میدان کربلا میں حضرت امام حسین علیہ اسلام نے تحفظ ختم نبوتﷺ۔تحفظ ناموس رسالتﷺ۔نماز اور قرآن کی حفاظت فرما کر رھتی دنیا تک ان شاءاللہ ایک ایسا حسینی لشکر ھر وقت موجود رھے گا جو مشن حسینی میں مصروف رھے گا۔حضرت امام حسین علیہ اسلام کے نقش قدم پر چلتے ھوئے۔ھر ظالم۔فاسق۔جابر حکمران ھو یا کوئی وڈیرہ کے سامنے کلمہ حق کہتا رہے گا۔اس وقت تحفظ ختم نبوتﷺ۔تحفظ ناموس رسالتﷺاور تحفظ قرآن اور تحفظ بیت المقدس اور تحفظ ناموس حرمین کے لیے جو جو بھی جہاں کہیں بھی آواز حق بلند کررھا ھے۔زبان سے قلم سے۔جلسے جلوس سے۔یا پھر اپنی جان سے جہاد کررھا ھے۔سبھی حسینی لشکر کے سپاھی ھیں۔سبھی کو یزیدی۔فرعونی۔نمرودی قوتوں یکساں خطرات ھیں۔سبھی اپنی جان ہتھلی پر رکھکر اسلام کی سربلندی کے لیے بے دروسامانی کی حالت میں مصروف جہاد ھیں۔57حکمران آپ دیکھ رھے ھیں کس طرح طاغوتی طاقتوں کے آلہ کار بن کر یزیدی کردار ادا کررھے ہیں۔اس وقت کوئی حکمران قابل اطاعت نہیں بلکہ قابل گرفت ھیں۔جو غزہ میں مسلمانوں کی مدد کو نہیں پنچے۔جو معصوم بچوں کی پکار پر چپ سادھے بے غیرت بنے بیھٹے ھیں ایسے حکمران کب قابل اطاعت ھیں۔؟؟؟؟اس وقت جو بھی گے گزرے دور میں دین کا کام کررھے ھیں۔انکا ساتھ دیں جو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے لیے نکل رھے ھیں۔آواز بلند کررھے ھیں۔انکے ساتھ چلو۔تاکہ آپ کا شمار لشکر حسینی میں ھو ۔نہ کہ چپ رھنے والے کوفیوں اور ظالم جابر یزیدیوں میں ھو۔
دل کی بات
خ ح شہزاد
شاید اس دن DPO آفس میں کچھ ایسا ہونے والا تھا، جس کی شاید خود ڈی پی او احمد محی الدین کو بھی توقع نہیں تھی۔
پی پی اور ہمارے درمیان دراڑیں موجود ہیں تاہم ابھی موجودہ سیٹ اپ کے جانے کی کوئی نشانیاں نہیں۔خواجہ آصف
محسن نقوی نے جو تجویزدی ہے یہ گھسی پٹی ہے، سندھ کےلوگ قبول نہیں کریں گے۔مراد علی شاہ
سندھ کے عوام بھی پنجاب جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔رانا سکندر حیات
وفاقی حکومت کیخلاف مشترکہ تحریک چلانے کیلئے تحریک انصاف کے جے یوآئی ف سے رابطے