*امریکی پسپائی، مشرقِ وسطیٰ کا خلاء، پاکستان کا کردار اور عالمی طاقت کا نیا توازن:*
*امریکی پسپائی، مشرقِ وسطیٰ کا خلاء، پاکستان کا کردار اور عالمی طاقت کا نیا توازن:*
امریکی دیہی ووٹرز کے تازہ سروے (2,241 رجسٹرڈ ووٹرز) نے واشنگٹن کے اُس بیانیے کی قلعی کھول دی ہے جس میں ایران-اسرائیل تنازعے کو عوامی ترجیح بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق دیہی ووٹر کے لیے سب سے اہم مسئلہ اشیاء خوردونوش سے مہنگائی (69 فیصد)، ہیلتھ کیئر اخراجات (56 فیصد) اور سوشل سیکورٹی (56 فیصد) ہے، جبکہ روس-یوکرائین، ایران-اسرائیل سے تنازعہ صرف 42 فیصد لوگوں کے لیے اہم ہے۔ یعنی عام امریکی شہری خوراک، دوائی اور بنیادی سہولیات کی فکر میں ہے، لیکن واشنگٹن اسے الٹا پیش کرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو امریکی جنگوں میں پسپائی کا سبب بنتا رہا ہے اور اب واضع ہو چکا۔
تاریخ اس کا گواہ ہے۔ کوریا (53-1950ء) میں امریکہ جیت نہیں سکا، 36,000 سے زائد فوجی مارے گئے، جنگ بندی پر خاتمہ ہوا اور اب تک کوریا جنگ ماحول ویسے کا ویسا رہا۔ ویتنام (75-1955ء) واضح ہار تھی: 58,000 زیادہ امریکی فوجی ہلاک، 1 ٹریلین ڈالرز خرچ، اور سائگون سے ہیلی کاپٹر پر فرار ہونا پڑا ۔ افغانستان (2001ء -2021ء) میں 20 سال، 2.3 ٹریلین ڈالرز، 2,4000 اتحادی فوجی ہلاک، اور آخر میں طالبان کی واپسی ہوئی۔ ایران-اسرائیل جنگ (26-2025ء) بھی اسی پیٹرن کا تسلسل ہے، جہاں امریکہ نقصان چھپاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے 80 فیصد میزائل زیرِ زمین محفوظ رہے ہیں، امریکی میزائل 2 سے 4 ملین ڈالرز کے ہیں، جبکہ ایرانی ڈرون صرف 20,000 ڈالر کے۔ یہی وجہ ہے کہ 58 فیصد امریکی دفاعی ماہرین اسے اہم ہی نہیں سمجھتے۔ یہ پسپائی افغانستان سے شروع ہو کر عراق، شام اور یمن تک پہنچی۔ 2022ء میں اسرائیل امریکہ نے یمن میں جارحانہ حمایت ختم کرنے کا اعلان کیا، یعنی میدان چھوڑ دیا۔
اسی خلاء میں اسرائیل کی خواہش اور متحدہ عرب امارات کی مداخلت سامنے آئی۔ سعودی عرب زمینی جنگ لڑتا رہا، جبکہ UAE نے سمندری قبضہ مکمل کر لیا ۔ DP World کے ذریعے عدن، مکلا، بربرہ اور بوساسو بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کیا، سقطری، میون، عبد الکوری اور زقر پر خفیہ ہوائی اڈے بنائے، اور STC کے نام سے جنوبی یمن علیحدگی پسند فورس کھڑی کی۔ RUSI کی رپورٹ کے مطابق STC کے علاقے باب المندب کنٹرول کے لیے اسٹریٹجک ہیں، اور اسرائیل وہاں سے حوثی میزائل سائٹس کی انٹیلی جنس جمع کرتا ہے۔ یمن نے الزام لگایا کہ UAE اسرائیلی افسران کو بغیر ویزے سقطری لا رہا ہے۔ حوثیوں (انصاراللہ) کے بدترین حملوں نے ایلت بندرگاہ کی آمدنی 80 فیصد کم کر دی تھی، تو اسرائیل نے UAE کے اڈوں کو متبادل نظام بنا لیا۔ 30 دسمبر 2025 کو سعودی عرب نے خود مکلا میں متحدہ عرب امارات کے ہتھیاروں کی کھیپ پر بمباری کی، جس میں 20 افراد مارے گئے۔ یعنی امریکی اتحادی آپس میں لڑ پڑے، اور فائدہ اسرائیل کو ہوا۔
امریکی اڈوں کی تباہی کا سچ بھی سوشل میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ کہ کوئی اڈہ مکمل تباہ نہیں ہوا، لیکن تمام اڈے متاثر ہوئے، 60 جدید طیارے، 228 ملٹری کی عمارتیں، ریڈار اور ہینگر تباہ ہوئے۔ الحدید قطر، الظفرہ UAE، پرنس سلطان سعودی عرب، علی السالم کویت اور بحرین میں پانچویں امریکی بیڑے کا ہیڈکوارٹر — سب پر ناکارہ ہوگئے۔ امریکہ نے فوجیں، ناکارہ بحری بیڑے 3000 کلومیٹر دور واقع جزیرہ ڈیگو گارسیا منتقل کیں۔ دنیا جان گئی کہ امریکی دفاعی چھتری محفوظ نہیں۔ ایسی صورتحال میں سعودی عرب کو مکہ دفاعی معاہدہ ترجیح دینی چاہیے تھی: حرمین کو ریڈ لائن قرار دینا، یمن بارڈر پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنگ بندی، اور مسلم ممالک کا مشترکہ فضائی دفاع۔ لیکن امریکی انتظامیہ یا اسرائیل کی خواہش پر سعودی کو افغانستان-یمن فنانسنگ میں پھنسایا گیا، حالانکہ وہ پیسہ بحالی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اس سے باہمی احترام ضائع ہوا۔
عالمی سطح پر گھیراؤ مزید گہرا ہو رہا ہے۔ امریکی مڈٹرم 2026ء میں امریکی ووٹرز کو کسی جنگ سے دلچپسی نہیں، اسے مہنگائی سے ہے۔ اگر بتایا جائے کہ ایک جنگ دو ٹریلین ڈالر یعنی ہر (دو افراد) خاندان پر 16,000 ڈالرز قرض ہے، تو سوال اٹھے گا کہ مہنگائی، بےروزگاری، خوراک، ہیلتھ کیئر مہنگا کیوں۔ اس لیے امریکی انتظامیہ نقصانات چھپاتی ہے۔ روس-یوکرین تنازعے نے دونوں محاذوں پر امریکی مزائل اسٹاک خالی کر دیے۔ 175 ارب ڈالرز یوکرائن جنگ میں ضائع ہو چکے۔ الٹا روس نے ایران کو S-400 اور Mi-28 ٹیکنالوجی دے دی، یعنی ایک جنگ دوسری کو طاقت دے رہی ہے۔ چین-مصر اتحاد منظم ہوا۔ Eagles of Civilisation 2026ء مشقیں 22 اگست سے 7 ستمبر تک تین مرکزی مصری فوجی اڈوں پر ہوئیں۔ چین نے پہلی بار J-16، KJ-500 AWACS اور Y-20 ٹینکر 6000 کلومیٹر اڑا کر بھیجے۔ مصر نے رافیل اور MiG-29 سے حصہ لیا۔ مصر نے واضح کیا کہ ہم امریکی 1.3 ارب امداد کے غلام نہیں رہے، چین ٹیکنالوجی ٹرانسفر دیتا ہے۔ سوئز نہر کے گرد چینی فیکٹریاں ہیں، اب اس کی حفاظت چین کرے گا۔ یہی ماڈل سعودی کے لیے بھی راستہ ہے کہ وہ امریکہ کے بجائے پاکستان-ترکی-چین سے دفاع لے۔
پاکستان کا مصالحتی کردار اس میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا MOU جسے مکمل عالمی حمایت حاصل ہے، جسے اندرونی معاملات میں پھنسایا جا رہا ہے اور انڈیا-اسرائیلی مداخلت جاری ہے۔ تین معاہدے اس کی واضح مثالیں ہیں:
پہلا معاہدہ (پاک-سعودی SMDA): 17 ستمبر 2025ء، الیمامہ محل میں دستخط ہوئے، جس کی شق ہے کہ “ایک پر حملہ دونوں پر حملہ”۔ پہلی بار پاکستان نے کسی ملک سے اجتماعی دفاع کا معاہدہ کیا۔
