“حکومت پر تنقید نہیں، اعتماد کریں”
ملک کے حالات پر گفتگو اب تجزیے سے زیادہ تماشہ بن چکی ہے۔ جو قدم حکومت نے برسوں کی غفلت کے بعد ملک کی سمت درست کرنے کے لیے اٹھایا، وہی آج ہر مجلس اور میڈیا پلیٹ فارم پر طنز اور تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ گویا اصلاح کی ہر کوشش ہمارے ہاں جرم بن چکی ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ اصلاحات ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقی کے سفر کی پہلی منزل ہمیشہ صبر سے گزر کر آتی ہے۔ وقتی مہنگائی، مشکلات یا سخت فیصلے قوم کے امتحان ہوتے ہیں، اور کامیاب وہی قوم ہوتی ہے جو اپنے رہنماؤں پر اعتماد رکھتی ہے۔
موجودہ حکومت نے وہ کام شروع کیے ہیں جنہیں ماضی کی حکومتیں صرف وعدوں اور اعلانات تک محدود رکھتی تھیں۔ اب فائلیں الماریوں میں نہیں، حرکت میں ہیں۔ افسران سے جواب طلبی ہو رہی ہے، اداروں میں نظم و ضبط کی بحالی کی کوشش جاری ہے۔ یہ سب کچھ کسی ایک جماعت یا فرد کے لیے نہیں، بلکہ اس ملک کے مستقبل کے لیے ہو رہا ہے۔
جو لوگ شور مچا رہے ہیں، وہ دراصل تبدیلی سے خوف زدہ ہیں۔ کیونکہ شفافیت، احتساب اور اصلاحات ہمیشہ ان کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں جنہوں نے نظام کو ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھ رکھا ہو۔ مگر عوام کو سمجھنا ہوگا کہ حکومت کا ہر فیصلہ کسی وقتی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ آنے والے کل کے استحکام کے لیے ہے۔
سوشل میڈیا پر بے بنیاد بحثیں، غلط معلومات اور جذباتی تبصرے ماحول کو زہر آلود کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم افواہوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے، حقیقت کو سمجھیں۔ یہ وقت حکومت پر انگلی اٹھانے کا نہیں، بلکہ اس کا ہاتھ مضبوط کرنے کا ہے۔
دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک وہ اپنی قیادت پر بھروسہ نہ کرے۔ ترقی کا سفر طویل اور کٹھن ہوتا ہے، مگر یہی راستہ منزل کی طرف لے جاتا ہے۔ حکومت اگر کچھ کر رہی ہے، تو ہمیں اس کے ساتھ چلنا ہوگا — چاہے راستہ کانٹوں بھرا ہی کیوں نہ ہو۔
یہ سچ ہے کہ فیصلے سخت ہیں، مگر نیت صاف ہے۔ نیت ہی قوموں کو آگے لے جاتی ہے۔ اگر ہم نے ایک بار پھر بداعتمادی، بدگمانی اور بے صبری کا راستہ اختیار کیا، تو ہم وہیں لوٹ جائیں گے جہاں سے چلے تھے۔
لہٰذا اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے — کیا ہم شور میں اپنا مستقبل کھو دینا چاہتے ہیں یا اعتماد کے ساتھ ایک بہتر پاکستان کی تعمیر میں شریک ہونا چاہتے ہیں؟
یہ وقت تنقید کا نہیں،
یہ وقت اعتماد کا ہے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@