ہمارے ہاں تبلیغ فرقوں کی ہو رہی ہے اسلام کی نہیں۔
کیوں؟
جمعرات 06 اگست 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اسلام نے مسلمانوں کو اتحاد، اتفاق اور ایک معبود، ایک رسول اور ایک کتاب کے تحت زندگی گزارنے کا درس دیا ہے۔ قرآنی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ دین میں فرقہ واریت، گروہ بندی اور معاشی مفادات کی خاطر دین کی تشریح کرنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اسی طرح سورۃ الانعام میں ان لوگوں سے برأت کا اظہار کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔
عوام نے فرقوں ہی کو دین سمجھ لیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرقہ پرستی حاوی ہو گئی اور حقیقی دین پسِ پشت چلا گیا۔
علماء کرام کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ العلماء ورثة الأنبياء یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء کی وراثت مال و دولت نہیں بلکہ علم، اخلاص اور حق کی دعوت ہوتی ہے۔ لیکن جب دینی ادارے اور علماء معاشی ضروریات، چندہ جات اور عوام کے مخصوص طبقوں پر مکمل انحصار کرنے لگتے ہیں، تو بسا اوقات ان کے لیے حق بات کھل کر بیان کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ قرآنی آیات میں بار بار تنبیہ کی گئی ہے کہ میری آیات کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو۔ جب کسی ادارے یا عالم کی آمدنی کا انحصار کسی مخصوص فکر کے چندہ دہندگان پر ہوتا ہے، تو وہ ان کے اطمینان کے لیے فرقہ وارانہ بحثوں اور تعصبات کو زندہ رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے دین کا حقیقی، جامع اور روادارانہ چہرہ چھپ جاتا ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسی المئے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا تھا:
گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے گی صدا لا الہ الا اللہ
علامہ اقبال کے اس شعر کا مفہوم بھی یہی ہے کہ جب دین کی روح کو مصلحتوں اور فکری تعصبات کی نذر کر دیا جائے تو توحید کا خالص اور عالمگیر پیغام دب کر رہ جاتا ہے۔
آثار صحابہ اور تاریخ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بیت المال سے علماء، معلمین، ائمہ اور مؤذنین کے باقاعدہ وظائف مقرر کیے گئے تھے تاکہ وہ معاشرتی اور معاشی دباؤ سے آزاد ہو کر بلا خوفِ لومةِ لائم خالص دین، قرآن اور سنّت کی تعلیم دے سکیں۔ جب اہل علم کی کفالت کی ذمہ داری ریاست سنبھالتی ہے، تو وہ عوامی چندوں، شخصیات کی خوشنودی اور فرقہ وارانہ ترغیبات سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
اگر موجودہ دور میں حکومت وقت تمام دینی مدارس، ائمہ اور علماء کی مالی اعانت اور ان کے بنیادی و معاشی حقوق کی ضمانت اپنے ذمے لے لے اور ایک یکساں، غیر جانبدار تعلیمی و دینی نظام قائم کرے، تو علماء کو معاشی بقا کے لیے چندوں اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر محافل و حلقے قائم کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ اس سے حقائق کھل کر سامنے آئیں گے، دین کی اصل روح اجاگر ہوگی اور باہمی نفرتوں پر مبنی فرقہ واریت خود بخود دم توڑ دے گی۔
سچائی کی ترویج اور اتحاد امت کا یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب علم کو مالی مفادات اور فرقہ وارانہ قید سے آزاد کر کے قرآن، سنت اور اسلاف کے منہج پر یکجا کیا جائے۔
وما علینا الا البلاغ المبین۔
الدعاء
یا اللہ! ہمیں دینِ حق کی سچی طلب و جستجو عطا فرما، اسے سمجھنے اور سنبھالنے کی توفیق دے، اور اس پر من و عن عمل کرنے والا بنا۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell 00923008604333