دل کی بات
خ ح شہزاد
غزہ سے صدا آرھی ھے۔کوفیوں آدھر آؤ۔؟
دنیا کے مزاہب کا اگر مطالعہ کیا جائے تو آپکو پتہ چلے گا کہ سب سے آسان قابل عمل اور دل کے قریب صرف اسلام ھے۔صرف اسلام ھی آپکو آپکے روزہ مرہ معاملات کا حل بتاتا ھے۔صرف اسلام ھی آیکو جامع عبادات اور زندگی کے دنیاوی معاملات کا پیکج دیتا ھے۔ساڑھے چودہ سو سال ھوگے۔ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اسلام کا مطالعہ اس نیت سے شروع کیا کہ معاذ اللہ کوئی غلطی نکالیں۔لیکن جیسے ھی انہوں نے مطالعہ کیا انکے دلوں کے بند دروازے کھل گے جبکہ عیسائی اج تک تثلیث کا نظریہ نہیں سمجھا سکے۔اسلام جس سج دھج سے نکلا تھا۔آہستہ آہستہ اسی طرح غریب الوطن ھوگیا۔یہ سب کچھ طے ھے اور حضور اکرم۔شافع محشر۔ﷺﷺﷺبتاچکے ھیں۔نزدیک قیامت اسلام پر دجالی قوتوں کا غلبہ ھوجائے گا اور وہ کب تک رھتا ھے اللہ تعالی جانتا ھے۔لیکن حضور اکرم ﷺﷺﷺنے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ بیت المقدس کے اردگرد ایک ایسی جماعت موجود رھے گی جو علم جہاد بلند رکھے گی۔مفہوم حدیث۔۔اس وقت آپ دیکھیں کہ 57اسلامی ممالک۔دوارب مسلمان۔پچاس لاکھ سے زیادہ باقاعدہ فوج۔ایطم بم۔سمیت ھر جدید اسلحہ موجود۔دنیاوی مال ودولت کا حساب لگاھیں تو اتنی ھے کہ خرچ کرنے کی جگہ نہیں مل رھی۔دولت خرچ کرنے کے لیے اونچی اثنچی عمارات بنانے کا مقابلہ شروع کردیتے ہیں۔اربوں کھربوں خرچ کردیتے ہیں۔یعنی کسی چیز کی کمی نہیں پھر یہ غزہ کے معصوم بچوں۔عورتوں کی مدد کے لیے کیوں نہیں نکلتے۔؟؟؟یہ بھی حضور اکرم ﷺﷺنے بتادیا تھا۔کہ سب کچھ ھونے کے باوجود تم بذدل اور دنیا کی محبت میں مبتلا ھوجاو گے۔اور جہاد سے منہ پھیر لو گے۔ایک سو سال سے زائد کا عرصہ ھوچکا ھے۔خلافت عصمانیہ کے خاتمہ کے ساتھ ھی جہاد کا باقاعدہ سسٹم ختم ھوگیا۔جہاد سے مسلمانوں کو دور کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گی اور مسلمانوں میں عیسائی اور یہودی علماء مسلمانوں کا روپ دھار کر شامل کیے گے۔جنہوں نے کفار یعنی انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور فرنگی جکومت کو اللھ کی رحمت قرار دیا۔یہ سلسلہ ابھی تک جاری ھے۔ہاں درمیان میں افغانستان میں جہاد کا اعلان کیا گیا لیکن وہ بھی کفار کے مفاد کے لیے۔لیکن جلد اللہ تعالی نے مسلمانوں کو صرف یہ دیکھانے کے لیے کہ سپر طاقت صرف اللہ تعالی ھے۔دو بڑی طاقتوں کو مٹھی بھر مجاہدین کے ہاتھوں شکست دی۔دونوں ابھی تک زخم چاٹ رھے ھیں لیکن پھر بھی مسلمانوں کے دلوں سے خوف نہیں گیا۔اور مسلمان جہاد کی طرف نہیں لوٹے۔اب غزہ پر کفار نے ظلم کی حد کردی۔بلکہ حد سے بھی اگے نکل گے۔پچس لالکھ مسلمان مردوعورت۔بچے بوڑھے سبھی کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا۔عورتوں بچوں کی بے حرمتی کی جارھی ھے لیکن ھم لنگر کھانے اور کھلانے میں مصروف ہیں۔شہدائے کربلا کی یاد منانے میں مصروف ھیں۔لیکن مقصد کربلا کو بھولے بیھٹے ہیں۔واقعات شہادت یاد ہیں لیکن مقصد شہادت یاد نہیں۔واقعات شہادت سن کر روتے ھیں لیکن غیرت ایمانی نہیں بیدار ھوتی۔اور بیت المقدس کے اردگرد لڑنے والوں کی مدد اور خود جاکر لڑنے کی جرات نیں پیدا ھوتی۔تو پھر ھمیں جان لینا چاھے کہ ھم قافلہ حسینی میں نہیں ھیں بلکہ بزدل کوفیوں میں شامل ہیں۔حسینی قافلہ میں شامل ھونے کے لیے تو کسی سازوسامان کی ضرورت نہیں۔بس قوت ایمانی چاھے۔جزبہ شہادت چاھے۔اللہ تعالیٰ اور اسکے پیارے حبیبﷺکی اطاعت ومحبت چاھے۔لیکن یہ سب کچھ کیسے اور کیوں پیدا ھوگا۔یہ اس وقت تک پیدا نہیں ھوسکتا جب تک ھم بزدل نااہل۔کرپٹ جکمرانوں اور سیاستدانوں سے جان نہیں چھیڑا لیتے۔کیوں کہ یہ یزیدی سوچ کے حامل حکمران جب تک ہیں۔جہاد کا علم بلند نہیں ھوسکتا