – Qazaf): پاک دامن عورتوں پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی سزا 80 کوڑے ہے (سورۃ النور، آیت 4)۔
چوری (Theft): چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے (سورۃ المائدہ، آیت 38)۔
راہزنی/فساد فی الارض (Highway Robbery/Mischief in the land): اس کی سزا حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، جیسے موت، سولی دینا، مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹنا، یا جلاوطنی (سورۃ المائدہ، آیت 33)۔
دیگر کبیرہ گناہ جن پر حدود کا نفاذ ہوتا ہے (سنت سے ثابت):
شراب نوشی (Drinking Alcohol): اگرچہ قرآن میں اس کی براہ راست حد بیان نہیں ہوئی، لیکن احادیث میں اس کی سزا 80 کوڑے مقرر ہے۔
ارتداد (Apostasy): اس کی سزا موت ہے، جو اسلامی فقہاء کے اجماع اور احادیث سے ثابت ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ حدود کے نفاذ کے لیے شریعت میں بہت سخت شرائط اور ثبوت درکار ہوتے ہیں تاکہ بے گناہوں کو سزا سے بچایا جا سکے۔ علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جس گناہ پر دنیا میں حد مقرر ہو یا آخرت میں سخت وعید ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔
الدعاء
یا اللہ تعالی مجھے ہر قسم کی برائی سے محفوظ فرما اور جو کبیرہ و صغیرہ گناہ مجھ سے سرزد ہوگئے ہیں وہ مجھے معاف فرما دے۔
یا غفور رحیم جو حقوق العباد مجھے سے جس کسی کے بھی غضب ہو گئے ہیں ان کی معافی کو تو ذمہ دار بن جا۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333