*گر تو برا نہ مانے*
ڈاکٹر کا معاشرے میں مقام قابل ستائش ہے
تحریر حاجی محمد ناصر سٹار ایشیا نیوز
روز نامہ سفیر پنجاب ملتان
ڈاکٹرز معاشرے میں ایک مقام رکھتے ہیں ان کی خدمات قابل ستائش اور قابل بیاں ہوتی ہیں ہر کوئی ان کی شخصیت اور ان کے مقدس پیشہ کو سلام کرتا ہے خصوصا ڈاکٹرز کی جتنی قدر دنیا میں ہوتی ہے شاید ہی اتنی کسی اور شخصیت کی ہوتی ہو ڈاکٹروں کا پیشہ مسیحائی پیشہ ہے یہ ایسا مقدس پیشہ ہے جس سے انبیاءاور اولیا ءاللہ جیسی عظیم ہستیاں منسلک رہی ہیں جاں بہ بلب اور تڑپتے مریضوں کا آخری سہارا یہی ڈاکٹر بنتے ہیں رات دن دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کر کے ان کی دعائیں لیتے ہیں اور آخرت میں مستحق اجر ٹھہرتے ہیں زمانہ کے بدلتے رنگ ہوں یا حالات کی تلخیاں اور بے رخیاں برستے بادل ہوں یا کڑکتی بجلیاں کوئی بڑی سی بڑی مصیبت بھی ان کے مقصد کو متزلزل نہیں کر سکتی ہر وقت خدمت خلق میں مصروف رہنا انہی لوگوں کا شیوہ ہے ڈاکٹر ہمارے معاشرے کا وہ محسن طبقہ ہے جو صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ہمارے ان محسنوں کا شریعت میں مقام کیا ہے اور ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں شرعی حساب سے روشنی ڈالتے ہیں کسی بھی سماج میں ڈاکٹر اور معالج کی خاص اہمیت ہے ﷲ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں ایسا وجود عطا کیا ہے جس میں خوبیوں اورصلاحیتوں کے ساتھ ساتھ خامیوں اور مجبوریوں کی آمیزش بھی پائی جاتی ہے انسان کی طاقت و قوت کا حال یہ ہے کہ کائنات کی بڑی سے بڑی اور طاقتور سے طاقتور ترین مخلوق بھی انسان کی قوتِ تسخیر کی اسیر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی کمزوری اور ناطاقتی کا حال یہ ہے کہ معمولی کیڑے مکوڑے بھی اسے نقصان پہنچاسکتے ہیں ایک بالشت کا سانپ بھی اس کی جان لے سکتا ہے اور بیماریاں اسے آسانی سے بچھاڑ سکتی ہیں ﷲ تعالیٰ نے اس کائنات میں زہر کے ساتھ ساتھ اس کا تریاق بھی پیدا فرمایا ہے اور بیماریوں کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ﷲ تعالیٰ نے بڑھاپے کے سوا ہربیماری کی دوا پیدا کی ہے اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل اور تجربہ کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے دواؤں کو دریافت کرے اس کام کو میڈیکل سائنٹسٹ اور ڈاکٹرز انجام دیتے ہیں اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی خدمت کے پہلو سے ان کی خدمات نہایت اہم ہیں بھوکے کو کھانا کھلانا محتاج کو کپڑے پہنانا معذور کے کام میں ہاتھ بٹانا اور ضرورت مند کی حاجت پوری کرنا یہ سب مخلوق کی خدمت ہے لیکن انسان سب سے زیادہ خدمت کا محتاج اس وقت ہوتا ہے جب وہ مریض ہو بیماری انسان کو اس مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ کھانا موجود ہونے کے باوجود وہ کھانہیں سکتا ہاتھ پاؤں سلامت ہیں لیکن وہ ایک قدم چل نہیں سکتا اور تیماداری اور مددگاروں کے رحم و کرم کا محتاج ہوجاتا ہے اسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مریض کی عیادت اور تیمار داری کو بے حد اجر کا باعث قرار دیا ہے آپ انے فرمایا جب تک ایک شخص مریض کی عیادت میں رہتا ہے گویا وہ جنت کے باغ میں ہے اس طرح ڈاکٹر گویا اپنی ڈیوٹی کے پورے وقت اس حدیث کا مصداق ہوتا ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے اور کون ہے جو انسانوں کے لئے ڈاکٹر اور معالج سے بڑھ کر نافع ہو اس طرح گویا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ سے ڈاکٹر کو خیر الناس ( بہترین انسان ) کا ایوارڈ ملا ہے ان سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہوسکتا ہے فن طب کی اسی اہمیت کی وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصل علم دو ہی ہیں فقہ کہ زندگی گذارنے کا طریقہ معلوم ہو اور طب تاکہ جسم انسانی کی اصلاح پر قدرت ہو سکے ہمارے شہر کے ڈاکٹرز بھی کسی مسیحا سے کم نہیں بالخصوص ڈاکٹر اطہر روف رانا ڈاکٹر کامران سہیل ڈاکٹر عاصم رضا ڈاکٹر آصف رضا خان ڈاکٹر سہراب ڈاکٹر ارتضی شاہ ڈاکٹر سعید مالک ڈاکٹر سہیل فاروق ڈاکٹر جمشید ڈاکٹر حنا عباس سیال اور انکے علاوہ دیگر ڈاکٹر قابل تعریف ہیں جو جھنگ میں اپنے فرائض جاری رکھے ہوئے ہیں میں ان سبکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے جھنگ کے ڈاکٹرز کو لمبی عمر عطا فرمائے اور دو جہانوں کی خوشیاں نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
حاجی محمد ناصر سٹار ایشیا نیوز
روز نامہ سفیر پنجاب ملتان