سکھر، روہڑی میں گھر پر مبینہ مسلح حملہ، اہلِ خانہ کا احتجاج؛ پولیس پر ملزمان کو رشوت کے عوض چھوڑنے کا الزام
سکھر، روہڑی میں گھر پر مبینہ مسلح حملہ، اہلِ خانہ کا احتجاج؛ پولیس پر ملزمان کو رشوت کے عوض چھوڑنے کا الزام
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی بیورو چیف دعا ان لاین نیوز)روہڑی میں گھر پر مبینہ مسلح حملے، اہلِ خانہ کو یرغمال بنا کر تشدد اور لوٹ مار کے واقعے کے خلاف متاثرہ خاندان نے خواتین اور بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پر راحب شیخ نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بیٹی کا رشتہ نہ دینے کی رنجش پر گزشتہ رات برکت شیخ، امتیاز شیخ اور دیگر افراد مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ان کے گھر میں داخل ہوئے۔راحب شیخ کے مطابق مبینہ مسلح افراد نے گھر میں موجود خواتین اور مردوں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گھر سے قیمتی سامان اور دیگر اشیاء لوٹ لیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کرنے پر ملزمان نے مبینہ طور پر براہِ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گولیاں گھر کے دروازے پر لگیں۔احتجاج کرنے والے اہلِ خانہ نے بتایا کہ فائرنگ کے نشانات اور گولیوں کے سوراخ مبینہ طور پر تاحال گھر کے دروازے پر موجود ہیں، جو واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور مبینہ طور پر چند افراد کو حراست میں بھی لیا گیا، تاہم متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ بعد ازاں پولیس نے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض گرفتار افراد کو رہا کردیا۔راحب شیخ نے پولیس کے اس مبینہ رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی جانب سے دوبارہ حملے کا خدشہ ہے اور انہیں اپنے اور اہلِ خانہ کے جانی و مالی تحفظ کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہیں۔متاثرہ خاندان نے ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، گھر پر مبینہ حملے، فائرنگ، تشدد اور لوٹ مار میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے پولیس کے خلاف عائد کیے گئے مبینہ رشوت کے الزام کی بھی شفاف تحقیقات کرانے اور خاندان کو مکمل جانی و مالی تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں انصاف اور تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ دوسری جانب واقعے کے حوالے سے پولیس کا مؤقف سامنے نہیں آسکا۔