دوسرا معاہدہ (مکہ مشترکہ دفاع): 7 اگست 2026ء، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا — کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان نے مئی 2026ء میں 8,000 فوجی، JF-17 سکواڈرن اور HQ-9 ایئر ڈیفنس سعودی کے کنگ عبدالعزیز اڈے پر تعینات کیے۔ DG ISPR نے کہا ہم سعودی عرب کا مکمل دفاع کریں گے۔
تیسرا MOU (اسلام آباد MOU): 17 جون 2026ء — ایران-اسرائیل-امریکہ جنگ کے تناظر میں۔ پاکستان اور قطر نے اسے بروکر کیا، یہ ایک 14 نکاتی معاہدہ ہے جس پر امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ڈیجیٹل دستخط موجود ہیں۔ آرٹیکل(MOU) میں تمام محاذوں (فلسطین، لبنان، ہرمز) پر فوری اور مستقل خاتمے کی شرائط ہے۔ یہی وہ MOU ہے جس کی روح 60 دن کی ابتدائی جنگ بندی میں اور اقوام متحدہ کے قوانین سے ہم آہنگ مستقل امن ہے۔
یہ 60 دن کا روڈ میپ درج ذیل اصولوں پر استوار ہے:
کسی نئی پابندی اور کسی نئے حملے کے بغیر صرف مذاکرات۔
ہرمز کی نگرانی ایران-عمان UNCLOS کے تحت، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ۔
فلسطین میں UNSCR 2728 اور یمن میں UN 2022 جنگ بندی کی بحالی۔
60 دن میں 300 ارب ڈالر کا ‘ایران تعمیر نو فنڈ’، اور 12 ارب ڈالرز ایران کے منجمد اثاثے واپس ہوں گے۔
امریکہ نے 7 جولائی کو اسے توڑ دیا کیونکہ اسرائیل نے کہا ہم فلسطین و لبنان میں حملے جاری رکھیں گے، حالانکہ MOU میں اسرائیل بھی امریکی اتحادی کے طور پر شامل تھا۔ 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کے دوران ایران نے پھر 7 دن کا روڈ میپ دیا۔
پاکستان تینوں MOU کا واحد ضامن ہے جسے عالمی حمایت سمیت سعودی، ایران اور امریکہ تینوں مانتے ہیں۔ اسی لیے اسے پھنسایا جا رہا ہے۔ انڈیا ٹیرر فنانسنگ سے محاذ گرم رکھ کر۔ اسرائیل انڈیا کو ہیرون ڈرون Drones اور اسپائس بم دیتا ہے، اور UAE کے اڈوں سے پاکستان کے HQ-9 کی جاسوسی کرتا ہے۔ دونوں چاہتے ہیں کہ 60 دن والا اقوام متحدہ امن ناکام ہو، جنگیں چلتی رہیں۔
امریکی پسپائی سے شروع ہونے والا خلاء، متحدہ عرب امارات-اسرائیل کا اس خلاء کو پر کرنا، امریکی اڈوں کا ناکارہ ہونا، مڈٹرم اور یوکرین اور چین-مصر سے امریکہ کا مزید کمزور ہونا، پاکستان کے تین MOU سے 60 دن اقوام متحدہ ہم آہنگ امن کا راستہ، اور اس راستے کو روکنے کے لیے انڈیا-اسرائیلی مداخلت — یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں۔ حل وہی مکہ دفاعی معاہدہ اور پاکستان کی ثالثی(MOU) ہے، ورنہ اگلا نشانہ سوئز نہر ہوگی جہاں سے دنیا کی 30 فیصد تجارت گزرتی ہے اور عالمی بحران مزید گہرا ہوگا۔ایشیا پیسیفک کی طرف واپسی ، امریکہ کی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی (NDS) کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال مزید واضح ہوتی ہے۔ امریکہ نے تسلیم کیا کہ یورپ سیکنڈری تھیٹر ہے، جبکہ وہ چین کے دورے میں اپنے 4 اہداف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا۔
17 جون 2026ء کو رونما ہونے والے واقعات نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کو یہ ناکامی کیوں ہوئی۔ واشنگٹن نے انڈو-پیسیفک کو ختم کر کے دوبارہ ایشیا پیسیفک کر دیا۔ یاد رہے کہ 2018ء میں اسی ٹرمپ انتظامیہ نے Indo-Pacific بنایا تھا تاکہ انڈیا کو ساتھ ملا کر چین کو بحر ہند میں گھیرا جا سکے۔ اب اسی نے “Indo” کاٹ دیا ہے۔
اس تبدیلی کے واضح اثرات درج ذیل ہیں:
یورپ کو پیغام: اپنی حفاظت خود کرو (SAFE €150 ارب، €800 ارب بجٹ)۔
انڈیا کو پیغام: تم بھی اپنی حفاظت خود کرو، ہم Indo-Pacific نہیں، صرف Pacific دیکھیں گے۔
مشرق وسطی عرب ممالک کو پیغام: اپنی حفاظت خود کرو۔
چین کو پیغام: شی جن پنگ نے 24 ستمبر کو White House میں کہا تھا “Pacific is large enough for both countries” — امریکہ نے یہ مان لیا اور بحر ہند چین کے لیے چھوڑ دیا۔
امریکی ایجنڈا کیوں نامکمل رہا؟
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ایک ہی وقت میں متعدد عالمی محاذوں پر پسپا ہو رہا ہے۔ پہلے سے موجود چار جنگوں کی پسپائی کے بعد یہ پانچویں یعنی نظریاتی پسپائی ہے:
افغانستان سے فوجی پسپائی
مشرق وسطی سے دفاعی و سیاسی پسپائی
یورپ سے دفاعی پسپائی
چین سے تجارتی پسپائی؛ جہاں ٹروس صرف 10 جنوری 2027 تک بڑھا اور rare-earth پر چین نہیں مانا)
انڈو-پیسیفک سے نظریاتی پسپائی (Asia Pacific میں واپسی کی صورت میں)
جب ایک عالمی طاقت خود اپنا دیا ہوا نام اور سٹریٹیجک اصطلاح واپس لے لے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود مان رہی ہے کہ اس کا 2018ء والا گھیراؤ کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔
نتائج اور نیا جغرافیائی توازن
بحر ہند سے امریکی انخلاء: امریکہ بحر ہند چھوڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مکہ مشترکہ دفاع خلاء کو پر کرے گا۔
ہرمز پر کنٹرول میں کمی: امریکہ مندب ہرمز میں ناکہ بندی قائم رکھنے کی صلاحیت کھو رہا ہے، جہاں 60 دن والا UN ہم آہنگ اسلام آباد MOU نافذ العمل ہو سکتا ہے۔
یورپ کا دفاعی انحصار: امریکہ یورپ کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں، جس کی جگہ €800 ارب والا یورپی Defence Union لے گا۔
اسی لیے انڈیا-اسرائیلی مداخلت اب تیز ہو چکی ہے؛ کیونکہ دونوں طاقتیں جانتی ہیں کہ Indo-Pacific ختم ہوتے ہی باب المندب، آبنائے ہرمز اور سوئز کینال تینوں کا کنٹرول امریکہ کے ہاتھ سے نکل کر ان ممالک کے ہاتھ میں چلا جائے گا جو MOU (مکہ دفاعی معاہدے) والے UN قانون کی بات کرتے ہیں، نہ کہ امریکی فوجی اڈوں کی۔
اس موضوع میں درج اعدادوشمار مختلف تاریخی واقعات مختلف صحافتی ماہرین کے تجزیوں اور عالمی ذرائع ابلاغ کے جائزوں پر مبنی ہیں۔ آزاد تصدیق اور تنقیدی جائزہ لازمی ہے۔