انسانی معدنی و آبی وسائل کے باوجود پاکستان کیوں پیچھے ہے ؟ تحریر: منزہ کوثر بخاری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انسانی معدنی و آبی وسائل کے باوجود پاکستان کیوں پیچھے ہے ؟
تحریر: منزہ کوثر بخاری
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
پاکستان وہ ملک ہے جس کے پاس زمین کے اندر کوئلہ، سونا، تانبا، نمک اور معدنیات ہیں، پانی کے بے پناہ ذخائر ہیں، زراعت میں دنیا کے بڑے پیدا کنندگان میں شمار ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی جوان آبادی بھی موجود ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پھر بھی پاکستان ترقی کیوں نہیں کر پاتا؟ اس کی وجہ نہ صرف قدرتی وسائل کا کم ہونا ہے اور نہ صرف آبادی کا بڑھنا؛ اصل مسئلہ وہ پالیسی ہے جو جوانوں کو وسائل سے جوڑ نہیں پاتی۔
پاکستان کے پاس 200 سال کوئلے(توانائی) کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں 16 واں بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ تھر میں 175 سے 185 ارب ٹن لگنائٹ کوئلہ ہے، جسے 1991 میں جی ایس پی اور یو ایس جی ایس نے دریافت کیا۔ یہ ذخائر 9,000 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ سعودی عرب کے تیل سے دو گنا زیادہ توانائی کے برابر ہیں۔ بعض حوالوں میں تھر کو دنیا کا پانچواں بڑا کوئلہ میدان بھی کہا جاتا ہے۔ اب تک صرف 1,620 ملین ٹن نکالنے کے قابل بلاکس میں کام شروع ہوا ہے، باقی بند پڑا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ تھر کے کوئلے کا ذخیرہ 30 سال تک پڑا رہا۔ تھر کوئلہ 1988 میں ملا، مگر بجلی 2022 میں بنی۔ یعنی 34 سال ضائع ہوئے ؟؟؟
پاکستان میں یہ سرکاری فگر ہے (Geological Survey of Pakistan کے مطابق 92 معدنیات دریافت، 52 تجارتی پیمانے پر نکالی جا رہی ہیں)۔
سرکاری رپورٹ Trade Development Authority of کہتی ہے:
600,000 مربع کلومیٹر میں معدنیات پھیلی ہیں
5,000 کانیں، 50,000 SMEs، 300,000 مزدور
لیکن GDP میں حصہ صرف 3 فیصد، برآمدات دنیا کا 0.1 فیصد
پاکستان سونا اور تانبا پیدا کرنے والے ممالک میں دنیا میں پانچویں بڑے ذخیرے کا مالک کہا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر 12.3 ملین ٹن تانبا اور 20.9 ملین اونس سونا موجود ہے۔ اس کی مالیت 260 ارب ڈالر سے لے کر 3 ٹریلین ڈالر تک اندازہ لگائی جاتی ہے۔ سیندک سے کچھ پیداوار جاری ہے، مگر ریکوڈک ابھی تنازعے میں پھنسایا گیا ہے۔
کھیوڑہ دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ہے، جس کی عمر 320 ملین سال بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں معدنیات جن میں کرومائٹ، جپسم، سنگ مرمر اور چائنا کلے شامل ہیں۔
دریائے سندھ اور اس کے پانچ معاون دریا سالانہ 138 ملین ایکڑ فٹ پانی لے کر آتے ہیں۔ پنجاب میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے۔ ہائیڈرو صلاحیت 41,000 سے 45,000 میگاواٹ ہے، مگر بن صرف 6,555 میگاواٹ ہے۔ یعنی 45,000 کا پوٹینشل ہونے کے باوجود 15 فیصد بھی استعمال نہیں ہو سکا۔ پاکستان کے پاس 1,046 کلومیٹر سمندر بھی ہے، جبکہ سولر اور ہوا کی صلاحیت الگ ہے۔
