104

کشمیر — ایک دن کی سیاہی، ایک صدی کا دکھ

کشمیر — ایک دن کی سیاہی، ایک صدی کا دکھ

اکتوبر کا یہ مہینہ جب بھی آتا ہے، کشمیر کی فضا میں وہی پرانی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔
ہوا جیسے خاموش نہیں، سسک رہی ہوتی ہے۔
ہر سال 27 اکتوبر کو پاکستان اور دنیا بھر کے کشمیری اسے یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں ہر دن یومِ سیاہ ہے۔

یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں — ایک احتجاج ہے۔
اس دن 1947ء میں بھارت نے وہ دروازہ کھولا تھا، جس سے ظلم، جبر اور غلامی کی وہ ہوا داخل ہوئی جو آج تک رکی نہیں۔
مہاراجہ ہری سنگھ کا وہ “الحاق نامہ” ایک سیاسی چال تھی، مگر اس چال نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو ماتم میں بدل دیا۔

کشمیر کی زمین آج بھی لہو سے تر ہے۔
وہاں کے دریا اب پانی نہیں، آنسو بہاتے ہیں۔
گاؤں کے گاؤں اجڑ چکے، ماؤں کی گودیں سونی ہو چکی، اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ پتھر ہیں۔
بھارت نے بندوقوں سے جو خاموشی مسلط کی ہے، وہ شاید دنیا کی سب سے طویل خاموشی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے قراردادیں منظور کیں، وعدے کیے، مگر سب کچھ کاغذوں پر دفن ہو گیا۔
جمہوریت کے دعویداروں نے بھی اپنے مفاد کے سامنے کشمیر کے لہو کو بھلا دیا۔
انسانی حقوق کے علمبردار مغرب کی زبان پر جب کشمیر کا ذکر آتا ہے تو الفاظ کم، مفادات زیادہ بولنے لگتے ہیں۔

پاکستان ہر سال یومِ سیاہ مناتا ہے —
ریلیاں نکالی جاتی ہیں، بینرز لگتے ہیں، نعرے گونجتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے:
کیا صرف یہ سب کافی ہے؟
کیا کشمیر کا مقدمہ صرف جذبات سے جیتا جا سکتا ہے؟

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو سفارتی کمزوریوں سے نکال کر عملی قوت میں بدلیں۔
کشمیر کی آزادی صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں، یہ ہمارے ضمیر کا امتحان بھی ہے۔
اگر آج ہم خاموش رہے تو کل تاریخ ہمارے نام کے ساتھ بھی مجرم لکھے گی۔

کشمیر کے چنار ہر خزاں میں خون رنگ کیوں ہو جاتے ہیں؟
اس لیے کہ وہاں بہار کو آنے نہیں دیا گیا۔
کشمیر کے بچے آج بھی آسمان کی طرف دیکھ کر سوچتے ہیں —
“کیا کبھی ہمارے آنگن میں بھی آزادی کا سورج نکلے گا؟”

یومِ سیاہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کا دن ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا بھی ظلم ہے۔
یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے ضمیر سے پوچھیں —
ہم نے کشمیر کے لیے اب تک کیا کیا؟

کشمیر کا دکھ صرف کشمیر کا نہیں،
یہ ایک پوری انسانیت کی شکست ہے۔
اور شاید اسی لیے یہ دن صرف سیاہ نہیں،
تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس پر ہر لفظ آنسوؤں سے لکھا گیا ہے۔

@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں