158

*ایک ننھا سا غزوی بچہ اور بوجھ*

*ایک ننھا سا غزوی بچہ اور بوجھ*

وہ ننھا سا بچہ غزہ کی ٹوٹی ہوئی سڑک پر چل رہا ہے۔ کندھے پر ایک بھاری تھیلا تھا، جو اس کے جسم سے بھی زیادہ وزنی معلوم ہوتا تھا۔ کبھی وہ بوجھ ڈگمگا کر زمین پر رکھ دیتا، پھر تھوڑی دیر سانس لیتا اور دوبارہ اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اسے گوڈوں پر ٹکا کر بڑی مشقت کے ساتھ کندھے پر لاد لیتا۔ وہ قدم اُٹھاتا تو یوں لگتا جیسے ہر قدم اس کی معصوم جان کی آزمائش ہے۔

کسی کو نہیں معلوم کہ اس تھیلے میں کیا ہے۔ شاید آٹا ہو… شاید کوئی اور خوراک۔ مگر یقیناً وہ اس کے گھر والوں کی زندگی کا سہارا ہے۔ اس کے وجود پر بوجھ صرف اس تھیلے کا نہیں، بلکہ بھوک اور پیاس کا ہے، وہ بھوک جو غزہ کے ہر گھر کو گھیرے بیٹھی ہے، وہ پیاس جو بچوں کے ہونٹوں کو سُکھا چکی ہے، اور وہ مایوسی جو ماں باپ کی آنکھوں میں ڈیرہ ڈال چکی ہے۔

یہ بچہ ہمیں خاموش پیغام دے رہا ہے:
“میں کمزور ہوں، مگر ہمت نہیں ہاری۔ میرا کندھا ٹوٹتا ہے، مگر میں بوجھ زمین پر نہیں چھوڑتا۔ تم بھی اپنی حیثیت کے مطابق میرا ساتھ دو۔”

اے اہلِ ایمان!
آج غزہ کے لوگ بھوک اور پیاس سے لڑ رہے ہیں۔ وہ ننھے جسم جو کھیلنے کودنے کے لیے تھے، آج اناج کے بوجھ ڈھونے پر مجبور ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں کو جھنجوڑیں، اپنے دستر خوانوں سے کچھ حصہ نکالیں اور ان مظلوموں کے لیے مدد بھیجیں۔

یاد رکھیں!
جو قدم آپ نے آج غزہ کے لیے اُٹھایا، وہ کل آپ کی بخشش کا سبب بن سکتا ہے۔

> *آئیے! غزہ کے ان بچوں کی امید بنیں، ان کی بھوک مٹائیں اور پیاس بجھائیں۔*

امداد ان نمبروں پر ہمیں بھیج سکتے ہیں
Zeeshan ur Rehman
Jazz Cash
0321 2450008

Easy Paysa
0313 2450008

🕊️ اللہ تعالیٰ آپ کے مال میں برکت عطا فرمائے اور اسے آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

وائس آف فلسطین
گروپ ایڈمن
ذیشان رضوی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں