October 2, 2026

*ہمارے ہیں حسین سلام اللہ علیہ* ‏منگل یکم جولائی 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

20250629_150020

*ہمارے ہیں حسین سلام اللہ علیہ*

‏منگل یکم جولائی 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

جس وقت سانحہ کربلا برپا ہوا اس وقت اسلامی سلطنت پر بنو امیہ کے قبضے کو اکیس سال ہو چکے تھے، سلطنت کے ہر صوبے و شہر پہ ان کے وفادار گورنر و افسران متعین تھے۔

طاقت کے ظالمانہ استعمال سے انہوں نے خوف کی فضا قائم کر رکھی تھی اور کسی میں ان کیخلاف نکلنے کی ہمت و جرات نہ تھی
یہی وجہ تھی کہ سانحہ کربلا کے بعد بھی پوری سلطنت میں کہیں پر لوگ امام حسین علیہ السلام سے اظہار یک جہتی یا افسوس کیلئے نہیں نکلے تھے
یہاں تک کہ خانوادہ رسول ﷺ کا لٹا پٹا قافلہ بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر برہنہ پا سینکڑوں میل چلتا رہا اور کسی نے انہیں پانی تک نہ پوچھا۔

کربلا سے دمشق کے درمیان کئی بڑے شہر اور قصبے تھے
مگر یا تو وہ لوگ جانتے ہی نہ تھے کہ ان کے سامنے سے کائنات کے سب سے عظیم لوگوں کا قافلہ گزر رہا ہے
یا اگر جانتے تھے تو اموی حکومت کے ظلم کے ڈر سے خاموش رہنے پر مجبور تھے۔

*ایک درد انگیز دل گداز واقعہ*
اہل بیت کا یہ قافلہ جب ایک شہر سے برہنہ پا اور برہنہ سر خواتین اہل بیت گزر رہیں تھیں اور شہر کی خواتین اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑیں قافلے کا نظارہ کر رہیں تھیں تو ایک عمر رسیدہ خاتون نے قافلہ کو روکا اور اہل بیت کی خواتین کے لئے اپنے گھر سے چادریں منگوائیں اور اہل بیت کی شہزادیوں کے سر ڈھانپے تو حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا نے اس عمر رسیدہ خاتون سے پوچھا کہ اے بڑی بی آپ کون ہیں اور ہمارے سر ڈھانپنے کا سبب کیا ہے تو وہ بڑھیا گویا ہوئی کہ قافلے والو میں نہیں جانتی کہ آپ کون لوگ ہیں مگر مجھے یاد ہے کہ ایک عرصہ قبل میں مدینہ منورہ میں تھی اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی لونڈی تھی تو بنت رسول نے مجھے حکم دیا تھا کہ اگر کبھی برہنہ سر خواتین کا کوئی قافلہ تمہیں نظر آئے تو ان کے سر ڈھانپ دینا اور آج میں نے اس حکم کی پاسداری کی ہے تو حضرت زینب بنت علی علیہ سلام نے کہا کہ نیک بخت خاتون ہم اسی فاطمہ بنت رسول کی بیٹیاں پوتیاں اور نواسیاں ہیں اور میں زینت بنت فاطمہ ہوں۔ تو عمر رسیدہ خاتون نے کہا کہ ہمیں تو یہ بتلا گیا تھا کہ یہ باغیوں کا قافلہ ہے۔
ہائے میری قسمت آج مجھے بنت رسول کا گھرانہ اس قسم پرسی میں دیکھنا پڑا۔
اللھم صلی اللہ محمد و آل محمد۔

اس قافلے کے لوگوں کا یزید کے دربار میں پہنچنے کے بعد اہل بیت پر جو مظالم ڈھائے گئے اس کی صرف اجمالی صورت ہمیں تاریخ میں دکھائی گئی ہے۔

تفصیل کسی کو معلوم نہیں ہے
اور جنہیں معلوم تھی وہ تلوار کے سائے میں لکھنے کی جرات نہ کر سکے۔

یزید کی قید میں امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟
بی بی زینب بنت علی سلام اللہ علیہا کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا
معصوم بچے اور دیگر قافلے کے لوگ کس طرح ظالم حکمرانوں کے ظلم سہتے رہے ہوں گے، تاریخ کچھ نہیں بتاتی۔
مگر جنہوں نے نواسہ رسول ﷺ کا گلہ ہی کاٹ دیا، ان سے کسی حسن سلوک کی توقع بھی کیسے رکھی جا سکتی تھی؟ معاویہ نے اپنے اقتدار کیلئے سینکڑوں صحابہ کرام کو شہید کیا۔
مولائے کائنات مولا علی علیہ السلام سے بغاوت کی تو یزید نے اپنے اقتدار کیلئے صحابہ کی اولادوں کو شہید کیا
اور آخر میں ظلم کی انتہا کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے عزیز از جان نواسے کو شہید کر دیا۔۔۔۔۔

تاریخ کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سانحہ کربلا اور اس کے بعد اہل بیت اطہار پر جو مظالم ڈھائے گئے ہیں ہم تک ان کی بہت کم تفصیل پہنچی ہے
خصوصاً کربلا سے قافلے کی روانگی، دمشق میں قیام اور پھر مدینہ واپسی تک محض چیدہ چیدہ واقعات ہم تک پہنچے ہیں۔

یقیناً یزید اینڈ کمپنی نے جان بوجھ کر ان مظالم کی تفصیل عام نہیں ہونے دی تاکہ مسلمانوں میں اس کے خلاف غم و غصہ نہ بڑھے مدینہ کے سوا باقی تمام بلاد اسلامیہ کے کسی شہر سے یزید کے خلاف کوئی آواز سنائی نہیں دیتی؟
یہ صرف اہل مدینہ تھے کہ جنہوں نے پہلے معاویہ کی بغاوت کا سامنا کیا پھر یزید کے اقتدار کے رستے کی رکاوٹ بنے اور پھر غم سے نڈھال قافلے کو پرسہ دیا اس کے بدلے میں اہل مدینہ پر جو ظلم ڈھائے گئے ان پر بات کرتے ہوئے روح کانپ جاتی ہے۔

*واقعہ حرہ*
*خصوصاً واقعہ حرہ تو کربلا کے بعد دوسری کربلا تھی کہ جس میں مسجد نبوی میں تین دن گھوڑے باندھے گئے، نماز معطل رہی۔*

*مدینہ منورہ کی عورتوں کے ریپ کئے گئے یہاں تک کہ ایک ہزار خواتین جبر زنا سے حاملہ ہو گئیں مدینہ شریف والوں کو یہ سزا صرف اور صرف یزید کی مخالفت اور اہل بیت کی محبت کی وجہ سے دی گئی تھی*
یہ خواتین جن کی عصمت دری کی گئی کون تھیں یقینا” صحابہ اکرام کی بیٹیاں، پوتیاں اور نواسیاں تھیں۔

اور یہ اہل مدینہ ہی تھے کہ جو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کو آئے۔ اسیران کربلا کو جب رہا کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں کربلا کے راستے واپس لے جایا جائے اور جب سب امام حسین علیہ السلام کی قبر انور پہ اکٹھے ہوئے تو قیامت کا سماں تھا، یہاں صرف اہل بیت ہی نہیں مدینہ منورہ سے آئے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے، ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا سوگ اور چہلم شیعہ مناتے ہیں، اگر تو نبی کریم ﷺ صرف شیعوں کے نبی تھے تو پھر صرف انہیں ہی منانا چاہیے اور اگر آپ بھی انہیں اپنا نبی کریم ﷺ تسلیم کرتے ہیں تو آپ کو بھی درد ہونا چاہیے۔

خدا کی قسم!
اگر مولا علی علیہ السلام صفین میں تلوار نہ اٹھاتے تو حق اور باطل کبھی واضح نہ ہوتا لوگ اپنی زندگیاں نفاق میں گزار کر جہنم واصل ہوتے رہتے اور اگر کربلا میں مولا حسین علیہ السلام یزید کے سامنے کھڑے نہ ہوتے تو اس وقت روئے زمین پر ایک بھی مسلمان نہ ہوتا۔

آج اگر آپ اور میں مسلمان ہیں
اور حسین کی جنت میں جانے کے امیدوار ہیں تو مولا حسین علیہ السلام کا غم دل میں ہونا چاہیئے اور یہی محبت اہل بیت ہے جیسے امام شافعی سے پوچھا گیا کہ یا شافعی انتا رافضی؟ تو امام شافعی نے کہا تھا کہ اگر اہل بیت کی محبت رفض ہے تو مجھے فخر ہے کہ میں رافضی ہوں(سوانح شافعی)

مولا حسین علیہ السلام کا تو کسی فرقے سے کوئی واسطہ نہیں ہے حسین تو سب کا ہے، نبی کریم ﷺ نے حسین کو جس جنت کا سردار بنایا ہے
اس میں آپ شیعہ ،سنی بن کر نہیں صرف اور صرف مومن بن کر داخل ہوں گے، آج بھی وقت ہے ابھی آپ کی سانسیں چل رہی ہیں
اہل بیت سے محبت و مودت کو اپنا ایمان بنائیئے آپ کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی

اللھم صل علی محمد و علی آل محمد۔

*الدعاء*
یا رب کائینات ہمیں سچ بولنے سچ کو پہچاننے اور سچ کی مدد کی توفیق عطا فرماء
آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
ہمارے ہیں حسین سلام اللہ علیہ