یومِ سیاہ — وادی کی خاموش پکار
وادی کی ہوا آج بھی نم ہے۔ چنار کے پتے جیسے ہر سال 27 اکتوبر کو کچھ اور گہرے سرخ ہو جاتے ہیں — جیسے زمین خود بھی اپنی گود میں گرے لہو کو یاد کرتی ہو۔ یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں، ایک چیخ ہے جو دنیا کے شور میں دب جاتی ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ کشمیر اب بھی قید ہے، کہ وہاں کے بچوں کی ہنسی اب بھی خوف سے کانپتی ہے، اور کہ دنیا کے نقشے پر آج بھی انصاف کہیں گم ہے۔
1947ء کا وہ اکتوبر، جب بھارتی فوجیں بغیر کسی قانونی جواز کے کشمیر کی دھرتی پر اتریں، تاریخ کا ایک ایسا موڑ تھا جس نے برصغیر کے ضمیر کو چیر کر رکھ دیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے مبینہ الحاق نامے نے ایک پوری قوم کو غلامی کی زنجیر میں جکڑ دیا۔ مگر سوال آج بھی زندہ ہے — کیا کسی عوام کی مرضی کے بغیر کسی زمین کو اپنا کہنا جائز ہے؟
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا ملک، کشمیر کے اندھیروں پر تالا لگا کر جمہوریت کی ہی نفی کرتا ہے۔ وہاں ہر صبح کرفیو سے شروع ہوتی ہے، ہر رات گولیوں کی گونج پر ختم۔ لاکھوں کشمیری نوجوان جیلوں میں ہیں، ہزاروں عورتوں کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، اور معصوم بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گنز کے زخم آج بھی جلتے ہیں۔
مگر پھر بھی دنیا خاموش ہے۔
اقوامِ متحدہ کے وعدے، قراردادیں، سب کاغذوں کے قیدی بن کر رہ گئے۔
عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں “انسانی حقوق” کا راگ تو بجتا ہے،
مگر جب بات کشمیر کی آتی ہے، تو ضمیر سُن ہو جاتا ہے۔
پاکستان ہر سال یومِ سیاہ اس لیے مناتا ہے کہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے — کہ کشمیر کوئی علاقائی تنازع نہیں، یہ انسانیت کا مقدمہ ہے۔ یہ دن کشمیریوں کے صبر، استقامت، اور قربانی کی یاد ہے۔ مگر یہ دن ہم سے ایک سوال بھی کرتا ہے:
کیا صرف احتجاج کافی ہے؟
کیا صرف سیاہ پرچم لہرانا ہی ذمہ داری ہے؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو محض نعرے سے نکال کر عملی جدوجہد میں بدلیں۔ میڈیا، سفارت کاری، ادب، اور عالمی فورمز — ہر محاذ پر آواز کو تیز کرنا ہوگا۔ کیونکہ وقت گزر رہا ہے، نسلیں بدل رہی ہیں، اور ظلم اپنی شکل بدل کر بھی وہیں قائم ہے۔
کشمیر کے دریا اب بھی بہتے ہیں، مگر ان کے پانی میں سرخی گھلی ہوئی ہے۔
کشمیر کے چنار اب بھی جھومتے ہیں، مگر ان کی جڑوں میں خون ہے۔
کشمیر کی مائیں اب بھی دعائیں مانگتی ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں انتظار جمتا جا رہا ہے۔
دنیا کے لیے یہ شاید ایک پرانا تنازع ہو،
مگر کشمیریوں کے لیے یہ آج بھی روزِ قیامت ہے۔
اور ہم سب کے لیے…
یہ دن یاد دہانی ہے — کہ آزادی کوئی نعمت نہیں، ایک قرض ہے جو ادا ہونا باقی ہے۔
@@@@@@@@@@@@@@