زرخیز زمین کے باعث زرعی پیداوار میں پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کپاس اور آم پیدا کرنے والا، پانچواں گنا اور دودھ پیدا کرنے والا، آٹھواں گندم اور 11 واں چاول پیدا کرنے والا ملک ہے۔ بعض جائزوں میں گندم، چاول اور کپاس میں مجموعی طور پر ساتواں بڑا پیدا کنندہ بھی کہا جاتا رہا ہے۔ مگر افسوس۔
وسائل بے پناہ ہیں، پالیسی ناقص، جبکہ کوئلہ 200 سال بجلی دے سکتا ہے، ریکوڈک 50 سال کا بجٹ بن سکتا ہے، پانی سے 45,000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین خود کہتے ہیں کہ “mismanagement, lack of strategic planning” نے ان وسائل کے استعمال کو روکا۔ پاکستان کے پاس جوان آبادی اور قدرتی وسائل دونوں موجود ہیں، لیکن ان کو جوڑنے والا پل — انفراسٹرکچر، ٹیسٹنگ، ہنر — وہی کمزور ہے۔
Demographic Dividend: دنیا کی پانچویں بڑی جوان آبادی پاکستان کے پاس وہ سب وسائل ہیں، جس کے لیے جاپان، اٹلی اور جرمنی ترس رہے ہیں — جوان آبادی۔ لیکن فرق پالیسیوں کا ہے۔
پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی demographic dividend والا ملک ہے۔ 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔ ہر سال 40 لاکھ نوجوان جاب مارکیٹ میں آتے ہیں۔ بزرگ صرف 4.5 فیصد ہیں، یعنی ” پنشن کا بوجھ ” جاپان، اٹلی کے 25 فیصد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اٹلی کو ایک بزرگ پالنے کے لیے 2.5 جوان چاہئیں، پاکستان میں ایک بزرگ کے لیے 15 جوان موجود ہیں—
قدرتی وسائل کے لحاظ سے بھی پاکستان کے پاس دنیا کا پانچواں بڑا کوئلہ، یعنی تھر، موجود ہے۔ گندم، چاول اور کپاس میں پاکستان دنیا کے بڑے پیدا کنندگان میں شامل تھا۔ 60 فیصد پہاڑی پانی، قدرتی بارشیں، دریا سمندر اور معدنیات بھی موجود ہیں۔
پھر مسئلہ کہاں ہے ؟؟؟
کیونکہ پاکستان نے اپنے نوجوانوں کا فائدہ نہیں اٹھایا۔
100 میں سے 40 بچے اسکول سے باہر ہیں۔ وہی 50,000 بچے جو 10 سال بعد جوان ہوں گے، علم و ہنر کے بغیر ہوں گے۔
ہر سال 40 لاکھ جوان آتے ہیں، مگر نوکریاں صرف 10 لاکھ بنتی ہیں۔ یعنی 30 لاکھ بے روزگار۔۔۔
صحت: 100,000 میں 6,000 سے 9,000 بیمار بچے پیدا ہوتے ہیں، مگر ٹیسٹنگ سسٹم نہیں۔ اگر اسکریننگ نہ ہو تو وہی بچے علاج پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
پالیسی تسلسل: جاپان نے 1970 میں ہی سوچ لیا تھا کہ 2025 میں اس کی آبادی بوڑھی ہو گی، اس لیے اس نے روبوٹ بنائے۔ پاکستان نے 2000 میں سوچا تھا کہ 2025 میں جوان زیادہ ہوں گے، لیکن ہنر کے ادارے نہیں بنائے۔
نائجر اور پاکستان دونوں جوان ہیں۔ نائجر غریب ہے کیونکہ وہاں وسائل کم ہیں۔ پاکستان میں وسائل ہونے کے باوجود وہی شرح بے روزگاری ہے، کیونکہ جوان کو وسائل سے جوڑنے والی حکمت عملی — ٹیکنیکل تعلیم، انڈسٹری، ہیلتھ اسکریننگ — مسلسل نہیں رہی۔ دنیا نے پاکستانی جینز سے دوا بنانے کا فائدہ اٹھا لیا، مگر پاکستان نے اپنے ہی بچوں کے لیے اسکریننگ کا نظام نہیں بنایا۔ وسائل سے فائدہ غیروں نے لیا۔
مسئلہ آبادی یا وسائل کا نہیں، پالیسیوں کا ہے۔ جوانی خود بخود نعمت نہیں بنتی، اسے حکمت عملی نعمت بناتی ہے۔
دنیا کے بوڑھے ہوتے ممالک: جاپان، اٹلی، جرمنی، چین
