October 8, 2026

*خلافتِ راشدہ کے مفتیانِ جید صحابہؓ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تھے* پیر 25 اگست 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2025-08-24_064248

*خلافتِ راشدہ کے مفتیانِ جید صحابہؓ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تھے*

پیر 25 اگست 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

خلافتِ راشدہ کا دور علم، عدل اور شریعت کا سنہری دور تھا۔

یاد رہے کہ خلیفہ وقت کے مقررہ کردہ مفتی ہی فتوی دے سکتے تھے ان کے علاوہ کوئی دوسرا صحابی بھی فتوی نہیں دے سکتا تھا

اس وقت فتویٰ اور عدالتی فیصلے صرف وہی صحابہؓ دیتے تھے جنہیں قرآن و سنت کا گہرا علم حاصل تھا۔

آئیے جانتے ہیں کہ اُس دور کے مشہور “مفتیانِ صحابہؓ” کون تھے👇

🌿 مدینہ منورہ
یہاں امت کے بڑے بڑے فقیہ موجود تھے:
حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ فیصلوں میں اپنی حکمت کے سبب مشہور ہوئے۔
حضرت زید بن ثابتؓ وراثت کے مسائل کے ماہر تھے۔
حضرت ابن عباسؓ قرآن کے “ترجمان” کہلائے،
حضرت ابن عمرؓ عبادات میں سند مانے جاتے،
اور حضرت عائشہؓ کو عورتوں کے مسائل اور حدیث کے علم میں برتری حاصل تھی۔

🌿 کوفہ
یہاں حضرت ابن مسعودؓ نے فقہ کی بنیاد ڈالی۔ انہی کی تعلیمات سے بعد میں فقہِ حنفی نے فروغ پایا۔

🌿 بصرہ
حضرت انس بن مالکؓ (جو نبی ﷺ کے خادم رہے) اور حضرت عمران بن حصینؓ لوگوں کو دین سکھاتے اور فتوے دیتے تھے۔

🌿 شام
حضرت معاذ بن جبلؓ، جنہیں نبی ﷺ نے “سب سے بڑے عالم” کہا، شام میں فتویٰ دیتے رہے۔
ان کے ساتھ حضرت ابودرداءؓ بھی شام کے بڑے مفتی مانے جاتے تھے۔

🌿 مکہ مکرمہ
حضرت ابن عباسؓ یہاں علم کا مینارہ تھے۔ دور دور سے لوگ آ کر قرآن و حدیث کا فہم ان سے حاصل کرتے۔

✨ نتیجہ
یہ سب صحابہؓ خلافتِ راشدہ کے اصل “مفتی” تھے۔
ان کا فتویٰ قرآن، حدیث اور براہِ راست نبی ﷺ کی تعلیمات پر مبنی ہوتا تھا۔
اسی لیے ان کے دور کو اسلام کی سب سے روشن اور صاف شریعت والا زمانہ کہا جاتا ہے۔

🌸 اخلاقی پیغام
آج ہمیں چاہیے کہ ہم دین کے مسائل انہی صحابہ کرامؓ کی سمجھ کے مطابق سیکھیں۔
کیونکہ جنہوں نے نبی ﷺ سے براہِ راست علم لیا، انہی کا فہم سب سے درست اور معتبر ہے۔
جو امت اپنے اصل ماخذ (قرآن، سنت اور صحابہ کا فہم) کو تھامے رکھتی ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتی۔

الدعاء
یا رب کریم ہمیں کتاب و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر عمل کرنے والا بنا دے تاکہ وطن عزیز میں اصل اسلام نافذ ہو سکے۔

آمین یا رب العالمین

Please visit us at https://engineernazirmalik.blogspot.com