October 10, 2026

آئینہ وقت کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں “نکال کے پھینکا گیا لیڈر، اور ڈوبتا ہوا پاکستان”

20250701_222842

آئینہ وقت

کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں

“نکال کے پھینکا گیا لیڈر، اور ڈوبتا ہوا پاکستان”

2022 کا وہ سیاسی طوفان آج بھی پاکستانی عوام کی یادداشت پر کندہ ہے۔ اپریل کی ایک رات پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ایک منتخب وزیرِاعظم کو صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ وہ طاقت کے ایوانوں کے سامنے جھکنے کو تیار نہ تھا۔ عمران خان کی حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے رخصت کیا گیا، لیکن اس کے بعد جو کچھ پاکستان کے ساتھ ہوا، وہ نہ صرف ایک منتخب حکومت کا خاتمہ تھا بلکہ ملک میں سیاسی استحکام، معاشی خودمختاری اور عوامی امیدوں کا بھی جنازہ نکل گیا۔

عمران خان کو نکالنے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے نئی حکومت آئے گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ چند ہفتوں میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ گیا، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ دال، آٹا، چینی تو پہلے ہی غریب کی پہنچ سے دور تھیں، اب انڈہ، دودھ، سبزیاں بھی خواب بن گئے۔

معاشی بدحالی نے صرف قیمتوں تک محدود نہیں رکھا۔ صنعتیں بند ہو گئیں، کاروبار ٹھپ ہو گئے، لاکھوں نوجوان روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تعلیم یافتہ نوجوان جو پاکستان کا اثاثہ تھے، وہ یا تو ملک سے ہجرت پر مجبور ہوئے یا ذہنی بیماریوں اور مایوسیوں کا شکار بن گئے۔ آج نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در بدر پھر رہے ہیں اور کوئی پُرسان حال نہیں۔

یہ بدترین حالات صرف معاشی نہیں، بلکہ سماجی زوال کی شکل بھی اختیار کر چکے ہیں۔ خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان دل دہلا دینے والا ہے۔ کبھی باپ بچوں سمیت نہر میں کودتا ہے، کبھی ماں غربت سے تنگ آ کر بچوں کو زہر دے دیتی ہے۔ یہ سب کچھ کسی دشمن ملک میں نہیں، ہماری اپنی ریاست میں ہو رہا ہے، جہاں حکمران اشرافیہ اپنے اللوں تللوں میں مصروف ہے اور عوام روز بروز قبر کے قریب ہو رہے ہیں۔

ملک کا سیاسی منظرنامہ بھی کسی بدتر تماشے سے کم نہیں۔ ایک طرف انصاف کے ادارے متنازع ہو چکے، دوسری طرف عدلیہ کے فیصلے بھی طاقتور کے حق میں اور کمزور کے خلاف آتے ہیں۔ عوام کے حقِ رائے دہی کو بار بار روندا گیا۔ عمران خان جیسے عوامی لیڈر کو دیوار سے لگایا گیا، ان پر جھوٹے مقدمات، سیاسی انتقام اور پابندِ سلاسل کیا گیا، تاکہ عوام کی آواز کو دبایا جا سکے۔

کیا یہ سب صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ایک لیڈر نے “امریکہ کی غلامی نہیں کریں گے” کا نعرہ لگایا؟ کیا قوم کو اس کی آزادی، خودداری اور ترقی کی خواہش کی یہ سزا دی جا رہی ہے؟

وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم سوچیں، سوال کریں، اور ان چہروں کو پہچانیں جنہوں نے پاکستان کو اس اندھیرے میں دھکیلا۔ ہم کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک ہر بحران کا بوجھ غریب اٹھائے گا؟ کب تک ہم لیڈروں کی ذاتی دشمنیوں اور سازشوں کی قیمت اپنی زندگیوں سے چکائیں گے؟

یہ سوال اب صرف عمران خان کا نہیں، پوری قوم کا ہے۔