یہ ممالک دنیا کی سب سے تیز بوڑھی ہونے والی مثالیں ہیں۔ تازہ ترین 2024ء – 25 ڈیٹا کے مطابق:
اٹلی میں 65 سال سے اوپر 25.6 فیصد آبادی ہے، جاپان 29.6 فیصد کے بعد سب سے زیادہ۔ ہر 100 جوانوں، یعنی 15 سے 64 سال کے لوگوں، پر 41 بزرگ ہیں۔ Old age index 207 ہے، یعنی ہر 100 بچوں پر 207 بزرگ۔ 2025 میں ہر بزرگ کے لیے کام کرنے والے 2.5 لوگ ہیں، 2050 میں صرف 1.4 رہ جائیں گے۔ میڈین عمر 48 سال ہے، جو 1951 میں 28 سال تھی۔
پنشن پر خرچ GDP کا 16 فیصد ہے، جو یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔
جرمنی میں 65 سال سے اوپر 24.2 فیصد آبادی ہے۔ Old age dependency ratio 2024 میں 36.88 فیصد تھا، جو 2050 میں 51 فیصد ہو جائے گا۔ 2025 میں ہر بزرگ پر 2.6 کام کرنے والے ہیں، 2050 میں 1.9 رہ جائیں گے۔ اصل میں پنشن دینے والوں اور لینے والوں کا تناسب ابھی ہی 50 فیصد کے قریب ہے، 2050 میں 70 فیصد ہو جائے گا۔ یعنی 10 دینے والے 7 لینے والوں کو پالیں گے۔
جرمنی میں ریٹائرمنٹ عمر 67 سے 70 کرنے پر بحث جاری ہے۔
چین Old age dependency 2024 میں 19.0 فیصد تھی، جو ہر سال 3 فیصد بڑھ رہی ہے۔ 65 سال سے اوپر ابھی تقریباً 15 فیصد ہیں، لیکن 2035 تک 30 فیصد ہو جائیں گے۔ یہ 4-2-1 پرابلم ہے: 4 دادا دادی،
ماں باپ، 1 بچہ۔ 100 جوانوں پر 20.7 بزرگ ہیں، سپورٹ ریشو 4.8 ہے، یعنی 4.8 جوان 1 بزرگ کو سنبھال رہے ہیں۔ 10 سال پہلے یہ ریشو 6 سے زیادہ تھا، اب تیزی سے گر رہا ہے۔
چین نے 2025 میں ریٹائرمنٹ عمر بڑھا دی، پہلی بار 70 سال میں۔
100,000 پر سادہ حساب:
ملک جوان کام والے بزرگ پنشن پر لیکن ہر جوان پر بوجھ
جاپان 2025 71,000 29,000 1 جوان = 0.4 بزرگ
اٹلی 2050 58,000 42,000 1 جوان = 0.72 بزرگ
جرمنی 2050 66,000 34,000 1 جوان = 0.51 بزرگ
چین 2024 84,000 16,000 ابھی کم، لیکن 10 سال میں ڈبل
جہاں جوان کم، وہاں آبادی نہیں بڑھتی، سکڑتی ہے۔ اٹلی کی آبادی 59 سے 47 ملین پر آ رہی ہے 2050 تک۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں اور نوجوان بھی۔ لیکن دونوں تصویروں کو جوڑنے کے لیے درکار پل — تعلیم، انفراسٹرکچر، ٹیسٹنگ، ہنر، صنعت اور مسلسل پالیسی۔ اگر پاکستان نے جوانوں کو علم و ہنر، صحت کی اسکریننگ، ٹیکنیکل تعلیم اور صنعت سے نہ جوڑا، تو وہی جوانی بوجھ بن جائے گی۔ اور اگر وسائل کو پالیسی کے ذریعے استعمال نہ کیا گیا، تو کوئلہ، سونا، تانبا، پانی اور زراعت سب دوسروں کے کام آئیں گے۔
مسئلہ آبادی یا وسائل کا نہیں، درست حکمت عملی کا ہے۔ جوان آبادی خود بخود نعمت نہیں بنتی، اسے حکمت عملی نعمت بناتی ہے۔۔۔
کیا پاکستان کی حکومتیں کمپرومائز ہوتی ہیں ؟؟؟
سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی مگر سماجی اخلاقیات کا زوال عروج پر ہے۔ دین اسلام کے تمام مکاتب فکر متعلقین پہلے فرقہ واریت اور اب منافقت کی سیاست کا شکار ۔ نوجوانوں ابھی بھی بہتر نظام حکومت کے قیام کےمنتظر، بادشاہتوں جمہوریتوں میں نوکر شاہی کو بےپناہ مراعات دولت طاقت ملی، عوام کے حصے میں عجیب و غریب اقسام کے منفرد ٹیکس۔ غیر ضروری طاقت نے ہر قسم کے ” نظام حکومت ” سب کو شکست فاش دے دی۔