84

محبت اور قربانی کی عظیم مثال — راکھی دتہ کی کہانی

محبت اور قربانی کی عظیم مثال — راکھی دتہ کی کہانی
صرف 19 سال کی عمر میں، راکھی دتہ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو اکثر بڑے لوگ سوچ کر بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔
راکھی، جو بھارت کے شہر کولکتہ سے تعلق رکھتی ہیں، ایک کٹھن اور دل توڑ دینے والی حقیقت سے دوچار ہوئیں: ان کے والد، سودیپ دتہ، شدید جگر کی بیماری میں مبتلا تھے اور ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر فوری ٹرانسپلانٹ نہ ہوا تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ جب راکھی کو معلوم ہوا کہ ان کا جگر والد کے لیے موزوں ہے، تو انہوں نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر خود کو بطور ڈونر پیش کر دیا۔
یہ آپریشن ایک عظیم اور جان جوکھم کا کام تھا۔ پندرہ گھنٹے سے زائد وقت تک ماہر سرجنز نے نہایت احتیاط سے راکھی کے جگر کا 65 فیصد حصہ نکال کر ان کے والد کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کیا۔ ہر لمحہ خطرے سے بھرپور تھا، مگر قسمت اور حوصلے نے ساتھ دیا اور یہ آپریشن کامیاب رہا۔ والد اور بیٹی دونوں زندہ بچ گئے اور ٹرانسپلانٹ میں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہوئی۔
راکھی کا سفر آپریشن تھیٹر پر ختم نہیں ہوا۔ ان کی بحالی کا مرحلہ، جسمانی ہو یا جذباتی، انتہائی حوصلے، صبر اور ہمت کا متقاضی تھا۔ مگر راکھی نے ہر چیلنج کا مقابلہ پختہ عزم کے ساتھ کیا۔
آج راکھی کی قربانی صرف ایک زندگی بچانے کی کہانی نہیں بلکہ محبت اور خاندان کی اہمیت، بیٹیوں کی قدر اور رضا کارانہ عطیہ دینے کی شاندار مثال ہے۔ ان کی بہادری نے امید اور وفاداری کی ایک نئی داستان رقم کی ہے جو آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔
محقق و مترجم: حسین
#محبت #قربانی #بیٹی_کی_مثال #جگر_ٹرانسپلانٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں