11

اسلامی سزائیں ملک میں امن و امان کی ربانی گارنٹی ہفتہ 08 اگست 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اسلامی سزائیں ملک میں امن و امان کی ربانی گارنٹی

ہفتہ 08 اگست 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اسلامی سزائیں اور ملک میں امن و امان کا قیام
اسلام کا نظامِ عدل و انصاف انسان کی جان، مال، عزت اور آبرو کے تحفظ کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی معاشرے یا ملک میں پائیدار امن و امان کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب وہاں کے قوانین اور سزائیں اتنی بااثر ہوں کہ جرم کا ارتکاب کرنے سے پہلے انسان کا کانپ جانا طے ہو۔ اسلامی احکام اور حدود و قصاص کا بنیادی مقصد معاشرے سے ظلم کا خاتمہ اور امن کو یقینی بنانا ہے۔

۱.قرآنی دلائل: قصاص میں زندگی ہے
قرآنِ مجید نے اسلامی سزاؤں بالخصوص قصاص کے فلسفے کو ایک مختصر مگر جامع جملے میں بیان فرمایا ہے:

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(سورۃ البقرۃ: ۱۷۹)
ترجمہ: اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم (قتل و غارت سے) بچو۔

یہ آیۂ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ ظاہری طور پر قصاص ایک قاتل کی جان لینے کا نام ہے، لیکن حقیقت میں یہ پورے معاشرے کو قتلِ عام سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ جب ایک قاتل کو علم ہوگا کہ اس کا انجام بھی موت ہے، تو وہ کسی کی جان لینے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اس طرح سیکڑوں بے گناہ جانیں بچ جاتی ہیں، یہی اصل زندگی ہے۔
اسی طرح چوری، ڈکیتی اور فساد فی الارض پر سخت سزاؤں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا
(سورۃ المائدۃ: ۳۳)
ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا سولی دی جائے۔

۲.احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حدود کا نفاذ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدود کے نفاذ کو معاشرے کے لیے بارشِ رحمت سے بھی زیادہ بابرکت قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے امن اور عدل قائم ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلاَدِ اللَّهِ (سنن ابن ماجہ)
ترجمہ: اللہ کی زمین پر حدود میں سے کسی ایک حد کا قائم ہونا، اللہ کے بندوں کے لیے چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معزز گھرانے کی خاتون کا چوری کا مقدمہ لایا گیا اور ان کی سفارش کی کوشش کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل کا وہ معیار قائم فرمایا جو قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہے:
خدا کی قسم! اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ (صحیح بخاری)
اس فرمان سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی سزائیں بلا امتیازِ امیر و غریب نافذ کی جاتی ہیں، اور یہی عدمِ امتیاز کسی ملک میں امن کی اصل ضمانت ہوتا ہے۔

۳.آثارِ صحابہ اور خلفائے راشدین کا طرزِ عمل
خلفائے راشدین کے دور میں اسلامی سزاؤں اور حدود کا نفاذ ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے پورے عرب اور ارد گرد کے علاقوں کو امن کا گہوارہ بنا دیا تھا۔

الف) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ: آپ نے اپنے دورِ خلافت میں باغیوں، زکوۃ کے منکرین اور ڈاکوؤں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدام فرمایا اور واضح کیا کہ شریعت کے احکام میں معمولی لچک بھی امن کو تباہ کر سکتی ہے۔

ب) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: آپ کے دور میں انصاف اور حدود کے نفاذ کی حالت یہ تھی کہ ایک عام شہری بھی بادشاہ یا خلیفہ سے سوال کر سکتا تھا۔ حضرت عمر فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ حکومت اور قانون کے ذریعے ان چیزوں کو روکتا ہے جنہیں قرآن کے ذریعے لوگ نہیں چھوڑتے۔

ج) حضرت علی رضی اللہ عنہ: آپ نے ہمیشہ حد کے نفاذ میں شرعی ضوابط اور عدل کی پاسداری فرمائی اور واضح کیا کہ اللہ کی حدود کا نفاذ ہی زمین پر امن کا سبب بنتا ہے۔
۴.اسلامی سزائیں عینِ انصاف ہیں، ظالمانہ نہیں
مغرب یا جدید سوچ رکھنے والے بعض افراد اسلامی سزاؤں (مثلاً ہاتھ کاٹنا، سنگسار کرنا یا قصاص) کو سخت یا ظالمانہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ سوچ محض مغالطے پر مبنی ہے۔

الف) مجرم کی جگہ مظلوم پر رحم: سچائی یہ ہے کہ ایک ظالم مجرم پر رحم کرنا دراصل پوری مظلوم انسانیت پر ظلم ہے۔

ب) عبرت کا ذریعہ: اسلام کی سزاؤں کا مقصد صرف مجرم کو بدلہ دینا نہیں بلکہ معاشرے کے دیگر افراد کے لیے عبرت قائم کرنا ہے تاکہ کوئی دوسرا اس جرم کے قریب بھی نہ جائے۔

ج) توازن: اسلام جہاں سزا کا حکم دیتا ہے، وہاں ثبوت کے معیار کو انتہائی سخت بناتا ہے تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے۔

حاصلِ کلام:
اسلامی سزاؤں کا نفاذ محض ایک قانون نہیں بلکہ ایک مکمل الٰہی فارمولا ہے جو ملک میں امن و امان کی سو فیصد ضمانت دیتا ہے۔ جب معاشرے میں مجرم کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی بدسلوکی پر اسے لازماً سخت سزا ملے گی، تو جرم خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن کا یہ اعلامیہ کہ “قصاص میں زندگی ہے” ایک حقیقت ہے؛ اسلامی سزاؤں پر عمل پیرا ہو کر ہی کسی ملک کو امن و سکون کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔

ذاتی مشاہدہ:
میرے ذاتی مشاہدے سے یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی سزاؤں کے نفاذ کیوجہ سے عالمی طور پر مثالی امن ہے اور یہ قوانین سب کے لئے برابر ہیں۔
میرا یہ ماننا ہے کہ اگر اسلامی قوانین کے نفاذ کی وجہ سے اکا دکا غلط سزا بھی ہو جائے تب بھی اس کے دور رس نتائج نکلتے ہیں مثال اگر ایک شخص اپنی آنکھوں سے کسی چور کے ہا گٹتے زندگی میں ایک بار فقط دیکھ لے تو میرا یہ دعویٰ ہے کہ زندگی بھر وہ ش وہ جرم قطعا” نہیں کرے گا۔
جبکہ اللہ تعالی کا
حکم بھی یہی ہے کہ جب حد مارنے لگو تو لوگوں کی ایک جماعت اکٹھی کر لیا کرو تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

وما علینا الا البلاغ المبین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں