نزع کی تکلیف مؤمن کے لیے رفعِ درجات، کفارۂ ذنوب اور اللہ کے قرب کا باعث ہوتی ہے
پیر 10 اگست 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن مجید، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مرنے سے پہلے لمبی بیماری اور نزع کی تکلیف مؤمن کے لیے رفعِ درجات، کفارۂ ذنوب (گناہوں کی معافی) اور اللہ کے قرب کا باعث ہوتی ہے۔
۱.بیماری اور تکلیف: گناہوں کی معافی کا ذريعہ
احادیثِ مبارکہ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ مسلمان کو پہنچنے والی ہر تکلیف، چاہے وہ لمبی بیماری ہو یا کوئی عام پریشانی، اس کے گناہوں کو دھو دیتی ہے۔
* گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے درخت کے پتے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
> “جس مسلمان کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے—چاہے وہ بیماری ہو یا کوئی اور چیز—اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو جھاڑتا ہے۔”
> (صحیح بخاری: 5647، صحیح مسلم: 2571)
>
* کانٹا چبھنے پر بھی گناہ معاف:
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> “مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، فکر، غم، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔”
> (صحیح بخاری: 5641)
>
لہٰذا لمبی بیماری درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو دنیا ہی میں پاک کر کے آخرت کے عذاب سے بچانے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔
۲. جان کنی (نزع) کی سختی گنہگار ہونے کی دلیل نہیں
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس کی روح آسانی سے نکلے وہی نیک ہے اور جس کو سکراتِ موت میں سختی ہو وہ گنہگار ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے، کیونکہ کائنات کی سب سے بہترین اور پاکیزہ ترین ہستی، یعنی نبی کریم ﷺ کو بھی موت کے وقت شدید تکلیف اور سکرات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
* نبی کریم ﷺ کی سکراتِ موت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت آپ کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں پانی تھا۔ آپ ﷺ اپنے ہاتھ پانی میں بھگو کر اپنے چہرۂ مبارک پر ملتے تھے اور فرماتے تھے:
> “لا إله إلا الله، إن للموت لسكرات”
> (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک موت کے لیے سختیاں ہوتی ہیں۔)
> (صحیح بخاری: 6493)
>
* سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم و مشاہدہ:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
> “رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت کی تکلیف اور سختی دیکھنے کے بعد، میں کسی کی بھی آسان موت پر رشک نہیں کرتی (اور نہ ہی کسی کی شدید موت کو برائی سمجھتی ہوں)۔”
> (سنن ترمذی: 978)
>
اگر موت کی سختی گنہگار ہونے کی نشانی ہوتی تو اللہ کے حبیب ﷺ کو یہ تکلیف کبھی نہ پہنچتی۔ اس سے ثابت ہوا کہ سکرات کی سختی گناہگار ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ مؤمن کے آخری درجات کی بلندی کا باعث ہوتی ہے۔
۳. انبیاء اور صالحین پر آزمائشوں کی شدت
حدِ درجے کے نیک لوگوں پر تکالیف زیادہ آتی ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے:
* حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ شدید آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
> “انبیاء علیہ السلام کی، پھر جو ان کے بعد سب سے افضل ہیں، پھر جو ان کے بعد افضل ہیں۔ انسان کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے…”
> (سنن ترمذی: 2398)
>
معلوم ہوا کہ جتنی تکلیف اور لمبی بیماری انسان پر آتی ہے، اگر وہ اس پر صبر کرے تو وہ اس کے اعلیٰ مقام کی علامت ہے۔
۴. آثارِ صحابہ اور اسلاف کا موقف
صحابہ کرام اور تابعین نزع کی سختی اور لمبی بیماری کو اللہ کی رحمت اور گناہوں کی پاکی مانتے تھے:
* حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ:
وہ نبی کریم ﷺ کی عیادت کے لیے آئے جب آپ ﷺ کو شدید بخار تھا۔ انہوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! آپ کو تو بہت شدید بخار ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “ہاں، مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔” ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “کیا یہ اس لیے ہے کہ آپ کے لیے دگنا اجر ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “ہاں، ایسا ہی ہے۔” (صحیح بخاری)
* سلف صالحین کا نظریہ:
اسلاف فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات بندے کا جنت میں ایک ایسا بلند مقام مقرر ہوتا ہے جہاں تک وہ اپنے عملوں کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا، تو اللہ تعالیٰ اسے جسمانی تکلیف، لمبی بیماری یا سکرات کی سختی میں مبتلا کر کے اس مقامِ عالی تک پہنچا دیتا ہے۔
خلاصہ اور حتمی بات
* لمبی بیماری: مؤمن کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہے، جس سے اس کے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں اور وہ دنیا سے بالکل پاک ہو کر جاتا ہے۔
* جان کنی کی سختی: کسی صورت گنہگار ہونے کی علامت نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی سکراتِ موت کا عمل اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ یہ مؤمن کے درجات کی بلندی کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔
* بدگمانی سے بچنا: کسی شخص کو کیسی ہی لمبی بیماری ہو یا سکرات میں شدید تکلیف ہو، اس کے بارے میں گنہگار ہونے کا خیال لانا گناہ اور بدگمانی ہے
الدعاء:
اللہ تعالیٰ ہم سب کو خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے، بیماروں کو شفا اور صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور آخرت میں درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333