October 10, 2026

آئینہ وقت کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں

20250701_222842

آئینہ وقت

کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں

“پٹرول تہاڈے پیو نے وی سستا کرنا اے؟”

یہ وہ جملہ ہے جو ایک وقت میں پورے پاکستان میں گونج رہا تھا، جب تحریک لبیک پاکستان کے موجودہ سربراہ نے ایک جلسے میں عوامی مطالبات پر طنزیہ انداز میں کہا تھا:
“پٹرول تہاڈے پیو نے وی سستا کرنا اے؟”
یہ جملہ سن کر کچھ لوگوں نے تالیاں بجائیں، کچھ نے قہقہے لگائے، مگر درحقیقت یہ جملہ پاکستانی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔
تحریک لبیک، جو عوام کے مذہبی جذبات کو لے کر سیاست میں آئی تھی، آج کل نہ عوام کی ہے، نہ مذہب کی، نہ ہی کسی اصلاح کی۔ جب عوام نے مہنگائی پر آواز بلند کی تو ایک سیاسی لیڈر نے اس لہجے میں جواب دیا گویا پٹرول سستا کروانا عوام کی گستاخی ہو۔
آج جب وہ خود اقتدار کے خواب دیکھتے ہیں، وہی پٹرول 300 روپے فی لیٹر کو بھی کراس کر چکا ہے، اور اس کا کوئی حل یا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اب سوال یہ ہے:
کیا اب بھی پٹرول تہاڈے “پیو” نے سستا کرنا ہے؟
یا اب عوام یہ سوال ان سے پوچھے:
“مہنگائی روکنا تہاڈے دادے نے سی؟”
یہ قوم بار بار جذباتی نعروں پر قربان ہوتی رہی ہے۔ کبھی ناموسِ رسالت کے نام پر، کبھی ریاستِ مدینہ کے وعدوں پر، اور کبھی تبدیلی کے خواب پر۔ مگر ہر بار دھوکہ، فریب، اور استعمال۔
تحریک لبیک کے موجودہ لیڈر نے اگر واقعی عوامی نمائندگی کا دعویٰ کیا تھا تو سوال بنتا ہے:

کتنے بل عوام کے لیے کم کروائے؟

کتنے ہسپتال بنائے؟

کتنے تعلیمی ادارے یا اسکالرشپ شروع کیے؟
کتنے غریبوں کا چولہا جلایا؟

افسوس کہ صرف سڑکیں بند کرنا، ہڑتالیں کرنا، اور نعرے لگانا رہ گیا۔ اصل کام، عوامی خدمت، کہیں نہیں۔
تحریک لبیک کا ووٹ بینک جذباتی لوگوں پر مشتمل ہے، جو اسلام سے محبت کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں وہ رہنما ملا جو مہنگائی پر طنز کرتا ہے اور پٹرول کی قیمت پر عوام کو شرمندہ۔
اب وقت ہے کہ ہم “آئینہ وقت” میں اپنے آپ کو دیکھیں، اور سوال کریں کہ ہمیں ایسے رہنما کب تک چکمہ دیتے رہیں گے؟
بس بہت ہو چکا!
اب عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہیں نعرے چاہییں یا عمل؟ جذبات چاہییں یا انصاف؟
اور یہ فیصلہ جلدی کرنا ہوگا، کیونکہ پٹرول کی قیمت اور جھوٹے وعدے دونوں ہر روز بڑھتے جا رہے ہیں۔

تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں