68

جمیل فخری جو بیٹے کے قتل کو موت تک نہ بھول سکے…

جمیل فخری جو بیٹے کے قتل کو موت تک نہ بھول سکے…
ایک نام، ایک چہرہ، ایک آواز — جو کبھی پاکستان کے گھروں میں خوشیاں بکھیرتی تھی، مگر جس کے اپنے دل میں درد کا ایک نہ ختم ہونے والا طوفان چھپا ہوا تھا۔ وہ ہنسی بکھیرنے والا فنکار، اپنے آخری برسوں میں ایک ایسا دکھ جھیل گیا جس نے اسے اندر سے توڑ دیا۔

لاہور کے ایک عام سے گھرانے میں 1946 میں پیدا ہونے والا یہ شخص، بچپن سے ہی مختلف تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے نیشنل بینک آف پاکستان میں نوکری اختیار کی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک خواب جاگتا رہتا تھا — اسٹیج کی روشنیوں کا خواب۔ اس نے واپڈا آڈیٹوریم اور الحمرا آرٹس کونسل کے اسٹیج پر قدم رکھا، جہاں سے اس کی آواز نے دلوں میں گھر بنا لیا۔ وہ اداکاری نہیں کرتا تھا، وہ جیتا تھا اپنے کرداروں کو۔

پی ٹی وی کے ابتدائی دور میں جمیل فخری ایک ایسا نام بن کر ابھرا جس نے ڈرامے کو حقیقت کا روپ دے دیا۔ “اندھیرا اجالا” میں پولیس انسپکٹر جعفر حسین کا کردار اُس زمانے کے لاکھوں ناظرین کے دلوں میں بس گیا۔ ان کی مخصوص آواز، چہرے کی سنجیدگی اور مکالموں کی ادائیگی نے اُس کردار کو امر کر دیا۔ وہ پولیس افسر نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا عکاس لگتا تھا۔

مگر یہ محنت، یہ شہرت، یہ محبتیں — سب کے باوجود زندگی نے اسے سکون نہ دیا۔
وہ ایک ایسا فنکار تھا جس نے اپنے کام سے پاکستانی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کو نئی جہت دی۔ “وارث”، “الف نون”، “ایک محبت سو افسانے”، “آج کا کھیل”، “ذخیرہ اندوزی” — یہ سب ڈرامے جمیل فخری کی فنی عظمت کا ثبوت ہیں۔ فلمی دنیا میں بھی اس نے پچاس سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور 2002 میں صدرِ پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا۔

لیکن قسمت نے جیسے اس کے لیے سب کچھ رکھا تھا — شہرت بھی، محبت بھی، اور پھر اذیت بھی۔
زندگی کے آخری برسوں میں جمیل فخری کا دل ٹوٹ گیا۔ ان کے بیٹے علی ایاز فخری کو 2010 میں امریکہ میں اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ علی کو اذیت دے کر مارا گیا اور پھر لاش کو جلایا گیا۔ جب یہ خبر پاکستان پہنچی، تو جمیل فخری کے دل پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ باپ جس نے ہمیشہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی تھی، خود اندر سے بکھر گیا۔

اس حادثے کے بعد جمیل فخری کی آنکھوں کی چمک مدھم ہونے لگی۔ وہ کم بولنے لگے، چپ رہنے لگے۔ کہتے ہیں، وہ اکثر اپنے بیٹے کی تصویریں دیکھ کر خاموش آنسو بہاتے۔ ان کے قریبی دوست بتاتے ہیں کہ وہ دن رات اپنے بیٹے کے بارے میں بات کرتے رہتے، اور ہر جملے میں ایک نہ ختم ہونے والا درد ہوتا۔

پھر 31 مئی 2011 کو انہیں فالج کا شدید دورہ پڑا۔ وہ کومہ میں چلے گئے، اور نو جون کو لاہور کے ایک اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کے چہرے پر سکون تھا، مگر آنکھوں کے گوشوں میں وہی خاموش سوال — “میرا بیٹا کیوں؟”

ان کے بعد صرف ایک بیوہ اور تین بیٹے رہ گئے، مگر ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا، وہ آج تک پُر نہیں ہو سکا۔
فنکار مرتے نہیں، ان کے کردار زندہ رہتے ہیں۔ مگر جمیل فخری کی موت نے ایک ایسی حقیقت یاد دلا دی کہ اصل زندگی ڈرامے سے کہیں زیادہ ظالم ہوتی ہے۔

وہ جو دوسروں کے لیے خوشی کا سامان بنے، خود اپنی زندگی کے آخری برسوں میں تنہائی، صدمے اور بے بسی کے قیدی بن گئے۔
ان کے دوست، ساتھی اداکار، سب جانتے تھے کہ وہ اپنے بیٹے کے بعد کبھی پہلے جیسے نہیں رہے۔ ان کا چہرہ اکثر خاموش رہتا، مگر آنکھیں بہت کچھ کہہ جاتی تھیں — ایک ٹوٹے ہوئے باپ کی کہانی، جسے دنیا نے صرف ایک فنکار کے روپ میں دیکھا، مگر وہ اندر سے ایک زخمی انسان تھا۔

جمیل فخری صرف ایک اداکار نہیں، وہ پاکستان کے فنی ورثے کا حصہ ہیں۔ ان کی آواز آج بھی سنائی دیتی ہے، ان کے مکالمے آج بھی دہرائے جاتے ہیں، مگر ان کے دل کا دکھ شاید ہی کوئی سمجھ سکے۔
وہ چلے گئے، مگر ان کے کردار آج بھی زندہ ہیں — جیسے وہ خود اس دنیا سے رخصت ہو کر بھی اس اسکرین کے پار، کہیں روشنی میں، اب بھی اداکاری کر رہے ہوں۔

یہ کہانی ایک فنکار کی نہیں، ایک باپ کی ہے — جس نے سب کچھ جیتا، مگر آخر میں سب کچھ ہار گیا۔
Lal Khan Minzai
#LKM

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں