ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی آر ٹی عریبیہ سے خصوصی گفتگو
پاک بھارت تناؤ کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو جاننا ضروری ہے۔
بھارت اس خطے میں، خاص طور پر پاکستان میں، دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔
بھارت حقیقت چھپانے کے لیے جھوٹے بیانیے کے پیچھے چھپ رہا ہے۔
پہلگام واقعے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔
بھارتی ترجمانِ خارجہ نے دو دن بعد تسلیم کیا کہ تفتیش ابھی جاری ہے۔
بغیر تفتیش اور شواہد کے الزامات لگانا کہاں کی دانشمندی ہے؟
حکومتِ پاکستان نے واضح موقف اپنایا کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو اسے کسی غیر جانبدار ادارے کو دیا جائے، ہم مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔
بھارت نے اس منطقی اور معقول پیشکش کو رد کر دیا اور یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے ہماری مساجد پر میزائل داغے۔
بھارتی حملوں میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شہید کیا گیا۔
بھارت پاکستان میں جاری دہشت گردی کا اصل سرپرست ہے، چاہے وہ خوارج ہوں یا بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ۔
افواجِ پاکستان کی مقدس ذمہ داری ملک کی خودمختاری اور سرحدوں کا تحفظ ہے۔
ہم نے یہ ذمہ داری پوری کی ہے اور آئندہ بھی ہر قیمت پر نبھائیں گے۔
پاکستان نے بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری، سخت اور مؤثر جواب دیا جس سے دشمن کو حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔
6 اور 7 مئی کی رات بھارت نے میزائل داغے، جس کے جواب میں پاک فضائیہ نے دشمن کے 5 طیارے مار گرائے۔
قوم اور افواجِ پاکستان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہو گئیں۔
دشمن نے ہمیں ڈرانے کے لیے 9 اور 10 مئی کی شب مزید میزائل داغے۔
بھارت بھول گیا کہ پاکستان کی قوم اور افواج نہ کبھی جھکتی ہیں، نہ جھکائی جا سکتی ہیں۔
10 مئی کی صبح ہم نے نہایت ذمہ داری اور احتیاط سے صرف ان کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
کسی بھی شہری ہدف کو نقصان نہیں پہنچایا گیا — یہ ایک مناسب، منصفانہ اور متوازن جواب تھا۔
بھارتی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے خود جنگ بندی کی درخواست کی۔
ہم امن اور استحکام کے خواہاں ہیں، اس لیے ہم نے جنگ بندی قبول کی۔
ہماری سفارتی کور نے انتہائی مؤثر اور دانشمندانہ انداز میں عالمی برادری کو انگیج کیا۔
ہم پرتشدد قوم نہیں، ہم ایک سنجیدہ قوم ہیں، اور ہماری پہلی ترجیح امن ہے۔
امریکہ جیسی بڑی اور باشعور طاقتیں بہتر انداز میں سمجھتی ہیں کہ پاکستان کے عوام کا جذبہ کیا ہے