56

“راولپنڈی چکن ٹِکا اور قومی غیرت کی چٹنی”

“راولپنڈی چکن ٹِکا اور قومی غیرت کی چٹنی”

بھارتی ایئر فورس کے ایک ڈنر مینو نے جو ہلچل مچائی، وہ کسی بم دھماکے سے کم نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار گولیاں نہیں، بلکہ “چکن ٹِکا” اور “تیرامیسو” نے سرحد پار محاذ گرم کر دیا ہے۔ مینو میں “راولپنڈی چکن ٹِکا”، “بالاکوٹ تیرامیسو”، اور “مریدکے میٹھا پان” جیسے کھانے شامل تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر جنگوں کا فیصلہ کھانے کی میز پر ہونا ہے تو ہمیں فخر سے کہنا چاہیے کہ “ہماری مرچیں ہی کافی ہیں”۔

بھارتی شیفوں نے لگتا ہے جنگی حکمتِ عملی اب باورچی خانے میں تیار کرنی شروع کر دی ہے۔ وہ شاید سمجھتے ہیں کہ “چکن ٹِکا” کے ساتھ اگر تھوڑا سا قومی جذبہ بھی پیش کیا جائے تو فتح خود بخود مل جاتی ہے۔ لیکن وہ بھول گئے کہ پاکستانیوں کا چکن ٹِکا تو اتنا تیز ہوتا ہے کہ اگر کسی نے بغیر دہی کے کھا لیا تو قومی ترانہ خود بخود زبان پر آ جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے فوراً جواب دیا:
“بھائی! راولپنڈی چکن ٹِکا تم کھاؤ، لیکن تیز مرچوں کے بعد پانی پینے کے لیے ہمارا چشمہ بھی مانگنا پڑے گا!”

دراصل یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ بھارت نے طنز کی چٹکی لگائی ہو۔ مگر اس بار چٹکی تھالی میں رکھی گئی تھی۔ ان کے خیال میں طنز بھی “پریزنٹیشن” کے ساتھ زیادہ دلکش لگتا ہے۔ ایک صاحب نے تو لکھا کہ “یہ مینو پڑھ کر ایسا لگا جیسے ایئر فورس نہیں، کسی ڈرامے کا اسکرپٹ لکھا گیا ہو — جس کا کلائمکس پان میں چھپا ہوا ہے۔”

پاکستانی عوام کا جواب بھی لاجواب تھا۔ کسی نے کہا، “ہماری بریانی تمہارے میزائلوں سے زیادہ خطرناک ہے”، تو کسی نے مشورہ دیا کہ “ہم بھی بدلے میں دہلی دم پُخت، ممبئی مرغ مسلم، اور امرتسر آلو قیمہ پیش کریں۔”

اصل بات یہ ہے کہ یہ دور اب توپوں اور ٹینکوں کا نہیں، “ٹویٹس” اور “ڈش نیمز” کا ہے۔ اب دشمن ملک کی فوج پر طنز کرنے کے لیے راکٹ نہیں، ریسیپی لکھی جاتی ہے۔ جنگیں اب میدانوں میں نہیں، “میس” میں لڑی جا رہی ہیں۔

اگر بھارت واقعی “Operation Sindoor” کے نام پر کھانے بیچ رہا ہے، تو ہمیں بھی “Operation Nihari” شروع کر دینا چاہیے — جس کے اثرات نہ صرف سیاسی بلکہ معدے تک پہنچیں۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے عوام اپنے اپنے “چمچوں” سے وطن پرستی ناپ رہے ہیں۔ کوئی “تیرامیسو” میں حب الوطنی تلاش کر رہا ہے تو کوئی “چکن ٹِکا” میں غیرت۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملک بیٹھ کر “چائے کی بات” کے بجائے “چکن کی بات” کریں۔

آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر دنیا کی سیاست اتنی ہی مسالے دار ہو گئی ہے جتنی یہ ڈشز ہیں، تو پھر ہمیں تیار رہنا چاہیے — کیونکہ اگلی جنگ کسی محاذ پر نہیں، کسی مینو کارڈ پر لڑی جائے گی!

@@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں