آئینہ وقت
تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں
جنگ کا شدید خطرہ اور معیشت کا مذاق
ملک اس وقت جس نہج پر کھڑا ہے، وہاں صرف ہوش کے ناخن نہیں بلکہ مکمل ہوش و حواس کی ضرورت ہے۔ دنیا کی نگاہیں ہم پر جمی ہوئی ہیں، خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، اور اندرونی طور پر ہم ایک خطرناک معاشی و سیاسی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ ایسے نازک موقع پر قوم کو اتحاد، قربانی اور کفایت شعاری کا پیغام دینا چاہیے تھا، مگر ہماری وفاقی حکومت نے جو “اصلاحی” اقدامات کیے ہیں، وہ عقل و دانش کا مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔
ایمرجنسی فنڈز کی قلت کے باعث وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کے ہزاروں محنت کش ملازمین، ملک کے مستقبل کے معمار اساتذہ اور انسانیت کے محافظ ڈاکٹرز کو بیروزگار کر دیا۔ ان لوگوں کو جنہیں اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے، بغیر کسی واضح حکمتِ عملی کے نوکریوں سے فارغ کر کے معاشی اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔
لیکن حیرت انگیز طور پر، ان “اصلاحات” کی اصل روح اس وقت کھلی جب یہ انکشاف ہوا کہ اسی معاشی بحران کے دور میں اتوار کے دن، وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں 140 فیصد اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں 188 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ گویا جن پر کفایت شعاری کی مثال قائم کرنے کی سب سے بڑی ذمے داری تھی، وہی خود کو اس قوم کی کھوکھلی جیب سے بھرنے میں مصروف ہیں۔
سوال یہ ہے: کیا یہی وہ قربانی ہے جس کی توقع اس قوم سے کی جا رہی ہے؟ کیا ریاستِ مدینہ کے دعوے داروں کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں؟ کیا عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوں اور وزراء کو تنخواہ میں ڈھائی گنا اضافہ مل جائے، تو اسے معاشی اصلاح کہا جا سکتا ہے؟
قوم آج بھی تیار ہے قربانی کے لیے، بشرطیکہ انہیں یہ یقین ہو کہ قیادت خود بھی ایثار کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ لیکن جب فیصلے مفاد پرستوں کے فائدے کے لیے ہوں اور عوام پر صرف بوجھ ڈالا جائے، تو وہ دن دور نہیں جب خالی پیٹ اور ٹوٹے خواب ایک نیا طوفان جنم دیں گے۔
ملک جنگ کے دہانے پر ہے، داخلی انتشار بڑھ رہا ہے، اور عوام میں مایوسی گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکمران طبقہ خود احتسابی کا آغاز کرے اور عملی طور پر ثابت کرے کہ وہ اس وطن کو بچانے کے لیے واقعی سنجیدہ ہے۔
ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں توپوں اور ٹینکوں سے نہیں، عدل، اخلاص اور قربانی سے محفوظ رہتی ہیں۔