66

*سوچتا ہوں کاش میں بھی ننھا کی طرح زندگی سے جان چھڑا لیتا ۔۔۔۔۔*


*سوچتا ہوں کاش میں بھی ننھا کی طرح زندگی سے جان چھڑا لیتا ۔۔۔۔۔*

*مرحوم اداکار علی اعجاز کی زندگی کے آخری چند سالوں کی رلا دینے والی کہانی :*

*علی اعجاز نےکئی دہائیاں ڈراموں اور فلموں میں کام کیا ، کروڑوں روپے کمائے گھر بنایا ہر سال نئی گاڑی لیتے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلائی مگر ان کی زندگی اس وقت امتحان بن گئی ۔۔۔*

*جب فالج کا شکار ہونے کے بعد انکے گھر والوں نے انہیں بوجھ سمجھ لیا انہیں گھر کی دوسری منزل پر ایک سٹور جیسے کمرے میں لوہے کی چارپائی پر باقی زندگی گزارنا پڑی ، بیگم صاحبہ اور بچے ایسے اجنبی بنے کہ اللہ ہی معاف کرے ۔۔*

*گھر کے نوکروں کو بھی علی اعجاز کا کوئی کام نہ کرنے کا حکم مل گیا ،*

*انکے دو ہی بیٹے تھے ، بیٹی کوئی نہ تھی ، جب بیٹے کی شادی کی تو بہو نے پہلے چند ماہ ان کی بیٹی کی کمی پورے کرنے کی کوشش کی لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا اسکی بھر گھر والوں سے لڑائی ہو گئی اور اپنے بیٹے کو لے کر وہ میکے چلی گئی ۔*

*علی اعجاز ایک تو فالج کے مریض تھے اوپر سے اس بے اعتنائی پر ڈیپریشن میں چلے گئے ، ایسے برے وقت میں ایک دوست قمر جمیل نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور انہیں اپنے دفتر میں آ کر بیٹھنے کو کہا قمر جمیل کی کوشش اور دھیان دینے سے علی اعجاز نہ صرف ڈیپریشن سے نکل آئے بلکہ صحت مند زندگی کی طرف لوٹنے لگے۔۔۔*

*چنانچہ علی اعجاز اپنی زندگی کے آخری دنوں تک اس دوست کے سہارے زندگی گزارتے رہے صبح اس کے دفتر میں کام پر چلے جاتے ، شام کو واپس آ جاتے اور اپنے سٹور نما کمرے میں لوہے کی چارپائی پر سو جاتے ، ظلم یہ کہ انکے گھر والے یعنی بیوی اور بچے انہیں کھانا بھی نہ دیتے ، وہ صبح خود اپنے کمرے میں چائے بنا کر پاپوں کا ناشتہ کرتے اور دوپہر کا کھانا قمر جمیل کے دفتر میں کھا لیتے واپسی پر دودھ بن اور پاپے رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کے لیے خود لے آتے ۔۔۔*

*علی اعجاز کے ساتھ یہ ظلم کیوں ہوا؟ میڈم نور جہاں کے ایک داماد ہارون بٹ کے کہنے پر انہوں نے اپنی جائیداد اور اثاثوں و گاڑیوں کا پاور آف اٹارنی اپنے بیٹوں اور بیگم کو بنا کر دے دیا تاکہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو کوئی مسئلہ نہ بنے ۔۔*

*لیکن ہوا یہ کہ انکی زندگی میں ہی بیگم اور بیٹوں نے آنکھیں پھیر لیں اور علی اعجاز نے انہیں یہ سوچ کر انکے حال پر چھوڑ دیا کہ جھگڑے کا کیا فائدہ انکی اولاد ہے اچھی ہے یا بری ۔۔ اب اس حال میں ان سے علیحدہ ہو کر کیا کرونگا ۔۔۔۔*

*بہر حال علی اعجاز کی زندگی کے آخری سال اسی دوست کے سہارے اور اپنوں کی بیوفائی کا غم سہتے گزرے 2018 میں انتقال کر گئے ۔*

*آخری دنوں میں علی اعجاز اپنے پوتے سے ملنے کے لیے بہت تڑپے ، وہ پوتے کو اپنی جان کہتے تھے مگر گھر والوں اور بہو کی سنگدلی نے انکی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی ۔*

*علی اعجاز سید نور کو دعائیں دیتے تھے کہ وہ میرا یار تھا اور اس نے یاری نبھائی اس نے مجھے کہا شاہ صاحب آپ اپنے لیے نوکر رکھ لیں تنخواہ میں دے دیا کرونگا مگر غیرت نے گوارا نہ کیا اور وہ اپنے سارے کام خود کرتے رہے ۔*

*یاد رہے کہ علی اعجاز گیلانی سید تھے ۔۔۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ علی اعجاز شاہ جی کے درجات بلند فرمائے۔ آمین*
منقول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں