118

مٹی کے کمرے اور دیے کی روشنی میں پڑھنے والی نسیم نواز گلوبل سکالرشپ پر ہانگ کانگ جا رہی ہے۔ یہ محض ایک تصویر نہیں، ایک کہانی ہے۔

مٹی کی کمرے اور دیے کی روشنی میں پڑھنے والی نسیم نواز گلوبل سکالرشپ پر ہانگ کانگ جا رہی ہے۔ یہ محض ایک تصویر نہیں، ایک کہانی ہے۔

یہ سن 2018 کی بات ہے، مجھے پتا چلا کہ بہاولپور کی ایک گورنمنٹ سکول ٹیچر ہے، وہ روزانہ میلوں سفر طے کرتی ہے، برسات میں برستے بادلوں اور ڈیڑھ فٹ گہرے کیچڑوں سے گزر کر شہر پہنچتی ہے، وہاں سے تین عوامی گاڑیاں بدل کر سکول کا سفر طے کرتی ہے، اور پھر سکول میں ہر روز ایک نئی کہانی لکھتی ہے۔ پاکستان میں آپ 95 فیصد ٹیچرز کے انٹرویوز کریں، ان کے پاس کام نہ کرنے کے بہانے ہوں گے۔ نسیم نواز درختوں کی شاخوں، پتوں، پرانی پلاسٹک کی بوتلوں اور دیگر سامان کو جوڑ توڑ کر بچوں کو مشکل Concepts سمجھانے کیلئے سٹڈی میٹیریل تیار کرتی۔ ایک سکول میں گئی، جہاں دیوار نہیں تھی، سکول کی بچیوں کو موٹیویٹ کیا، اپنے ساتھ کام پر لگایا، خود مستری بنی اور سکول کی دیوار تعمیر کر دی۔ ایک سکول میں ٹرانسفر ہوئی، وہاں کلاس روم کی ایسی حالت تھی جیسے یہاں عشروں سے کوئی اندر نہ گیا ہو، یہ خود ہی کارپنٹر بنی، کھڑکیاں الماریاں ٹھیک کیں، صفائیاں کیں اور پھر بچیوں کی ٹیم بنا کر ان کا مستقبل بنانا شروع ہوگئی۔ میرے سامنے نسیم نواز کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں جنہیں قلمبند کرنے کیلئے واقعی ایک کتاب کی ضرورت ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ویک اینڈ پر 12، 12 گھنٹوں کا سفر طے کر کے لاہور پہنچ جاتی ہے، paid ٹریننگز اٹینڈ کرتی ہے۔ سیکھنے کا کوئی بھی موقع ملے تو پہلی کرسی پر بیٹھ کر کسی تربیت کار کا ایک لفظ تک گرنے نہیں دیتی۔
گاؤں میں گھر میں بجلی نہیں تھی، مٹی والا کمرہ تھا، اسی میں ساتھ بکریاں بھی ہوتی تھیں، اس نے دیے کی روشنی میں بی-اے اور ایم-اے کر لیا۔ یہ اپنے علاقے کی واحد لڑکی تھی جو پڑھنے کیلئے آگے بڑھی، بولنے والے بولتے رہے، لڑکی کی تعلیم کے مخالف پریشاں رہے، مگر نسیم نواز نے اپنے خالص جٹکے والدین کو سمجھایا کہ تعلیم روشنی ہے، اس نے بتایا کہ لڑکی تعلیم حاصل کرے تو اس کی گود تہذیب کی یونیورسٹی بنتی ہے۔ نسیم نواز کے والدین اور گھر والوں کو بھی سلام جو اس کی طاقت بنے، قوت بنے اور اس سفر میں اس کے ساتھ کھڑے رہے۔
نسیم نواز نے ڈیپارٹمنٹ آف جیوگرافی اینڈ جیو انفارمیٹکس، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور سے ایم فل مکمل کیا، پھر یونیورسٹی آف پنجاب، لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف جیوگرافی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا جو کہ ابھی جاری ہے، اور ڈنگ ٹپاو ریسرچ کے بجائے اس میں اپنا خون جگر لگایا، اور اب بہن نسیم نواز کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کی جانب سے 57 ویں بیچ میں 6 ماہ کے بین الاقوامی ریسرچ اسٹے کے لیے Prestigious انٹرنیشنل ریسرچ سپورٹ انیشیٹو پروگرام (آئی آر ایس آئی پی) اسکالرشپ کے ایوارڈ لیٹر سے نوازا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکے پی ایچ ڈی کے سپر وائزر ڈاکٹر نصر من اللہ کی بھی انتھک کوشش شامل ہے- فخر ہے کہ آج بھی پاکستان میں ایسے اساتذہ موجود ہیں-
میری ہمیشہ خواہش رہی کہ ایسے ٹیچرز کو پاکستان میں اعلٰی اعزازات سے نوازا جائے۔ کیونکہ یہ ایسی روشنیاں ہیں جن کے جلنے سے معاشرے کو آکسیجن ملتی ہے۔ میں لاہور میں پرنسپل تھا تو نسیم نواز کو سکول میں اپنے ٹیچرز کے سامنے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا، وہ میری شادی کے بعد ہمارے گھر آئیں تو اپنے سرٹیفیکیٹس اور اعزازات کا بنڈل بھی ساتھ لائیں۔ دیکھ کر کئی کلو خون بڑھ گیا۔
رات کو جب خبر پڑھی کہ نسیم نواز کو گلوبل سکالرشپ ملا ہے تو اس ٹیچر کی داستان ایک فلم کی طرح میری دماغ میں گھوم رہی تھی۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک اس بچی کو پاکستان کی تمام بیٹیوں کیلئے رول ماڈل بنائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں